اردو | हिन्दी | English
270 Views
Politics

کیجریوال کا ایل جی پر دہلی حکومت کی جاسوسی کرنے کا الزام

Arvind-Kejriwal
Written by Taasir Newspaper

نئی دہلی، 7 جون (یو این آئی) مرکز کے خلاف اپنی زبانی جنگ جاری رکھتے ہوئے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے آج لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ پر اپنے وزراء اور سینئر بیوروکریٹس کی جاسوسی کرنے کے الزام لگایا۔ مسٹر کیجریوال نے یہ بھی الزام لگایا کہ لیفٹیننٹ گورنر خفیہ طریقے سے وزیر اعظم کے دفتر کو اطلاعات بھیج رہے ہیں۔ وزیر اعلی نے ٹویٹر پر کہا کہ “حیران کن بات یہ ہے کہ ایل جی وزیر اعلی اور ریاستی وزراء کے یہاں آنے والوں کی جاسوسی کر رہے ہیں۔ ایل جی خفیہ طریقے سے یہ اطلاعات پی ایم او کو مہیا کرتے ہیں”۔ وزیر اعلی نے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو ایک خط بھی لکھا ہے جس میں انہوں نے دہلی حکومت میں کام کر نے والے حکام اور مشیروں کے بارے میں معلومات طلب کئے جانے کا ذکر کیا ہے ۔ خط میں انہوں نے لکھا ہے کہ وزیر اعظم دہلی سرکار میں اس قدر دلچسپی لیتے ہیں، اس سے مجھے ملی خوشی ہے ۔ وزیر اعظم کا کافی وقت بیرون ملک گزرتا ہے ، جب وہ ملک میں ہوتے ہیں تو ان کا زیادہ تر وقت دہلی سرکار کے کاموں کے بارے میں صرف ہوتا ہے ۔مسٹر کیجریوال نے لکھا ہے کہ “میں نے کئی قانونی ماہرین سے مشورہ کیا ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ آئین اور قانون کے مطابق آپ کو یہ اطلاع اہلکاروں سے مانگنے کا حق نہیں ہے ۔ مرکزی حکومت کسی بھی ریاستی حکومت کو خط لکھ کر کوئی اطلاع مانگ سکتی ہے ۔ ویسے ہی جیسے کوئی بھی ریاستی حکومت مرکزی حکومت کو خط لکھ کر معلومات طلب کرسکتی ہے ” ۔خط میں یہ پوچھا گیا ہے کہ دہلی حکومت میں ایسی کون سی انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس کی پوسٹ ہے جس پر دیگر افسران کام کر رہے ہیں۔ میری سمجھ سے پوری دہلی حکومت میں دو چار سے زیادہ ایسے افسر نہیں ہوں گے ۔ مجھے پوری امید ہے کہ مرکز نے اس طرح کی معلومات شیوراج چوہان، چندرا بابو نائیڈو، وسندھرا راجے اور دیویندر فڑنویس سے بھی طلب کی ہوں گی۔ وہاں کیا صورت حال ہے ۔ جب آپ اتر پردیش کے وزیر اعلی تھے تو آپ کے وقت ایسے کتنے افسر ہوتے تھے ؟۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ ان میں سے ہر ریاست میں کئی سو ایسے افسر ہوتے ہیں۔ اگر آپ ریاستوں کی ترتیب سے یہ تعداد مجھے بھیجیں گے تو آپ کا نہایت کرم ہوگا”۔مسٹر کیجریوال نے وزیر داخلہ کو اپنے مکتوب میں یہ بھی لکھا ہے کہ دہلی حکومت میں کتنے مشیر مقرر کئے گئے ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper