اردو | हिन्दी | English
373 Views
Politics

تیش کمار کے نام ایک مظلوم لڑکی کے بھائی کا کھلا خط ، پڑھئے کیا ہے درد بھری کہانی

IMG-20151115-WA0016

Posted on: Sep 04, 2016 09:37 PM IST | Taasir News Network

بدن خراب کردیا ہے۔ کیا میں آپ سے بات کرسکتا ہوں ؟۔ ہاں! ۔۔ مجھے کرنا چاہئے ۔۔۔۔۔ آپ سے نہیں کروں گا ، تو کس سے کروں گا ؟کیا یہاں شریفوں کا جینا محال ہے؟ ۔۔۔۔ ایک عام انسان کا اطمنان و سکون کے ساتھ رہنا ، اتنا دشوار ہے کہ نویں جماعت میں پڑھنے والی ایک بہن(عمر14 سال )پر تیزابی حملہ ہوئے تین مہینے ہو گئے اور سرکار کا رویہ اس کو ضروری سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

محترم !کاش کہ آپ اس درد کو قریب سے محسوس کر پاتے ، جو میری بہن تقریبا تین مہینے سے جھیل رہی ہے۔کا ش کہ آپ اس تیزاب کی آگ میں اس کے ساتھ ساتھ میرے پورے خاندان کو جلتے ہوئے دیکھ پاتے۔ کاش کہ آپ میری ماں کا تڑپتا ہوا دل اور والد کے بکھرتے ہوئے سپنے دیکھ پاتے ۔ کا ش کہ آپ میری بہنوں کے روتی ،بلکتی ،ڈری اور سہمی ہوئی آنکھیں دیکھ پاتے جو اسکول جانے کے نام سے اس قدر ڈر سے کانپنے لگتی ہیں کہ کہیں کوئی ظالم ان پر بھی تیزابی حملہ نہ کردے ۔ آپ نے یہ سب کیوں نہیں دیکھا ؟؟؟؟ آپ کو دیکھنا چاہئے ۔۔۔۔۔ آپ کو یہ سب دیکھنا ہی ہوگا

ہندوستانی کو یہ جرم کرنا چاہئے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ اس کی سزا بہت بھیانک ہے بہت ہی درد ناک ہے اور وہ یہ کہ کوئی بھی ظالم شخص ماں بہنوں پر تیزاب سے حملہ کرکے ان کی زندگی برباد کردے گا اور قانون ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ پائے گا۔۔۔۔۔۔؟آپ کی خاموشی سے تو یہی پیغام جارہاہے نامحترم۔۔۔۔۔۔

کیا یہ سچ نہیں کہ متاثرہ کے ساتھ ساتھ پوراخاندان اس ہولناک آگ میں جلتا ہے کبھی ہاسپیٹل کا چکر ،کبھی کورٹ کچہری کا چکر تو کبھی سرکاری امداد کی اپیل کرتا پھرتا ہے لیکن ایک دن ایسا آتا ہے کہ تھک ہار کر اپنی موت مرنے اور خودکشی کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور اپنی قسمت کو کوستا ہے۔شراب پر پابندی لگانے میں آپ کامیاب ہو گئے لیکن آ پ کے اقتدار میں لڑکیوں کی عزت وآبرو اور ان کے تحفظ کا یہ حال ہے کہ کوئی بھی پامال کر دیتا ہے اور کوئی کچھ بھی نہیں کہتا،کوئی سوال نہیں کرتا ،سچ کہا تھا کسی نے کہ جو سوال نہیں کرتے وہ بیوقوف ہیں ،جو سوال کرنا نہیں چاہتے وہ بزدل ہیں اور جن کے ذہن میں سوال آتا ہی نہیں وہ آج بھی غلام ہیں۔۔۔۔۔۔؟محترم یہ حقیقت ہے کیوں کہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ حادثہ ہمارے گھر اور خاندان میں نہیں ہوتا تو ہم اور آ پ بڑی آسانی سے کہہ دیتے ہیں ہمیں کیا کرنا!!! !ہمارا کیا مطلب!!!اس طرح کے جملے ہم کہنے میں بالکل بھی نہیں جھجھکتے لیکن یہی سارے جملے ان ظالموں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں پھر وہ اس جرم کا ارتکاب با ر بارکرتے ہیں۔

