اردو | हिन्दी | English
182 Views
Sports

انگلینڈ کے دورے کے بعد ریٹائرمنٹ لے سکتے ہیں مصباح

Misbah-ul-Haq
Written by Taasir Newspaper

کراچی، 16 جون (یو این آئی) پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق اگلے ماہ ہونے والے انگلینڈ کے کرکٹ دورے کے بعد اپنا بین الاقوامی کیریئر ختم کرسکتے ہیں۔مقامی میڈیا کے مطابق کپتان اور مڈل آرڈر کے بلے باز مصباح اپنے ریٹائرمنٹ کا اعلان یا تو پریس کانفرنس کے ذریعے یا براہ راست بورڈ کو مطلع کر کے کر سکتے ہیں۔تاہم حکام نے یہ یقینی طور پر نہیں بتایا کہ انگلینڈ دورہ پاکستان ٹیم کے کپتان کے لئے آخري ٹورنامنٹ ہو گا ۔ پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح ٹوئنٹی 20 اور ون ڈے میچوں سے پہلے ہی ریٹائرمنٹ لے چکے ہیں۔اپنے کیریئر میں 61 ٹیسٹ، 162 ون ڈے اور 39 ٹوئنٹی 20 کھیل چکے مصباح نے 42 ٹیسٹ میچوں میں ٹیم کی کمان سنبھالی ہے جس میں 20 میچوں میں کامیابی حاصل ہوئی ہے جبکہ 11 میچوں میں ان کو شکست کھانی پڑی۔42 سالہ مصباح نے آئندہ انگلینڈ کے دورے کے لیے ٹیم کی تیاریوں کے بارے میں کہا کہ ٹیم کا بیٹنگ اور بولنگ آرڈر مضبوط ہے ۔ٹیم نے انگلینڈ کے دورے کے لئے سخت تیاریا ں کی ہیں اور انہیں پورا بھروسہ ہے کہ ٹیم انگلینڈ کے خلاف شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر سکے گی۔انہوں نے انگلینڈ کے تیز گیند بازوں کے سامنے ڈٹ کر کھیلنے کا اعتماد ظاہر کیا۔پاکستانی ٹیم انگلینڈ کے دورے میں چار میچوں کی ٹیسٹ سیریز کے علاوہ پانچ ون ڈے اور ایک ٹوئنٹی 20 میچ کھیلے گی۔ٹیسٹ سیریز کا پہلا میچ اگلے مہینے 14 جولائی سے لارڈس میں شروع ہوگا۔مصباح کے حوالے یہ خبریں زیرگردش ہیں کہ وہ اس دورے کے اختتام پر ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کریں گے ۔مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ناقدین کے بجائے ان کی پوری توجہ اپنی کارکردگی پر ہے ۔ ‘انگلینڈ کے خلاف سیریز ہمارا پہلا ہدف ہے اس لیے تمام تر توجہ اسی سیریز پر مرکوز ہے ۔پاکستان کرکٹ ٹیم تقریباً 6 سال پر رواں ہفتے انگلینڈ کے دوران پر روانہ ہو گی۔پاکستان نے انگلینڈ کا آخری دورہ 2010 میں کیا تھا جب ٹیم کے اس وقت کے کپتان سلمان بٹ، فاسٹ بالر محمد آصف اور محمد عامر پر لارڈز ٹیسٹ میں اسپاٹ فکسنگ کے الزامات لگے تھے اور اس جرم کے اعتراف پر تینوں کھلاڑیوں کو پابندی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔اسپاٹ فکسنگ کی وجہ سے پانچ سال کی پابندی کی سزا پوری کرنے کے بعد فاسٹ بالر محمد عامر ایک مرتبہ پاکستان ٹیم میں واپس آ چکے ہیں اور دورہ انگلینڈ پر بھی ٹیم کا حصہ ہوں گے ۔کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ عامر بہترین بالر ہیں اور امید ہے وہ توقعات پر پورا اتریں گے ۔مصباح الحق سمجھتے ہیں کہ انگلینڈ کا دورہ چیلنج ضرور ہے مگر 2010 کے مقابلے میں اس دفعہ ان کی بیٹنگ خاصی تجربہ کار ہے جس کا ٹیم کو فائدہ ہو گا۔مصباح الحق کا شمار پاکستان کے کامیاب ترین ٹیسٹ کپتانوں میں ہوتا ہے ۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے گزشتہ سال متحدہ عرب امارات میں انگلینڈ کو 3 میچوں پر مشتمل ٹیسٹ سیریز میں 1۔2 سے شکست دی تھی ۔انھوں نے متحدہ عرب امارات والی کارکردگی کو دہرانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پوری کوشش ہوگی کہ انگلینڈ کے خلاف امارات والی کارکردگی کو دہرائیں گے ۔مصباح کا ماننا ہے کہ سیریز میں لیگ اسپنر یاسر شاہ کافی اہم کردار ادا کریں گے ۔یاسر شاہ نے متحدہ عرب امارات میں انگلینڈ کے خلاف شاندار بالنگ کا مظاہرہ کیا تھا جس کے بعد آسٹریلیا کے سابق لیگ اسپنر شین وارن نے بھی ان کے ٹیلنٹ کو سراہا۔مصباح کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کے فاسٹ بالرز کا مقابلہ کرنا ہماری ٹیم کا سب سے بڑا امتحان ہوگا اور وہاں کی تیز وکٹوں پر بالرز کے خلاف سخت ڈسپلن سے بیٹنگ کرنا ہوگی۔مصباح الحق انگلینڈ میں پہلی مرتبہ ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے جارہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ انگلینڈ کا دورہ بڑا چیلنج ہوتا ہے لیکن پچھلے ایک ماہ سے بھرپور تیاری کی ہے اور یہ دورہ انفرادی اور ٹیم دونوں کے لیے تاریخی ہوسکتا ہے ۔مصباح الحق کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔پی سی بی کے ذرائع کے مطابق ٹیسٹ کپتان جمعہ تک میڈیا کے ذریعے اعلان کریں گے یا پھر بورڈ کو بین الاقوامی کرکٹ جاری رکھنے یا نہ رکھنے کے حوالے سے اپنے فیصلے سے آگاہ کریں گے ۔بورڈ ذرائع کا کہنا تھا کہ مصباح نے ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں کیا لیکن ہر کھلاڑی کو بہترین وقت پر کھیل سے کنارہ کش ہوجانا چاہیے ۔مصباح الحق نے 2012 میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا جبکہ ورلڈ کپ 2015 کے بعد وہ ون ڈے سے کنارہ کش ہو گئے ۔مصباح الحق نے 61 ٹیسٹ میچوں میں 35 نصف سنچریوں اور 9 سنچریوں کی مدد سے 4 ہزار 352 رنز بنائے ہیں جبکہ 162 ایک روزہ میچوں میں انہوں نے 42 نصف سنچریوں کی بدولت 5 ہزار 122 رنز بنائے ۔مصباح نے اپنے ٹی ٹوئنٹی کریئر کے دوران 39 میچ کھیلے جن میں انہوں نے 788 رنز بنائے ۔پاکستان ٹیم دورہ انگلینڈ میں 4 ٹیسٹ، 5 ون ڈے اور ایک ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے گی۔

About the author

Taasir Newspaper