اردو | हिन्दी | English
325 Views
Deen

رمضان کا مہینہ رحمتوں کا خزینہ

Ramadan
Written by Taasir Newspaper

الحاج پروفیسر محمد یونس حسین حکیم
اللہ تعالیٰ کا بے انتہا احسان ہے کہ اس نے ایک بار پھر ہم سبھوں کو رمضان کا مبارک اور مقدس مہینہ عطا کیا ۔ اس مہینے کی بے شمار فضیلتیں ہیں۔سب سے بڑی فضیلت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روزے کو اپنے لئے خاص فرمایا ہے اور کہا ہے کہ میں خود اس کا بدلہ ہوں ۔ اس لئے ہم تما م ہی مسلمانوں کو روزے کے حقوق کو فرائض ادا کرنے میں با لکل غفلت نہیں برتنی چاہئے ۔تاکہ ہمارا روزہ ہمارے لئے ڈھال ثابت ہو اور جنت میں لے جانے کاذریعہ بنے ۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مہینہ کو تین حصوں میں بانٹا ہے۔پہلا عشرۃ رحمت کا ہے دوسرا عشرۃ مغفرت کا ہے اور تیسرا عشرۃ جہنم سے آزادی کا ہے۔
ابھی ہم مسلمان چونکہ رحمت کے عشرے سے گذر رہے ہیں اس لئے اس سلسلے میں چند باتیں ہمیں ذہن میں رکھنی چاہئے تاکہ ہمارا یک بھی لمحہ ضائع نہ ہو ۔
ہمیں کیا کرنا چاہئے :
سب سے پہلے ہمیں وہ کام کرنا چاہئے جس سے اللہ کی رحمت کی بارش ہم پر برسے ۔ہمیں عبادات کو اچھی طرح انجام دینا چاہئے ۔پنج وقتہ نمازوں کا جماعت کے ساتھ اہتمام کرنا چاہئے ۔نوافل کی کثرت کرنی چاہئے تاکہ ہمیں فرض نمازوں کے برابر ثواب ملتا رہے۔ہمیں قرآن کی تلاوت خوب اہتمام کے ساتھ کرنی چاہئے۔سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے اور پھر اس پر عمل بھی کرنا چاہئے۔
ہم اس مبارک مہینے میں تراویح کا اہتمام پوری مستعد ی کے ساتھ کریں کہ اس کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ادوار و و ظائف میں بھی مشغول رہیں۔اپنے پڑوسیوں، غریبوں اور نادانوں کا خیال رکھیں ۔ہمدردی اور غمخواری کو اپنا شیوہ بنائیں ۔اپنے جسم کے ہر عضو کو روزے کا پابند بنائیں۔چنانچہ ہم آنکھ سے وہی دیکھیں جو جائزہے۔زبان سے وہیں بولیں ، جو درست ہے۔ کان سے وہی سنیں ، جو روا ہے ۔ دماغ سے وہیں سوچیں ، جو بہتر ہے ۔ہاتھ اور پاؤں کا استعمال اسی جگہ کریں جس کی شریعت نے اجازت دی ہے ۔ پیٹ اور شرمگاہ کا استعمال شریعت کے دائرے میں رہ کر ہی کریں ۔ان تمام چیزوں کے ساتھ ہمیں ان چار باتوں کا بطور خاص اہتمام کرناچاہئے:۔
۱۔ لا الہ الا اللہ کی کثر ت
۲۔ استغفار کی کثرت
۳۔ جنت کی طلب
۴۔ جہنم سے پناہ
ہمیں کیا نہیں کرنا چاہئے:
جس طرح اس مبارک مہینہ میں نیک کام کا اجر بڑھ جاتا ہے اسی طرح برے کاموں کی شناعت او ر قباحت بھی بڑھ جاتی ہے اور اللہ کے یہاں ان کی سزا بھی سخت ہوجاتی ہے۔اس لئے ہمیں یہ مبارک مہینہ سنبھل سنبھل کر گزرنا چاہئے ۔
ہمیں نماز نہیں چھوڑنی چاہئے ، تراویح نہیں چھوڑنی چاہئے ، تلاوت میں سستی نہیں کرنی چاہئے، جھوٹ نہیں بولنا چاہئے، دھوکہ نہیں دینا چاہئے ، لڑائی جھگڑانہیں کرنا چاہئے ، غیبت اور بد گوئی نہیں کرنی چاہئے، پڑوسیوں کو ستانا نہیں چاہئے ، کسی پر ظلم و زیادتی نہیں کرنی چاہئے، کسی کی حق تلفی نہیں کرنی چاہئے، روزے کی بے حرمتی نہیں کرنی چاہئے، نگاہ ، کان ، ہاتھ ، پیر اور دوسرے اعضاء کا غلط استعمال نہیں کرنا چاہئے، اور غلط خیال جان بوجھ کر دماغ میں نہیں لا نا چاہئے۔
خلاصہ یہ کہ ہم اپنے روزے کو تقویٰ اور پرہیز گاری سے جتنا قریب کرسکتے ہیں کرنے کی بھر پور کوشش کریں ۔ تقویٰ کیا ہے ؟ تقویٰ نام ہے شریعت کی پابندی کرتے ہوئے دنیا اس طرح گزارنا کے انسان کا دامن گناہوں سے آلودہ نہ ہو۔ دنیا میں رہ کر آخرت کی تیاری کرنا اس لئے کہ یہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔جیسا ہم بیج ڈالیں گے وہاں ویسا ہی پھل آئے گا ۔
ہمیں اللہ کی ذات سے امید ہے کہ اگر ہم ان امور کو سامنے رکھ کر رمضان گزاریں گے اور خاص طور پر یہ عشرہ ،تو اللہ کی رحمتیں ہم پر برسیں گی ، اللہ کی عنایتیں ہماری طرف متوجہ ہونگی، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ کی رضا ہم کو حاصل ہوگی جو ہماری سب سے پہلی اور آخری طلب ہے۔ اللہ ہمیں توفیق سے نوازے اور دین و دنیا کی نعمتوں سے محروم نہ فرمائے۔آمین سابق چےئر مین بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ و ریاستی صدر ، اقلتی سیل ، جنتا دل یو

About the author

Taasir Newspaper