اردو | हिन्दी | English
1483 Views
Health

گرمی میں پیدا ہونے والی بیماریاں اور ان کا علاج

Health
Written by Taasir Newspaper

جس کی تاثیر ٹھنڈی ہے۔ ہر خاص و عام کو پسند ہوتی ہے۔ گرمیوں کا خاص تحفہ ہے۔ پیشاب کی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لئے اکسیر ہے۔
کدو: آنحضورؐ کی مرغوب ترین سبزی ہے۔ کدو کا جوس وزن کم کرنے میں اکسیر ہے۔ کدو کو سلاد کے طور پر بھی استعمال کرنے سے وزن میں خاطر خواہ کمی ہوتی ہے پروسٹیٹ پرابلم میں اس کا استعمال انتہائی مفید ہے۔ معدے کی تیزابیت کو کم کرنے میں اس کا جواب نہیں۔ گرمیوں میں کدو کا رائتہ کدو کی بھجیا اور گوشت کے ساتھ پکا ہواکدو لاجواب ہے۔
پھلیاں: پھلیاں آئرن ‘ کاپر‘ میگنیشم‘ زنک اور سوڈیم کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ان میں فائبر وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے جو ذیابیطس کے مریضوں کے لئے اکسیر ہے۔ اور کولیسٹرول کو کم کرنے میں انتہائی مفید ہے۔
بینگن: بینگن تھالی کا ہویا تھال کا مجھے بہت پسند ہے۔ طالبعلمی کے زمانے میں مَیں نے بھگارے بینگن بنائے تھے اور Best Cook کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا تھا۔ بیگن سلفر کلْورین، آئرن، میگنیشم، زنک اور سوڈیم کا بہترین ذریعہ ہے۔ ان میں فائبر وافر مقدار میں موجود ہے۔ جو قبض کو دور کرتا گیس اور بدہضمی کے لئے مفید ہے۔ بینگن کا رائتہ بینگن کا بھرتہ‘ آلْو بینگن اور بھگارے بینگن کھانے میں لاجواب ہیں۔
لْوکی‘ ٹینڈا: غذائیت سے بھرپور ہیں۔ الکلائن(کھاری پن) اثر رکھنے کے باعث اس کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے۔ سبز مرچوں کے ساتھ بنائیں اور ٹینڈا مسالحہ تو زبردست سبزی ہے۔
پودینہ: اس میں آئرن‘ فاسفورس‘ سلفر اور کلورین پائی جاتی ہے۔ اس کی تاثیر ٹھنڈی ہے۔ تازہ پودینہ انزائمر سے بھرپور ہے۔ اس لئے ہاضمے کے لئے مفید ہے۔ پودینے کی چٹنی پودینے کا قہوہ ‘ پودینے کا جوس پودینے کا رائتہ سب بہترین ہیں۔ پودینہ خواتین میں ایام کی بے قاعدگیاں اور جگر کے لئے انتہائی مفید ہے۔ کھیرا: غذائیت سے بھرپور ہے‘ قدرتی طور پر پیشاب آور خاصیت رکھتا ہے اس لئے Uric Acid کے مریضوں کے لئے انتہائی مفید ہے۔ اس کی تاثیر کو معتدل کرنے کے لئے طب نبوی میں اس کو کھجور کے ساتھ کھانے کی تاکید کی گئی ہے۔ کھجور نہ ہو تو منقیٰ اور شہد کے ساتھ بھی کھایا جا سکتا ہے۔ کھیرے کا سلاد کالے نمک کے ساتھ استعمال کرنے سے کھانا جلد ہضم ہو جاتا ہے۔ کھیرے کا جوس اور دودھ برابر مقدار میں لے کر چہرے‘ گردن اور ہاتھوں پر لگائیں یہ بہترین Bleaching ایجنٹ بھی ہے۔ کھیرے کے قتلے آنکھوں پر رکھنے سے بہترین نتائج حاصل ہوتے ہیں۔
