اردو | हिन्दी | English
1341 Views
Around the World

’قندیل ہی ہمارا سہارا تھی، بیٹے کو معاف نہیں کریں گے‘

_90428860_c4255d50-2a2d-4822-9f22-decee7c2622a
Written by Taasir Newspaper

ایک گھنٹہ پہلے

ملتان میں اپنے بھائی کے ہاتھوں ’غیرت کے نام پر‘ قتل ہونے والی سوشل میڈیا کی مقبول پاکستانی شخصیت قندیل بلوچ کے والدین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو معاف کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

بی بی سی اردو کی صبا اعتزاز سے خصوصی بات چیت میں محمد عظیم اور انور بی بی کا کہنا تھا کہ قندیل کے قتل پر ان کی تکلیف کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا اور اسے بےقصور مارا گیا۔

٭ قندیل بلوچ کا قتل: کب کیا ہوا؟

٭ ’کہتی تھی میرا ٹائم آ گیا ہے۔۔۔‘

٭قندیل کے مقدمۂ قتل میں غیرت کے قتل کی دفعہ شامل

قندیل بلوچ کو 15 جون کی شب ان کے بھائی وسیم نے قتل کر دیا تھا اور پولیس کی جانب سے گرفتار کیے جانے کے بعد انھوں نے اعترافِ جرم بھی کر لیا ہے۔

قندیل کی والدہ کا کہنا تھا کہ وسیم نے قندیل کو قتل کر کے جو جرم کیا ہے اسے اس کی سزا ضرور ملنی چاہیے۔

’سزا ملنی چاہیے، اس کی غلطی ہے، اس نے ناجائز قتل کیا۔ایسا کیوں کیا اس نے؟ میں نہیں معاف کروں گی بیٹے کو۔ میری لائق بچی، مردوں کی طرح بہادر لڑکی تھی، کیا قصور کیا تھا اس نے؟‘

قندیل کی والدہ نے واردات کے بارے میں تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ملزم وسیم نے جمعے کی شام ان کے ساتھ ہی کھانا کھایا تھا لیکن اس نے اپنے رویے سے یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ ایسی حرکت کر سکتا ہے۔

’بھائی کے ساتھ شام کا کھانا کھایا ہے۔ اس نے ہمیں محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ قندیل کا برا چاہ رہا ہے۔ میرے دل میں کوئی شک نہیں پڑا کہ میرا بیٹا میری بیٹی کے ساتھ یہ کرے گا۔‘

انور بی بی نے کہا کہ وسیم نے انھیں اور ان کے شوہر کو دودھ میں نشہ آور دوا ملا کر دی تھی جس کی وجہ سے وہ نہیں جانتے کہ قندیل کے قتل کے وقت کیا ہوا۔

1143481-brother-1468734475-319-640x480

’میرا شوہر اور میں سو گئے۔ دودھ ہم پی چکے تھے جس میں نشہ ملا کے دیا ہمیں۔ صبح قندیل کو آواز دی کہ بیٹا ناشتہ کر لو ۔ پہلے وقت پر اٹھ جاتی تھی پر وہ نہیں اٹھی۔ میں نے سوچا جا کر دیکھوں ، یہ کس طرح کی نیند آئی ہوئی ہے اس کو، سفید چادر اوڑھ کر پڑی ہوئی ہے۔‘

انور بی بی نے بتایا کہ جب انھوں نے قندیل کے چہرے سے چادر ہٹائی تو ان کے سارے چہرے پر نشان تھے جبکہ زبان اور ہونٹ کالے پڑ چکے تھے۔

’ہم پیچھے سے بہت غریب ہیں ، ہمیں بیٹی سہارا دیتی تھی۔ بیٹے شادی شدہ ہیں، بیوی بچوں کے ساتھ خوش ہیں وہ ہمارا خیال نہیں رکھتے تھے۔ وہ ہمیں پیار کرتی تھی۔گاؤں سے یہاں لے کر آئی تھی کہ آپ کا خرچہ اٹھا سکتی ہوں۔‘

انور بی بی کا کہنا تھا کہ انھیں قندیل کے کام پر کوئی اعتراض نہیں تھا بلکہ وہ اس کی ترقی پر خوش تھے۔

’ہم تو خوش تھے، اس کے ماں باپ تو خوش تھے باقی جو جل رہے تھے انھوں نے اپنا کام کر دکھایا۔ محنت کر کے آگے چلی گئی، ہم تو خوش تھے اس کے ساتھ۔‘

قندیل کے والد محمد عظیم کا بھی کہنا ہے قندیل ان کے لیے کسی بھی اچھے بیٹے سے بڑھ کر تھی۔

’بیٹی بھی تھی، دوست بھی تھی جگری، بیٹا بھی، ایک اچھے سے اچھے بیٹے سے اچھی، میں کیا بتاؤں۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ بیٹی کے قتل پر بیٹے کو معاف کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے اور اسے ضرور سزا ملنی چاہیے۔

’سزا ہوتی ہے ہو جائے! میں تو کہتا ہوں اسے جہاں نظر آئے گولی مار دو۔ میری مسکین کو دبا دیا۔ ابا اماں اوپر بےہوش۔۔۔اس نے شور بھی مچایا ہوگا، اماں کو بلاتی ہوگی، ابا کو بلایا ہوگا۔۔۔ ہمیں درد نہیں ہے کیا؟ ہم بہت تکلیف میں ہیں۔‘

اس سوال پر کہ انھوں نے اپنے دوسرے بیٹے جو فوج میں ملازم ہے،کا نام ایف آئی آر میں کیوں درج کرایا، محمد عظیم نے کہا ’ایک جنونی بیٹا تھا، فوج میں ہے، کہتا تھا کہ شادی کر لو نہیں تو میری بہن نہیں ہو۔ میں نشے میں تھا۔ ان کی ناراضگی کی وجہ سے میں نے ناجائز اس غریب کا نام لے لیا ، اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ، وہ ملوث نہیں تھا۔‘

جب قندیل کے والد سے پوچھا گیا کہ آیا بیٹی کی وجہ سے انھیں تنقید کا سامنا کرنا پڑتا تھا تو انھوں نے کہا کہ ’جب سے عبدالقوی والی بات ہوئی، تب سے لوگ شکایتیں لگانا شروع ہوگئے ہیں۔

’انھوں نے بھڑکایا کہ اس کا پہلے شوہر ہے ، وہ تو خود ہی مان گئی تھی کہ طلاق یافتہ ہے لیکن وہ اسے کو میڈیا پر لے کر آئے اور اسے کہا کہ گلے کرے ، شکایتیں کرے۔‘

’مفتی عبدالقوی کے نام پر یہ جھگڑا اٹھا پاکستان میں۔ اس جھگڑے میں سارا کچھ ہو گیا۔ وہ ڈری ہوئی تھی، کئی بار کہتی تھی کہ اگر کوئی گھر کے باہر میرا پوچھتا ہے تو اسے پوچھو کون ہے؟‘

About the author

Taasir Newspaper