اردو | हिन्दी | English
481 Views
Deen

ماہ رمضان کے فیوض و برکات کے ایک حصہ کا آغاز شعبان سے ہی ہو جاتا ہے: مولانا فرید الدین قاسمی ؔ

کانپور:۔جمعیۃ علماء شہر کانپور و مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ومولانا متین الحق اسامہ قاسمی کی زیر نگرانی چلنے والے ’’احترام رمضان عشرہ ‘’ کا دسواں اور آخری جلسہ جامع مسجد اشرف آبادمیں منعقد ہوا، جس میں جامعہ محمودیہ اشرف العلوم کے استاذ مولانا فرید الدین قاسمی نے مصلیان مسجد کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ مفسرین کی ایک رائے یہ بھی ہے کہ جس طرح موسم بہار کی آمد سے قبل آثار و قرائن بتاتے ہیں کہ باد بہاری چلنے والی ہے اور صبح کی سفیدی روشن دن کے آنے کی خبر دیتے ہے، اسی طرح اللہ رب العزت اس ماہ مبارک کے آنے سے قبل ہی اس کے فیوض و برکات کے ایک حصہ کا آغاز شعبان سے ہی کر دیتا ہے ۔ اسی وجہ سے اللہ کے رسول ﷺ رمضان کی تیاریوں میں مشغول رہتے ، صحابہ کرامؓ کے سامنے رمضان المبارک کی عظمت واہمیت بیان فرماتے ۔ پھر جب شعبان کے آخری ایام آتے تو رسول اکرم ﷺ احترام و استقبال رمضان کیلئے نصیحتیں فرماتے اور لوگوں کو خیر کی طرف ابھارتے ۔ حضرت محمد ﷺرجب کا چاند طلوع ہوتے ہی رمضان المبارک کی تیاریاں شروع فرمادیتے اور دعا کرتے کہ ’’اے اللہ ! رجب و شعبان میں برکت دے اور رمضان المبارک تک ہمیں پہنچا دے ‘‘ ۔مولانا نے بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص اس ماہ محترم میں کسی روزہ دار کو افطار کرائے گا وہ جہنم سے خلاصی پائے گا ۔ اور اسے روزہ دار کے بقدر ثواب ملے گا، جب کہ روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔اس کے ساتھ ہی بتایا کہ اس ماہ کا پہلا حصہ رحمت ، دوسرا مغفرت اور تیسرا دوزخ سے آزادی کا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس ماہ میں اپنی خاص رحمت سے ایسا انتظام کرتے ہیں کہ شیطان بندوں کو گمراہ نہ کر سکے ، اور برائی پر آمادہ کرنے سے باز آ جائے اس لئے سرکش شیاطین کو پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے ۔ جہنم کے دروزاے بند کر کے جنت کے دروازے پورے ماہ کیلئے کھول دئے جاتے ہیں ۔ مولانانے آگے فرمایا کہ حضرت محمد ﷺ نے ایسے لوگوں کے لئے حضرت جبرئیل علیہ السلام کی بد دعا کہ جو شخص رمضان کا مہینہ پائے اور اپنی مغفرت نہ کر والے اس پر آمین کہا ہے ، ایک حضرت جبرئیل ؑ اور دوسرے حضور ﷺ کا آمین کہنا ، ایسے لوگوں پر لعنت ہی لعنت کا کھلا اعلان ہے ۔ اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم ا س ماہ محترم میں گرمی کی صعوبتوں کو برداشت کرتے ہوئے روزہ ضرور رکھیں اور حضرت جبرئیل ؑ کی بددعاء کے مستحق نہ بنیں ، کیونکہ اگر ہمارے اوپر اللہ کی لعنت ہو گئی تو پھر ہم اپنی آخرت کو خراب کرنے کے ساتھ ہی دنیا میں بھی ہماری زندگی سے سکون نکل جائے گا اور بربادی ہماری قسمت بن کر رہ جائے گی۔ جلسے کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا بعدہ ‘ نعت ومنقبت کا نذرانہ پیش کیا گیا۔ نظامت کے فرائض مسجد ہذا کے نائب امام مولوی محمد ہاشم نے انجام دئے ، مولانا فرید الدین قاسمی کی دعاء پر ہی جلسہ اختتام پذیر ہوا۔

About the author

Taasir Newspaper