اردو | हिन्दी | English
173 Views
Politics

ڈگری کے ڈنک سے پریشان ہیں وزیر اعظم مودی

Narendra-Modi
Written by Taasir Newspaper

یوسف انصاری
وزیر اعظم نریندر مودی کی ڈگریاں سوالات کے گھیرے میں ہیں. ڈگریوں پر تنازعہ قومی بحث کا مسئلہ بن چکا ہے. معاملہ انتہائی سنگین ہو گیا ہے. اتنا سنگین ہے کہ وزیر اعظم کے دفاع میں بی جے پی صدر امت شاہ اور ملک کے وزیر خزانہ ارون جیٹلی کو اترنا پڑا. دونوں نے باقاعدہ پریس کانفرنس کرکے وزیر اعظم نریندر مودی کی ڈگریاں عوام کے سامنے پیش کی. لیکن اس کے فورا بعد ہی عام آدمی کے ترجمان اشوتوش نے پریس کانفرنس کر وزیر اعظم کی ڈگریوں کو فرضی قرار دے کر تنازعہ کی آگ میں گھی ڈال دیا.
وزیر اعظم کی ڈگریوں پر بی جے پی اور آپ کے متضاد دعووں نے بھرم کی صورت حال پیدا کر دی ہے. پتہ نہیں چل پا رہا. کس کادعوی سچا ہے. بی جے پی کا یا آپ کا. ملک وزیر اعظم کی تعلیمی قابلیت کو لے کر اگھیرے میں ہے. سوال وزیر اعظم کی ڈگری سے جڑا ہے . لہذا جواب بھی انہیں خود ہی دینا چاہئے. یا پھر ان کے دفتر کو دینا چاہئے. ڈگری پر امت شاہ اور ارون جیٹلی کا مشترکہ پریس کانفرنس کرنا سمجھ سے باہر ہے. نہ تو یہ معاملہ پارٹی سے منسلک ہے اور نہ ہی وزارت دفاع کی طرف سے. وزیر اعظم. Headquarters کی ویب ڈگریاں عام کی جا سکتی تھی. بہت سے لوگ حق اطلاعات تحت معلومات مانگ کر تھک گئے. لیکن معلومات نہیں ملی. اگر ڈگریوں میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، وہ ایک دم سولہ آنے سچی ہیں، 24 کیرٹ پاک ہیں تو پھر انہیں چھپایا کیوں گیا. ڈگریاں سامنے لانے میں اتنی دیر کیوں کی گئی۔
دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کی خط کے بعد آنا فانا میں مرکزی انفارمیشن کمشنر نے دہلی اور گجرات یونیورسٹی کو وزیر اعظم کی ڈگریاں عام کرنے کا حکم. ان کے اس فیصلے پر بھی سوال اٹھے. انہوں نے وزیر اعظم کے دفتر کو کیوں نہیں کہا کہ وہ ڈگریوں کی معلومات اطلاع مانگنے والوں دے. یہ تمام سوال بے وجہ نہیں اٹھ رہے ہیں. ان کے جواب ملنے چاہئیں. مودی جب گجرات کے وزیر اعلی تھے تب آر ٹی آئی کارکن روشن شاہ نے ان کی تعلیمی قابلیت کو لے کر کئی بار آر ٹی آئی کے تحت معلومات مانگی. انہیں معلومات نہیں دی گئی. مرکزی انفارمیشن کمشنر کے حکم کے بعد گجرات یونیورسٹی یہ معلومات نہیں دے پائی کہ ایم اے میں داخلہ کے وقت مودی نے گریجویشن کی ڈگری کون سی یونیورسٹی کی لگائی تھی. کانگریس کے ترجمان
شکتی سنگھ گوہل نے کچھ وقت پہلے مودی کی پیدائش کی تاریخ کو لے کر سوال اٹھایا تھا. الیکشن کمیشن کو دیئے حلف نامے میں مودی نے اپنے جنم کی تاریخیں 17 ستمبر 1950 بتائی ہے. جبکہ گجرات کے وڈنگر کے مسٹر بی این اسکول سے جاری ایس ایس سی کے پرمان پتر کے مطابق ان کی پیدائش کی تاریخ 29 اگست 1949 ہے. ان دونوں میں سے کون سی تاریخ صحیح ہے. یہ صرف مودی ہی بتا سکتے ہیں.
بی جے پی کاریالیہ میں بانٹی گئی وزیر اعظم کی ڈگریوں سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی ایم اے کی ڈگری کی اوریجنل نہیں ہے. اس پر ڈپلیکیٹ کاپی لکھا ہے. ڈپلیکیٹ کاپی اورجنل کاپی کھو جانے کے بعد لی جاتی ہے. اس کے لئے کافی مشقت کرنی پڑتی ہے. دو قومی اخبارو میں اشتہارات دینا پڑتا ہے. حلف نامہ دینا پڑتا ہے. وزیر اعظم مودی کے 2104 کے لوک سبھا انتخابات کے میں دی حلف نامے کے مطابق انہوں نے میٹرک یعنی 12 ویں 1967 میں پاس کیا. 1978 میں دہلی یونیورسٹی سے بی اے اور 1983 میں گجرات یونیورسٹی سے ایم اے کیا. انہوں نے ہائی اسکول کب اور کہاں سے کیا. اس پر ابھی بھی سسپیس ہے. حلف نامے میں اس کا ذکر نہیں ہے. تعلیمی قابلیت میں ہائی اسکول ہی پہلا پڑاؤ سمجھا جاتا ہے. نام
اور پیدائش کی تاریخ کا بنیادی سرٹیفکیٹس یہی سمجھا جاتا ہے. مودی کی ڈگری پر سوال اٹھانے والوں کا ابھی اس طرف دھیان نہیں گیا ہے.