محترم وزیر اعلی !تھوڑی دیر کے لئے آپ کویہ سوچنا ہوگا کہ میری بہن آ پ کی بھی بہن ہے تو کیا تب بھی آپ اس کو بے سہارا چھوڑدیتے؟؟؟کیا تب بھی آپ کی عدالت جرم پہ اکسانے والوں کو بیل دیدیتی جبکہ بستر مر گ پر پڑی میری بہن کی ایک ایک آہ اور سسکیاں انصاف کی گہار لگا رہی ہیں۔

محترم ! میں اس بات کا فیصلہ معاشرہ اور ہندستانیوں پر چھوڑتا ہو ں اور آپ سے سوال کرتا ہوں کہ کیا ہمیں انصاف کی امید چھوڑدینی چاہئے؟کیا ہمیں اس سرکاری امداد کی بھی امید چھوڑدینی چاہئے جس کا اعلان حملہ کے بعد کیا گیاجبکہ تین مہینے ہونے کو ہیں اور آج تک ہم اس سے محروم ہیں۔

محترم !آ پ جواب دیجئے کہ کیا ہم بھیک مطالبہ کر رہے ہیں کہ سرکار اس میں سستی کا مظاہرہ کررہی ہے۔کیا ہم نے آپکوکرسی اقتدار اس لئے سونپی تھی کہ ضرورت کے وقت آپ ہماری مدد کو نہ پہونچے ۔کیا ہم نے آپ کو صوبہ کا مالک اس لئے بنایا تھا کہ آ پ تک پہونچنا ہما را ہی مشکل ہوجائے۔

سنئے !!!ہا ں!! سننا پڑیگا آپ کو۔۔۔۔؟ کیوں کہ اس درد کا اظہارہم آ پ کے سامنے نہیں کرینگے تو پھر کون ہماری آواز سنے گا ؟

جواب دیجئے کہ میری بہن تقریبا تین مہینے سے ہاسپیٹل میں موت اور زندگی کی جنگ لڑرہی ہے ہے۔اس کی تعلیم،اس کا قیمتی وقت ،اس کی زندگی اور اسکے خاندان کی زندگی کی تباہی کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟ان ہاتھوں کو آپ کاٹ کیوں نہیں دیتے جو کسی بھی ماں بہن کی طرف اٹھتے ہیں۔محترم !!!! آپ خاموش کیوں ہیں۔۔۔؟آپ بولئے کہ میرے خاندان کی تباہی کے نقصان کی تلافی کو ن کرے گا؟میری بہنوں کی ڈری سہمی سی آنکھوں میں امید کی کرن کون جگائے گا ؟مجھے یقین ہے کہ ان کی آہیں اور فریاد آپ کو چپ نہیں بیٹھنے دیں گی ۔۔۔۔!!

کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ہماری اچھی خاصی زندگی اچانک سے رک گئی ہے،کیا ہم اس زمانے کی رفتار سے بہت پیچھے نہیں چلے گئے۔ایک مظلوم کا بھائی آ پ سے آپ کے بیٹے کی حیثیت سے سوال کررہا ہے اور اس وقت تک کرتا رہے گا جب تک کہ ہمیں انصاف نہیں مل جاتا۔۔۔!!یہ سب کچھ جاننے کے بعد اب بھی آپ کے سینے میں درد نہ اٹھے اور آپ خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہوں تو۔۔۔۔تعجب ہے!!!!!!!!

منظر امن

ایک مظلوم کا بھائ

About the author

Dr.Mohammad Gauhar

Chief Editor - Taasir