اردو | हिन्दी | English
352 Views
Politics

کشمیر میں پیلٹ گن کا استعمال بند ہوگا

RAJNATH
Written by Tariq Hasan

نئی دہلی، 3 ستمبر (یو این آئی):وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پیلٹ گن کے متبادل کے طور پر مشتعل بھیڑ کو قابو میں کرنے کیلئے مرچ پاؤڈر بھرے گرینیڈ کے استعمال کو منظوری دی ہے۔وزیر داخلہ نے یہ منظوری اپنی قیادت میں کل جماعتی وفد کے کشمیر کے دورے سے ٹھیک پہلے دی ہے۔ادھر وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی قیادت میں وادی کشمیر کے دورے پر جانے والے کل جماعتی وفد کی آج یہاں میٹنگ ہوئی جس میں وہاں مختلف گروپوں کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے ایجنڈا پر بات کی گئی۔مسٹر سنگھ کی صدارت میں 20 سیاسی جماعتوں کے 30 ارکان کا وفد صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے کل وادی روانہ ہوگا ۔ گذشتہ آٹھ جولائی کو حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر برہان وانی کے سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں مارے جانے کے بعد احتجاجی مظاہروں اور تشدد میں اب تک تقریبا 70 لوگ مارے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ وادی کے مختلف علاقوں میں 50 سے سے زائد دن کرفیو لگا ہوا ہے ۔ اس میٹنگ میں حکومت نے تمام ارکان کو پانچ صفحات پر مشتمل ایک دستاویز دیا جس میں احتجاج شروع ہونے کے بعد سے اب تک کی صورت حال اور مختلف واقعات کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ وزارت داخلہ کے حکام نے بھی وفد کو وادی کے موجودہ حالات کی اطلاع دی۔وفد وہاں دو دن رہے گا اور جموں و کشمیر کے گورنر این این ووہرا اور وزیر اعلی محبوبہ مفتی سے ملاقات کرے گا۔ وہ تمام سیاسی جماعتوں، ٹریڈ یونینوں، سول سوسائٹی کے ارکان اور دیگر وفود کے ارکان کے ساتھ بھی وادی میں امن کی بحالی کے اقدامات پر تبادلہ خیال کرے گا۔میٹنگ کے بعد مسٹر سنگھ نے نامہ نگاروں سے کہا، ”کل جماعتی وفد کشمیر میں مختلف گروپوں سے ملے گا اور واپس لوٹنے کے بعد پھر ملاقات کرکے تمام تجاویز پر بات چیت کریں گے ۔ اس کے بعد حکومت آگے قدم اٹھایے گی”۔دریں اثنا مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے لیڈر سیتارام یچوری نے کہا ہے کہ علیحدگی پسند تنظیم حریت کانفرنس کے رہنماؤں کو بھی بات چیت کے لئے بلایا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران اعتماد سازی کے کچھ اقدامات کا بھی اعلان کیا ہونا چاہئے کیونکہ کچھ ٹھوس کام کرنا ضروری ہے ۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد نے آج کہا کہ وادی میں کل جماعتی وفد بھیجنے کا اپوزیشن کا مطالبہ پورا ہو گیا ہے ۔ اس گروپ میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے رکن ہوں گے اور انہیں یقین ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں سے ملاقات ہوگی اور ایسے اقدامات کئے جائیں گے جن سے حالات ٹھیک ہو سکیں۔ آل انڈیا مجلس اتحاد مسلمین کے رہنما اسدالدین اویسی نے کہا کہ ویسے یہ حکومت طے کرے گی کہ وفد کس کس سے ملے گا لیکن ان کی رائے ہے کہ علیحدگی پسند لیڈروں سمیت تمام فریقوں سے بات چیت کی جانی چاہئے ۔ گذشتہ ہفتہ محترمہ محبوبہ مفتی نے یہاں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کر وادی کی صورت حال پر بات چیت کی تھی۔ گذشتہ 13 اگست کو مسٹر مودی کی صدارت میں کل جماعتی وفد سے ملاقات میں بھی اس معاملے پر بحث ہوئی۔ اس کے بعد 22 اگست کو ریاست کے اپوزیشن جماعتوں کے وفد نے بھی مسٹر مودی سے ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں میں مسٹر مودی نے وادی میں کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ۔ تمام گروپ سے مل کر امن بحالی کی سمت میں کام کرنے کی اپیل کی۔

About the author

Tariq Hasan