اردو | हिन्दी | English
74 Views
Politics

شراب بندی معاملے پر نتیش سخت

nitish kumar
Written by Tariq Hasan

پٹنہ 13 اگست (اسٹاف رپورٹر): شراب بندی کے معاملے میں لاپروائی کا مظاہرہ کررہے پولس افسران پر کارروائی کے فیصلے سے پیدا شدہ تنازعہ کے بیچ وزیراعلیٰ نتیش کمار نے سنیچر کو پولس افسران کو سخت پیغام دیا۔ نتیش نے کہا کہ جو تھانہ دار عہدہ چھوڑنا چاہتے ہیں وہ خوشی سے چھوڑ سکتے ہیں۔ وہ چاہیں تو ملازمت بھی چھوڑ سکتے ہیں لیکن اس معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گااور کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ وزیراعلیٰ ایس کے میموریل ہال میں کشواہا پنچایت نمائندوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بابائے قوم کے ماننے والے ہیں اور شراب بندی کافیصلہ مہاتما گاندھی کے تئیں ان کا خراج عقیدت ہے۔ انہوں نے شراب بندی کے سلسلے میں سخت فیصلوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے انہیں حکومت چلانے کیلئے منتخب کیا ہے۔ شراب بندی نافذ ہوچکی ہے اور اب اس معاملے میں کسی بھی قسم کی رعایت یا نرمی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ قانون سب پر لاگوہوگا ۔ پولس افسران کی طرف سے یہ دھمکی دی جارہی ہے کہ وہ تھانہ انچارج نہیں بننا چاہتے تو مت بنیں، چاہے نوکری ہی چھوڑ دیں لیکن قانون نہیں بدلے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے صرف نام کیلئے شراب بندی نہیں نافذ کی ہے جو لوگ مخالفت کررہے ہیں وہ مشورہ دیں قانون میں کسی کو اٹپٹاپن نظر آتا ہے تو اس کی نشاندہی کریں ۔ مخالفت برائے مخالفت نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ قانون سب کیلئے یکساں ہے اور اس سے کسی کو مفر نہیں۔ شراب بندی کے بعد سماج میں جو تبدیلی آئی ہے اسے دیکھ کر بھی مخالفین آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں۔ نتیش کے اس بیان کو تحریک کار پولس افسران کیلئے بڑا جھٹکا مانا جارہا ہے۔ یہ بیان ایک طرح سے اتحاد کی حلیف آر جے ڈی کیلئے بھی ایک اشارہ ہے۔ گذشتہ دنوں آر جے ڈی کے قومی نائب صدر رگھوونش پرساد سنگھ نے تھانہ داروں کے خلاف کارروائی کو غلط بتاتے ہوئے اس قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ معطلی کی کارروائی کے بعد سے ریاست میں پولس افسران لگاتار عرضداشت پیش کرکے قانون کی مخالفت کررہے ہیں۔ خیال رہے کہ شراب بندی کے نفاذ کے معاملے میں لاپروائی برتنے والے 11 پولس افسران کو حکومت نے گذشتہ دنوں معطل کردیا تھا۔ اس کے بعد سے پولس محکمہ میں کھلبلی ہے اور اپوزیشن اس سے فائدہ اٹھانے کی طاق میں ہے۔

About the author

Tariq Hasan