سبزیاں حیاتین اور نمکیات کا بہترین ذریعہ ہیں۔ سبز‘ پیلی‘ اورنج اور سرخ سبزیوں میں کیلشیم‘ میگنیشم‘ پوٹاشیم‘ آئرن‘ بیٹا‘ کیروٹین‘ حیاتین بی کمپلیکس‘ حیاتین سی اور حیاتین کے وافر مقدار میں پائی جاتی ہے۔ سبزیوں میںAnti oxidants پائے جاتے ہیں جو ہمارے جسم سے فاسد مادوں کے اخراج میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ کینسر سے بچاؤ کی ویکسین فراہم کرتے ہیں۔ سبزیوں میں پانی اور فائبر بھی وافر مقدار میں پایاجاتا ہے۔ جو قبض کشا ہے اور آنتوں اور معدے کے کینسر سے بچاتا ہے۔
گرمی اور لْو سے بچنے کی احتیاطی تدابیر
موسم گرما کے آغاز میں درجہ حرارت بڑھ جانے سے انسانی صحت کے ساتھ ساتھ پرندے‘ جانور‘ نباتات ہر چیز متاثر ہوتی ہے۔ درجہ حرارت کی زیادتی کے باعث پسینے کا اخراج زیادہ ہوتا ہے۔ جس کے باعث نمکیات اور پانی کی کمی ہو جاتی ہے۔ اور لْو لگنے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔
اپنے روزمرہ کے معمولات میں ردوبدل کر کے ہم گرمیوں میں لْو لگنے اور دیگر بیماریوں سے بچاؤ کو ممکن بنا سکتے ہیں۔
گرم موسم میں پانی کا استعمال بکثرت کریں۔ کم از کم 12۔14گلاس پانی استعمال کریں۔جب بھی گھر سے باہر نکلیں سر ڈھانپ کر رکھیں۔ پیدل چلتے وقت چھتری کا استعمال کریں۔گہرے رنگ کی بجائے ہلکے رنگ کے کپڑے منتخب کریں۔کھانوں میں تلی ہوئی‘ مرغن ‘ بازاری یا باسی اشیاء سے پرہیز کریں۔کدوکا رائتہ کھیرے کا رائتہ یا پودینے کا رائتہ صحت بخش ہے۔ پسینہ زیادہ آنے کی صورت میں ORSکا استعمال زیادہ کریں۔جو کے ستو شکر کے ساتھ استعمال کریں۔
روزانہ غسل کریں۔ ممکن ہو تو دن میں دو بار غسل کریں بازوؤں کے نیچے Deodorant استعمال کریں یا پھٹکری لگائیں تاکہ ناپسندیدہ بو سے اپنے آپ کو اور اپنے ساتھ بیٹھنے والْوں کو بچا سکیں۔ پیاز کا استعمال ضرور کریں۔
سبز مرچ ضرور استعمال کریں‘ یہ ہاضمے کو بہتر کرتی ہے اور ہیضے سے بچاتی ہے۔
دودھ دہی کا استعمال زیادہ کریں۔ اپنی جلد کو دھوپ سے بچائیں۔
الٹراوائیلٹ شعاعیں جلد کے لئے انتہائی مضر ہیں ان کے باعث Skin Cancer تک ہو سکتا ہے گرمیوں میں اپنی جلد کو دھوپ سے بچانے کے لئے Sun Block استعمال کریں۔ عرق گلاب بہترین Skin Cover ہے چہرے پر عرق گلاب کا لیپ کیجئے۔ Alovera قدرتی Moisturizeہے اور قدرتی Sun Block ہے اس کا گودا چہرے پر لگائیں۔ گرمی کا استقبال کھلے دل سے کیجئے اس سے بچنے کے طریقوں پر عمل کیجئے۔ ہائے گرمی‘ اْف گرمی کی رٹ لگانے سے گرمی کم نہیں ہو گی بلکہ اس کا احساس بڑھ جائے گا اور گرمی میں سردی تو ہو نہیں سکتی۔ اس لئے گرمی میں گرمی کا ہونا کوئی عجوبے کی بات نہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر عمل کر کے اپنے انرجی لیول کو قائم رکھیں۔ گرم موسم تو آ کر چلے جاتے ہیں گرم مزاجی سے بچئے کیونکہ یہ آپ کو دوسروں کے لئے ناپسندیدہ بنا دیتی ہے اور تنہا کر دیتی ہے۔
موسمِ گرما کا آغاز ہوچکا ہے جبکہ گرمیاں تنہا نہیں آتیں بلکہ اپنے ساتھ کئی اقسام کی بیماریاں بھی لے کر آتی ہیں اور اکثر افراد ان بیماریوں کا شکار بن جاتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ گرمی میں پیدا ہونے والی ان بیماریوں سے بچاؤ یا ان کا علاج کوئی زیادہ مشکل نہیں ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہمیں اس حوالے سے درست معلومات حاصل ہونی چاہیے اور اسی معلومات کے حصول کے لیے ہماری ویب کی ٹیم نے معروف ہربلسٹ ڈاکٹر بلقیس ڈاکٹر شیخ سے خصوصی ملاقات کی۔ ڈاکٹر بلقیس شیخ کے مطابق چند احتیاطی تدابیر اور آسان ٹوٹکوں کی مدد سے ہم ہاآسانی موسمِ گرما کی تکلیف دہ بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ ڈاکٹر بلقیس گرمیوں کی بیماریوں249 ان سے بچاؤ اور علاج کے حوالے سے مزید کیا بتاتی ہیں؟ آئیے جانتے ہیں!
ڈاکٹر بلقیس کا کہنا تھا کہ ‘‘ گرمیاں اپنے ساتھ کئی بیماریاں لے کر آتی ہیں جیسے کہ ہیٹ اسٹروک249 کمزوری249 چکر آنا249 خارش اور دانے نکلنا وغیرہ۔ اس وقت سب سے بڑا خطرہ ہیٹ اسٹروک کا ہے اور اس بار بھی کراچی میں ہیٹ اسٹروک کا خطرہ موجود ہے‘‘۔
‘‘ سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہیٹ اسٹروک کے دوران آپ غیر ضروری طور پر گھر سے باہر بالکل نہ جائیں بالخصوص دوپہر 12 بجے سے لے کر شام 4 بجے کے دوران‘‘۔
‘‘ اگر نکلنا بھی پڑے تو اپنے ساتھ پانی کی بوتل لازمیں رکھیں کیونکہ ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کے لیے پانی ضروری ہے۔ اگر آپ شوگر کے مریض نہیں ہیں تو اپنے ساتھ نمکول رکھیں‘‘۔
ڈاکٹر بلقیس کہتی ہیں کہ ‘‘ ہر موسم کی بیماریوں سے بچاں کے لیے ا? تعالیٰ کی جانب سے اس موسم میں کچھ پھل بھی عطا کیے جاتے ہیں جیسے کہ کیری۔ کیری کا شربت نہ صرف لْو لگنے سے بچاتا ہے بلکہ لْو لگ جانے کے بعد بھی آپ کو اس سے نجات دلاتا ہے‘‘۔
‘‘ کیری کا شربت بنانے کے لیے سب سے پہلے کیری کو ملتانی مٹی سے اچھی طرح لیپ کرنے کے بعد اس حد تک گرم کریں کہ کیری کی جلد نہ پھٹے249 ملتانی مٹی صاف کر کے کیری نچوڑ لیں اور اس کے رس کو ایک گلاس ٹھنڈے پانی میں شامل کریں اور اس پانی میں ایک بڑا چمچ چینی اور ایک چٹکی لاہوری نمک شامل کریں۔ یہ شربت پینے سے آپ لْو لگنے محفوظ رہ سکتے ہیں‘‘۔
‘‘ ایک اور چیز جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں وہ ہے کہ خس کا شربت۔ خس کا شربت بہت بہترین چیز ہے اور یہ گرمی کو مارتا ہے۔ ویسے تو خس کا شربت مارکیٹ میں دستیاب ہے لیکن اگر آپ خود یہ شربت تیار کرنا چاہتے ہیں تو خس آپ کو پنساری کی دکان سے مل سکتی ہے۔ تاہم خس خریدنے کے بعد اسے دھوئیں ضرور اور اس کے بعد چھان لیں‘‘۔
‘‘ خس کا شربت بنانے کے لیے سب سے پہلے 50 گرام خس کو اچھی طرح دھولیں249 بھیگی ہوئی خشخاش دو بڑے چمچے249 تازے گلاب کی پتیاں 2 سے 3 کپ اور دھنیا کی ایک بڑی گڈی لے کر ان تمام اشیا دو لیٹر پانی ابال لیں۔ جب پانی ڈیڑھ لیٹر رہ جائے تو اس کو چھان لیں۔ پھر اس میں ایک کپ گْڑ ڈال لیں اور ٹھنڈا ہونے پر ایک چٹکی سَست لوبان شامل کرلیں۔ یہ شربت دن میں 2 سے 3 بار استعمال کرنا ہے‘‘۔
ڈاکٹر بلقیس کے مطابق ‘‘ اکثر افراد کو گرمیوں میں چکر آنے249 سر میں درد اور لْو لگنے کی شکایت عام ہوتی ہے۔ ایسے افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ صبح و شام تربوز کا شربت استعمال کریں۔ اس کے علاوہ تربوز بھی کھائیں لیکن یاد رکھیں کہ تربوز کھانے کے بعد پانی پینے سے گریز کریں‘‘۔
‘‘ تربوز کے شربت میں کالا نمک اور کالی مرچ ضرور استعمال کریں جبکہ تربوز ہمیشہ خالی پیٹ کھائیں‘‘۔
‘‘ اس کے علاوہ خربوزہ بھی کھانا چاہیے اور اس کا شربت بھی پینا چاہیے۔ خربوزہ شام 4 بجے کھائیں یعنی جس وقت آپ کا پیٹ نہ زیادہ بھرا ہوا ہو اور نہ زیادہ خالی۔ خربوزہ کا شربت جب بھی بنائیں اس میں پودینہ249 ادرک اور لہسن کا پیسٹ ضرور شامل کریں‘‘۔
‘‘ ایک بات یاد رکھیں کہ تربوز اور خربوزہ کے ساتھ کبھی بھی چاول نہ کھائیں‘‘۔
ڈاکٹر بلقیس مزید بتاتی ہیں کہ ‘‘ کچھ لوگوں کو گرمیوں میں بہت زیادہ پسینہ آتا ہے۔ ایسے افراد کو جامن اور فالسے کا استعمال زیادہ کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ بینگن کو کاٹ کر اس کو ہاتھوں پر ملنے سے بھی پسینہ کم آتا ہے جبکہ بینگن کا پانی بغلوں میں ملنے سے پسینہ اور اس کی بو کم آتی ہے‘‘۔
‘‘ پسینے کی بو وغیرہ رفع کرنے کے لیے آپ گھر پر ہی ایک اسپرے (deodorant) تیار کرسکتے ہیں۔ deodorant تیار کرنے کے لیے ناگ کیسر کا پاؤڈر249 اسطو خودوس249 دارچینی اور تیز پات دو چمچ لے کر عرقِ گلاب 2 سے 3 کپ میں بھگو دیں۔ اس کو اتنا پکائیں کہ صرف 1 کپ رہ جائے۔ اس میں 3 سے 4 کرسٹل سَست پودینہ کے ڈال دیں۔ آپ کا deodorant یا خوشبو تیار ہے‘‘۔
‘‘ لْو بلڈ پریشر کے مریضوں کو فالسے کا استعمال زیادہ کرنا چاہیے اور اگر بلڈ پریشر بہت زیادہ کم ہوجائے تو ڈھیروں نمک پانی میں شامل کر کے مریض کے پاؤں اس پانی میں ڈبو دیں۔ اس کے علاوہ مریض کی ہتھیلیوں پر بھی نمک رگڑیں۔ اس سے بھی بلڈ پریشر نارمل ہوجاتا ہے‘‘۔
ڈاکٹر بلقیس کا کہنا تھا کہ ‘‘ اکثر افراد کو گرمیوں میں زیادہ الٹیاں آتی ہیں۔ ایسے افراد کو کیلا الٹا چھیل کر آدھا کھلائیں۔ اس سے الٹیاں آنا بند ہو جائیں گی‘‘۔
‘‘ اس کے علاوہ انڈے کی سفیدی249 ایک چاول کے دانے کے برابر میٹھا سوڈا249 ایک چاول کے دانے کے برابر سفید زیرے کا پاؤڈر اور ایک چمچ چینی اچھی طرح اس میں گھول کر یہ جھاگ مریض کو 3 سے 4 مرتبہ پلانے سے بھی الٹیاں رک جاتی ہیں‘‘۔ روزہ‘ تھکن اور بے خوابی کا قدرتی علاج
روزہ داروں کو اپنی مالی حیثیت کے مطابق دودھ‘ دہی‘ لسی کا استعمال ضرور کرنا چاہیے۔ میرے تجربہ میں روزہ کسی پھل یا دودھ دہی کے ساتھ کھول کرمغرب کی نماز کے بعد غذا کھانی مفید ہے۔ متبادل غذا کے طور پر آج کل گرمیوں میں جو سبزیاں میسر ہیں ملا جلا کر یا گوشت میں پکا کر کھانا زیادہ غذائیت بخش ہے۔ مالکْ المْلک نے اس ہری بھری دنیا میں انسان پیدا فرما کر سمندروں اور پہاڑوں اور زیرِ زمین میں چھپی ہوئی دولت کے خزانے اپنے استعمال میں لانے کیلئے دماغ‘ اعصاب‘ معدہ‘ انتڑیوں‘ گردن و جگر اور رنگا رنگ ہارمونز (سفید جوہری رطوبات) سے ہمارے بدن کا خوبصورت ڈھانچہ بنادیا۔ قرآن حکیم میں انسان کو ظالم کے نام سے یاد فرما کر ہمارے سامنے لاتعداد حقیقتیں ظاہر کردی گئی ہیں۔ سچ پوچھیے تو ہم لوگ صحت اور خوراک کے بارے میں اپنے اوپر بے حد ظلم کررہے ہیں۔ شاید ہی کوئی خوش نصیب ایسا ہو جو قوانین حفظ صحت کا خیال کرے اور جانچ پڑتال کرکے مناسب غذا کھاتاہو۔ روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ کام کرتے کرتے تھک کر ہمیں نیند آنے لگتی ہے مگر ہم دماغ کو آرام دینے کی جگہ گھنٹوں پڑھائی جاری رکھنے سے باز نہیں آتے۔ ہمارے دماغی عضلات اور رگ پٹھوں میں زہریلے فضلات جمع ہوجانے سے سردرد ہونے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری قوت مدبرہ بدن سے زہریلے فضلات کو خارج کرنے اور آرام کرنے کے لیے درد اور تناؤ پیدا کرکے ہمیں خبردار کرتی ہے اور ہم اسپرین جیسی زہریلی دوائیں استعمال کرنی شروع کردیتے ہیں۔ عارضی فائدہ حاصل کرکے اصلی مرض کا علاج نہ

About the author

Taasir Newspaper