کبھی صحافی رہے اور اب کانگریس لیڈر راجیو شکلا کو قریب سولہ سال پہلے دیے ایک انٹرویو کے 28 سیکیڈ کے ایک حصے میں مودی یہ کہتے ہوئے دکھا ئی گیا ہے کہ وہ ہائی اسکول پاس ہیں. یہ ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہی ہے. اسی ویڈیو کو کانگریس جنرل سکریٹری نے بھی ٹویٹ کرکے مودی سے پوچھا ہے، ‘وزیر اعظم جی کیا یہ آپ ہیں جو یہ مان رہے ہیں کہ آپ کو صرف ہائی اسکول پاس ہیں؟ یا پھر یہ ویڈیو جعلی ہے. ہمیں اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ ہمارے وزیر اعظم ہائی اسکول پاس ہیں لیکن اس بات سے پڑتا ہے اگر آپ اس کو لے کر ایماندار نہیں ہیں. ‘ایک ٹی وی چینل نے وائرل ہو رہے اس ویڈیو کی حقیقت سامنے رکھی. ویڈیو کے اگلے حصے میں مودی نے اپنی تعلیمی قابلیت کے بارے میں تفصیل سے بتایاہے.
راجیو شکلا کا سوال۔ صرف اسکول تک پڑھے، پرائمری اسکول تک؟
مودی ۔ ہائی اسکول تک. … بعد میں ہمارے یونین کے افسر تھے ان کے کہنے پر ایکسٹرنل ایگزام دینا شروع کیا. دہلی یونیورسٹی سے ایکسٹرنل ایگزام دے کر بی اے کر لیا. پھر بھی ان کا زور رہا تو میں نے ایم اے کر لیا. میں نے کبھی کالج کا دروازہ دیکھا نہیں لیکن یونیورسٹی میں پہلا آگیا. لیکن وہ تو شاید یونین کی تدفین کہو یا کچھ پریرتا کہو اپنے افسروں کی جس کی وجہ سے کچھ نہ کچھ اپنا ترقی کرنے میں لگے رہے. ‘
یہ ویڈیو دو سال سے سوشل میڈیا پر ہے. لیکن اس پر کبھی بی جے پی لیڈر نے سوال کھڑا نہیں کیا. وزیر اعظم بھی نہیں چپ رہے. اس خاموشی پر سوال ہے. وزیر اعظم کتنا پڑھے ہیں. اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا. اسکول کالج سے زیادہ افراد زندگی کے تجربوں سے سیکھتا ہے. سابق وزیر اعظم گیانی ذیل سنگھ آٹھویں پاس تھے. وزیر اعظم کی تعلیمی قابلیت پر سوال اٹھنا شرمناک ہے. نہیں اٹھنا چاہئے. لیکن اگر سوال اٹھتا ہے تو فورا جواب دے کر معاملہ صاف کرنا چاہئے. لیکن ایسا نہیں ہوا. دنیا میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو پڑھ نہیں پائے لیکن انہوں نے عوامی علاقوں میں کامیابی کا پرچم بلند کیا. اگر وزیر اعظم ایم اے پاس ہیں. تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے گجرات کا وزیر اعلی رہتے اپنی ڈگریاں عام کیوں نہیں کی. وزیر اعظم بننے کے بعد بھی انہیں عوام کے سامنے کیوں نہیں لائے. دو ہفتوں سے ان کی ڈگری پر تنازعہ چل رہ ہے. وزیر اعظم کیوں خاموش ہیں. انہیں سامنے آنا چاہئے. دہلی اور گجرات یونیورسٹی ڈگریوں کی تصدیق کرکے تنازعہ ختم کیوں نہیں کرتی. یہ تمام سوال جواب مانگ رہے ہیں.
اگر عام آدمی پارٹی کو لگتا ہے کہ وزیر اعظم کی ڈگری فرضی ہیں تو وہ ان کے خلاف الیکشن کمیشن میں جھوٹا حلف نامہ داخل کرنے کی شکایت کرے. اگر وزیر اعظم کا حلف نامہ جھوٹا ثابت ہو جاتا ہے تو ان کی لوک سبھا کی رکنیت منسوخ ہو جائے گی. اس سے آپ کو سیاسی برتری ملے گی. بی جے پی کے جو لیڈر گزشتہ سال آپ لیڈر اور دہلی کے سابق وزیر قانون جتندر سنگھ تومر کی ڈگریوں کی جانچ کے لئے زمین آسمان ایک کئے ہوئے تھے وہ آج وزیر اعظم کی ڈگریوں کی حقانیت کا دعوی بغیر انکوائری کس بنیاد پر کر رہے ہیں. جتدر سنگھ تومر خلاف فرضی ڈگری کے معاملے میں ہی قانونی کارروائی ہوئی. ان کا وزیر کے عہدے گیا. گرفتار کرکے جیل بھیجے گئے. اگر جتیدیر سنگھ تومر کی ڈگریوں کی جانچ ہو سکتی ہے تو پھر وزیر اعظم کی ڈگریوں کی جانچ کیوں نہیں ہو سکتی. قانون سب سے اوپر ہے. کوئی قانون سے اوپر نہیں. اگر وزیر اعظم مودی کی ڈگریاں سچی ہیں تو پھر انہیں خود انکوائری کا حکم دے کر معاملہ ٹھنڈا کرنا چاہئے. ان کا یہ قدم مخالفین کے منہ پر طمانچہ ہوگا. ڈگری کے ڈنک بہت زہریلا ہے. سوال یہ ہے کہ کیا وزیر اعظم اس ڈنک سے بچ پائیں گے.

About the author

Taasir Newspaper