اردو | हिन्दी | English
209 Views
Politics

بنگلہ فلم ’ذوالفقار‘کی ریلیز سے مسلمانوں میں اضطراب ،ممتا سے فلم پر پابندی کا مطالبہ

mamta
Written by Tariq Hasan

کلکتہ26ستمبر (یو این آئی):مغربی بنگال کے سب سے بڑے تہوار درگا پوجا سے عین قبل 7اکتوبر کو سرجیت مکھرجی کی ریلیز ہونے والی فلم ”ذو الفقار”کی وجہ سے مسلمانوں میں سخت بے چینی اور ناراضگی ہے ۔آل مائناریٹی یوتھ فیڈریشن نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی ، بنگال کے جی ڈی پی اور دیگر اعلیٰ پولس افسران کو میمورنڈم پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس طرح کی متنازع فلم پر فوری پابندی عاید کی جائے کیوں اس کی وجہ سے نہ صرف مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوں گے بلکہ فرقہ وارانہ کشیدگی پھیل سکتی ہے ۔یو ٹیوب پر موجود ٹریلر کے مطابق کلکتہ شہر کے مسلم اکثریتی والے علاقہ خضر پور، مٹیا برج اور گارڈن ریچ کو ایک ایسا علاقے کے طور پر پیش کیا گیا جہاں نہ ملک کا قومی ترانہ چلتا ہے اور نہ ہی جھنڈا۔ اس فلم کے ذریعہ نہ صرف مسلمانوں کی حب الوطنی کو براہ راست چیلنج کیا گیا ہے بلکہ مسلمانوں کی شبیہ بھی داغدار کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔کچھ ایسی تصاویر دکھلائی گئی جس میں مسلمانوں کے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ہاتھ میں چاقو ہے ۔خیال رہے کہ مغربی بنگال میں درگا پوجا کاتہوار بہت ہی جوش و خر وش اور عقیدت سے منایا جاتا ہے ۔یہ تہوار نہ صرف مذہبی نقطہ نظر سے اہم ہے بلکہ اس موقع پر بنگالی قوام اپنی ثقافی و کلچر اور روایات کو بھی پیش کرتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بنگال سال بھر کہیں بھی ہو مگر درگا پوجا کا تہوار وہ کلکتہ میں آکر ضرور منانا چاہتا ہے ۔اس موقع پر ٹالی ووڈ (بنگالی سنیما)کئی فلیمیں ریلیز کرتی ہیں جو کارو باری لحاظ سے منافع بخش ہوتاہے ۔اس کے علاوہ درگا پوجاکا یہ تہوار مذہبی ہم آہنگی کا مظہر بھی ہوتا ہے ۔کلکتہ شہر کے سیکڑوں پوجا کمیٹیوں میں مسلمان بھی شامل ہوتے ہیں ۔حتی کہ فلم میں جن علاقوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے وہاں بھی درگا پوجا کے لئے پنڈال بنائے جاتے ہیں اور انتظامیہ مسلمان شامل ہوتے ہیں ۔فلم کے ڈائریکٹر سرجیت مکھرجی نے گرچہ یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فلم ذوالفقار کی کہانی شیکسپئر ویلیمس کی کہناپر پر مشتمل ہے ۔اور یہ ان پہلی کمرشیل فلم ہے ۔ایسے فلم سازوں کیلئے اپنی فلم کو مقبول اور منافع بخش بنانے کیلئے ”مسلمانوں” کو ویلن بناکر پیش کرنا سب سے زیادہ آسان رہا ہے ۔بالی ووڈ کئی فلمیں ہیں جس میں مسلمانوں کو جرائم پیشہ بناکر پیش کیا گیاہے ۔بالی ووڈ کی فلموں اور ٹی وی سیریل میں ہمیشہ ویلین مسلمان ہی ہوتا ہے ۔بنگالی فلم ”ذو الفقار کا مقصد بھی یہی ہے ۔اس کے ذریعہ ہندوستانی (اردو ۔ہندی)بولنے والے مسلمانوں کی شبیہ کو خراب کرکے پیش کیا جائے ۔بلکہ سرجیت مکھرجی کی فلم ”ذو الفقار” اس اعتبار سے سنگین ہے کہ اس میں مسلمانوں کو علاحدگی پسند اور جرائم پیشہ دونوں بناکر پیش کیا گیا ہے ۔فلم کے ٹریلر کی شروعات ہوڑہ برج اور درگاپوجا کے تہوار سے ہوتی ہے اس کے بعد اعلان ہوتا ہے کہ یہ پوجا اور ٹیگور کی سرزمین ہے اچانک ٹیگور کی تصویر پرخون آکر گرتا ہے اور اعلان ہوتا ہے یہاں ایک اور زمین ہے ۔اس کے بعدفلم میں بتایا جاتا ہے یہاں ایک اور سرزمین ہے جہاں نہ ہندوستانی قومی ترانہ گایا جاتا ہے اور نہ ہی یہاں ہندوستانی جھنڈا لہرایا جاتاہے ۔اس کے بعد محرم میں تعزیہ کی تصویر دکھلائی جاتی ہے جہاں بچے ہتھیار کے ساتھ ہیں ۔بیگ گراؤنڈ سے آواز آتی ہے یہ ڈگ علاقہ ہے (خضر پور ،مٹیا برج اور گارڈن ریچ )یہ سٹی آف جوائے کلکتہ اندر ایک شہر ہے جو قومی ترانہ اور قومی جھنڈا کے بغیر ہے ۔واضح رہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے کلکتہ میں آنے کے بعد انگریزوں نے یہاں ندی کے کنارے ہندوستان کا پہلا ڈگ تعمیر کیا ہے جو خضر پور کے قریب واقع ہے اور ہگلی ندی کے دوسری طرف گارڈن ریچ اور مٹیابرج واقع ہے ۔اس علاقے میں بہار، اتر پردیش اور جھار کھنڈ سے آئے مزدور طبقے کی ایک بڑی آبادی مقیم ہے اور ان کی یہاں دوسری نسل پرورش پارہی ہے ۔گرچہ یہ مسلم اکثریتی علاقہ ہے مگر اس کے باوجود یہاں ایک بری ہندؤں کی بھی ہے ۔یہاں پر 200سالہ قدیم بوکیلاش مدنر اور گوئنکا فیملی کا تعمیر کردہ لکشی مندر بھی موجود ہے ۔گرچہ فلم میں یہ دکھلایا گیا ہے کہ یہاں پر صرف مسلمان بستے ہیں جن کے بچوں کے ہاتھ میں بھی ہتھیار ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی کئی ایسے پوجا پنڈا ل ہیں جن کے انتظامیہ کمیٹی میں مسلم بھی شامل ہیں۔آل انڈیا مائناریٹی یوتھ فورم کے صدر قمرالزماں نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”ذوالفقار” نامی فلم اشتعال انگیز اور مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے والی ہے ۔اس طرح کی فلموں کی بنگال جیسی سرزمین جو ہمیشہ سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا گہوار ا رہا ہے میں کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ہم نے حکومت اور پولس انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ اس فلم کے ریلیز ہونے پر روک لگائی جائے ۔اس سے شہر میں فرقہ وارانہ ماحول خراب ہوسکتا ہے ۔

About the author

Tariq Hasan