اردو | हिन्दी | English
375 Views
Health

کم خوابی

kam khwabi
Written by Taasir Newspaper

اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیاجاسکتا کہ اچھی صحت کے لیئے اچھی نیند کا ہونا بہت ضروری ہے۔ نیند انسان کی یادداشت پربھی اثرات مرتب کرتی ہے۔ اگر نیند اچھی اور پوری ہوتو صحت کے ساتھ ساتھ روز مرہ کی زندگی میں بھی مثبت تبدیلی آتی ہے۔ امریکہ میں نیند پر ایک حالیہ تحقیقی مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ اوسطاََ ایک بالغ شخص کوسات سے نوگھنٹے نیند کی ضرورت ہوتی ہے، جس سے اْس کی زندگی میں مثبت تبدیلی آسکتی ہے، جو ایک بہترزندگی گزارنے کے لئے بہت ضروری ہے۔ عالمی سطح پر نیند نہ آنے کی بڑی وجہ سماجی سطح پر پیش آنے والے مصائب اور مشکلات ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق، معاشرے کودرپیش مسائل لوگوں کی نیند کو متاثر کرتے ہیں، جس سے صحت کمزور ہوجاتی ہے۔ نوجوانوں ک نسبت، ادھیڑ عمر کے لوگوں کی نیند طبی طور پر تجویز کردہ نیند سے کم ہوتی ہے۔ ادارہ برائے تشخیص امراض وتدابیر کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہاگیا تھا کہ امریکا میں ہر تین میں سے ایک بالغ تجویز کردہ یعنی سات گھنٹے سے کم خوابی کی مستقل کمی کے باعث موٹاپا، شوگر، بلڈ پریشر، امراض قلب کے خطرات جنم لے سکتے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق، امریکہ میں ہر تین میں سے ایک بالغ انسان سات گھنٹے سے کم نیند لیتا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر خواتین بھی الخصوص جن کی عمریں 30 سے 60سال کی ہوتی ہیں، درمیانی عمر کے لوگوں کی نیند سب سے کم ہوتی ہے۔ وہ طبی طورپر تجویز کردہ یعنی سات یا آٹھ گھنٹوں سے کم سوتے ہیں۔ یونیورسٹی آف مشی گن نے دنیا بھر میں پائے جانے والے نیند کے رحجانات کامطالعہ کرنے کے بعد اس رپورٹ کو ترتیب دیاہے۔ موبائل فون کی ایک اپیلیکیشن کی مدد سے معلومات جمع کی گئی ہیں کہ لوگ روزانہ کی بنیاد پر کتنی دیر سوتے ہیں اور اْن کے جلد یادیر سے سونے میں کیا قباحتیں حائل ہوتی ہیں۔
اس رسرچ میں سوسے زائد ممالک کے باشندوں کو اعدادشمار جمع کیے گئے، جن میں عمر اور جنس کے علاوہ انکی قدرتی روشنی میں کام کرنے کے اوقات کو بھی شمار کیاگیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس مطالعے کے نتائج کے تجزیے سے نیند کے عالمی بحران، پرقابو پانے میں مدد مل سکے گی۔ اس اسٹڈی کی خاطر سائنسدانوں نے تقریباََ چھ ہزار ایسے افراد سے معلومات جمع کی ہیں، جن کی عمریں پندرہ برس سے زائد ہیں۔ اس مطالعے کے نتائج کے مطابق‘ نیندسے محرومی یااس میں کمی سے انسانی زندگی کوسخت خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper