اردو | हिन्दी | English
567 Views
Politics

”من کی بات”پروگرام کی طرز پر کیجریوال کا ”ٹاک ٹو اے کے ”

Arvind Kejriwal
Written by Taasir Newspaper

نئی دہلی،17جولائی (یواین آئی)وزیر اعظم نریندر مودی کے ریڈیو پر پر نشر ہونے والے پروگرام ”من کی بات”کی طرز پر دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے عوام سے براہ راست گفتگو کرنے کے لئے آج سے سوشل میڈیا پر ”ٹاک ٹو اے کے ”پروگرام شروع کیا ہے اور مرکزی حکومت پر کام نہ کرنے دینے کا الزام لگایا۔من کی بات پروگرام کی طرح ٹاک ٹو اے کے پروگرام بھی گیارہ بجے سے شروع ہوا ۔مسٹر کیجریوال نے تقریباً آدھے گھنٹے اپنی بات رکھی اوراپنی حکومت کے کارنامے گنوائے اور اس کے بعد لوگوں کے سوالوں کے جواب دینے شروع کئے ۔عوام نے فون ،ایس ایم ایس اور سوشل میڈیا کے ذریعہ ان سے سوال کئے ۔انہوں نے اس دوران مرکزی حکومت پر شدید حملہ کیا اورالزام لگایا کہ مودی حکومت انہیں کام نہیں کرنے دے رہی ہے ۔مرکزنے جو حالات پیدا کئے ہیں اس کی وجہ سے ان کی حکومت کو کام کرنے میں مشکل آرہی ہے اوروہ کام نہیں کر پارہے ہیں۔انہوں نے کہا”مرکزی حکومت دہلی حکومت کے ساتھ ہندوستان۔پاکستان جیسے حالات نہیں بناتی تو ہم چار گنا بہتر کام کرتے اور دہلی کے لوگوں کی پریشانیوں کاحل نکالا جاتا۔”اپنی حکومت کے کامیابیوں پر انہوں نے کہا کہ پی ڈبلیو ڈی اور تعلیم کے محکمے نے بہت اچھا کام کیا ہے اور ایک سال کے اندر دہلی میں طلبہ کے پڑھنے کے لئے آٹھ ہزار عمارتیں بنائی گئی ہیں۔مسٹر کیجریوال نے کہا کہ ان کی حکومت نے تعلیم کو لوٹ گھسوٹ اور اقربا پروری سے آزاد کرانے کی کوشش کی ہے ۔انہوں نے کہا ”میں نے دہلی کے اسکول میں اپنے بیٹے کے ایڈمیشن کے لئے بھی سفارش نہیں کی۔سرکاری اسکولوں میں پینے کا پانی ،بیت الخلا،صفائی اور سکیورٹی انتظامات کئے گئے ہیں۔لوگوں نے اپنے سوالوں کے ذریعہ انہیں بھی خوب گھیرنے کی کوشش کی اور اشتہارات پر ہونے والے خرچ کا حساب بھی پوچھا۔اشتہارات پر کئے گئے خرچ سے متعلق سوال پر مسٹر کیجریوال نے کہا”ہم نے جو کام کیا ہے ،وہ اصل ہے ،مصنوعی نہیں۔آپ چاہیں تو خود آخر دیکھ سکتے ہیں۔”ایک سوال پر مسٹر کیجریوال نے گجرات میں انتخابات لڑنے کی منشا ظاہر کی اور کہا کہ سورت کے تاجروں نے انہیں الیکشن لڑنے کی دعوت دی تھی لیکن گجرات حکومت نے انہیں دھمکایا اور ان کا استحصال کیا ۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں عوام کو فیصلہ کرنا ہے اور پھر عوام جو فیصلہ کریں گے وہ اس کاساتھ دیں گے ۔

About the author

Taasir Newspaper