اردو | हिन्दी | English
439 Views
Politics

محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیر اسمبلی کی رکنیت کاحلف لیا

Mehbooba-Mufti-Sayeed
Written by Taasir Newspaper

سری نگر ، 30 جون (جاوید احمد) جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعرات کو ریاستی قانون ساز اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔ حلف برداری کی تقریب کے لئے جاری ریاستی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کی کاروائی دس منٹ کے لئے ملتوی کردی گئی۔ اسپیکر کویندر گپتا نے محترمہ مفتی کو اسمبلی سکریٹریٹ میں واقع اپنے چیمبر میں عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ 56 سالہ محبوبہ مفتی کو 4 اپریل 2016 ء کو راج بھون جموں میں ریاستی گورنر این این ووہرا نے جموں وکشمیر کی 13 ویں وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے عہدے اور رازداری کا حلف دلایا تھا۔ اس طرح سے انہوں نے ایک نئی تاریخ رقم کرکے جموں وکشمیر کی پہلی مسلم خاتون وزیراعلیٰ بننے کا اعزاز حاصل کرلیا تھا۔ محترمہ مفتی کی بحیثیت رکن اسمبلی حلف برداری کی تقریب میں پارلیمانی امور کے وزیر عبدالرحمان ویری، وزیر قانون و انصاف عبدالحق خان، دیگر کابینی وزراء، ڈپٹی اسپیکر نذیر گریزی،پی ڈی پی جنرل سکریٹری محمد سرتاج مدنی اور دیگر ممبران قانون سازیہ اور سرکاری اہلکار موجود تھے ۔ شرکائے تقریب نے اس موقعہ پر محترمہ مفتی کو ریاستی قانون ساز اسمبلی کا رکن بننے پر مبارکباد پیش کی۔ خیال رہے کہ محترمہ مفتی نے 25 جون کو حلقہ انتخاب اننت ناگ کے ضمنی انتخابات میں 17 ہزار 701ووٹ لیکر شاندار کامیابی حاصل کی ۔ کانگریس کے امیدوار ہلال احمد شاہ5 ہزار 616ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے تھے ۔ انہوں نے اپنے مد مقابل ہلال شاہ کو 12 ہزار 85 ووٹوں کے غیرمعمولی فرق سے ہرایا تھا۔ اننت ناگ میں 22 جون کو ہوئے ضمنی انتخابات میں قریب 34 فیصد لوگوں نے اپنے حق رائے دہی کا اظہار کیا۔ اس نشست پر سال 2014ء کے اسمبلی انتخابات میں پی ڈی پی کے سرپرست مفتی محمد سعید نے کانگریس امیدار ہلال شاہ کو ہی 6 ہزار 28 ووٹوں کے فرق سے ہراکر کامیابی حاصل کی تھی، تاہم رواں برس کی 7 جنوری کو مفتی سعید کے انتقال کرجانے کی وجہ سے یہ نشست خالی ہوگئی تھی۔ اس نشست کے لئے محترمہ مفتی اور کانگریس امیدوار ہلال احمد شاہ کے علاوہ نیشنل کانفرنس امیدوار افتخار حسین مسگر اور آزاد امیدوار تیجندر سنگھ، منظور احمد خان، مجیب الرحمان، مسرور احمد میر اور مشتاق احمد شاہ بھی سیاسی قسمت آزمائی کررہے تھے ۔ این سی امیدوار افتخار حسین 2 ہزار 811 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے تھے ۔ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنے کے بعد حلقہ انتخاب اننت ناگ پر جیت درج کرنا محترمہ مفتی کے لئے وقار کا معاملہ بن چکا تھا۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ وزیر اعلیٰ ہونے کی وجہ سے محترمہ مفتی کے جیتنے کے امکانات بہت زیادہ تھے ۔محترمہ مفتی جو فی الوقت پارلیمانی حلقہ انتخاب اننت ناگ سے ممبر پارلیمنٹ بھی ہیں، کو وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بنے رہنے کے لئے قانون ساز اسمبلی یا کونسل کا ممبر بننا ضروری تھا، جس کے لئے اُن کے پاس وزارت اعلیٰ کی کرسی سنبھالنے کے دن سے چھ ماہ کا وقت تھا۔ ریاستی قانون ساز اسمبلی کا رکن بننے کے بعد اب محترمہ مفتی کو بحیثیت رکن پارلیمنٹ مستعفی ہونا پڑے گا۔مرحوم مفتی سعید نے 2014 کے اسمبلی انتخابات میں حلقہ انتخاب اننت ناگ سے کانگریس امیدار ہلال احمد شاہ کو ہی 6 ہزار 28 ووٹوں کے فرق سے ہرایا تھا۔ اس سے قبل 2008 کے اسمبلی انتخابات میں اس حلقہ انتخاب سے مرحوم مفتی سعید نے نیشنل کانفرنس کے امیدوار مرزا محبوب بیگ کو ہرایا تھا۔مفتی سعید نے 12 ہزار 439 ووٹ جبکہ مسٹر بیگ نے 7 ہزار 548 ووٹ حاصل کئے تھے ۔ اگرچہ نیشنل کانفرنس نے مرزا بیگ کو 2014 کے اسمبلی انتخابات کے لئے یہاں سے اپنا امیدوار منتخب کیا تھا، تاہم بیگ نے میدان چھوڑ کر پی ڈی پی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔محترمہ محبوبہ مفتی سال 1996 ء میں ہی جموں وکشمیر میں منعقد ہونے والے اسمبلی انتخابات میں پہلی بار اپنے آبائی حلقہ انتخاب بج بہاڑہ سے کانگریس کی ٹکٹ پر کامیاب ہوئی تھیں۔

About the author

Taasir Newspaper