اردو | हिन्दी | English
175 Views
Politics

گاؤں کے مسائل گاؤں میں حل ہونگے : نتیش

NITISH KUMAR
Written by Taasir Newspaper

پٹنہ 22 جولائی (اسٹاف رپورٹر): وزیراعلیٰ نتیش کمار نے جمعہ کو پنچایتوں نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ چھوٹے موٹے جھگڑوں کو گاؤں میں ہی نپٹا سکتے ہیں۔ نتیش نے ویب کاسٹنگ کے توسط سے گرام کچہری کے ارکان کو آئی پی سی کے مختلف دفعات کے بارے میں بتایا۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ گرام کچہری کے اختیار سے جڑے مجرمانہ معاملے تھانوں کے ذریعہ انہیں ٹرانسفر کئے جائیں گے۔ایسے معاملے اگر 15دنوں کے اندر انہیں نہیں سونپے جاتے ہیں تو یہ گرام کچہری سے متعلق قانون کا مذاق ہوگا۔ ایس پی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تھانہ داروں کو اس بارے میں باخبر کریں یہ کام خود بخود ہونا چاہئے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کا ارادہ گرام کچہری کو موثر بنانا ہے اور جن دفعات کے تحت گرام کچہری کو اختیارات دیئے گئے ہیں ان کے بارے میں سب کو بتانا چاہئے۔انہوں نے گرام کچہری کے نمائندوں کوسمجھا یا کہ آپ کو اپنی پنچایت کی حد میں ہی کام کرنا ہے دوسرے پنچایت کے معاملے میں دخل اندازی نہیں کرنی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ الگ الگ پنچایتوں سے متعلق تھانوں کے انچارج جائیں اور سرپنچ اور پنچ کو ان کے اختیار اور فرائض کے بارے میں جانکاری دیں۔ گرام کچہری کو ان سے وابستہ معاملوں کو نپٹانے میں مدد کریں۔ اگر ہم گرام کچہری کو سہولیات دیں گے تو ہم سمجھتے ہیں کہ لاکھوں معاملوں کا نپٹارہ آسانی سے ہوجائے گا۔ نچلی عدالتوں یا تھانوں میں غیر ضروری بوجھ نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ 2006 میں ہم لوگوں نے بہار پنچایتی راج قانون میں ترمیم کیا اور پنچایت انتخاب ریزرویشن کے مطابق ہوا۔ آئین میں لوکل باڈیز کیلئے ایک تہائی سیٹ خواتین کیلئے مخصوص کئے گئے ہیں۔ اس میں ترمیم کرتے ہوئے خواتین کو بہار میں 50 فیصد ریزوریشن دیا گیا ہے۔ 2006 میں مختلف عہدوں پر 56 فیصد خواتین منتخب ہوئیں اس سے ایک نئی سماجی تبدیلی آئی۔ اس موقع پر پنچایتی راج کے وزیر کپل دیو کامت نے کہا کہ بہار میں قانونی طور سے گرام کچہری کا نظم کرکے ایک مثال قائم کی ہے۔و زیر قانون کرشن نندن پرساد ورما نے کہا کہ گرام کچہری کواور اختیار دیئے جانے سے گاؤں کے مسائل گاؤں میں ہی حل ہوسکتے ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper