اردو | हिन्दी | English
237 Views
Indian

کشمیر میں79ویں دن کرفیو کلی طور پر ختم

kashmir
Written by Tariq Hasan

سری نگر ، 25 ستمبر (یو ا ین آئی) وادی کشمیر میں گزشتہ 79 روز میں پہلی مرتبہ اتوار کو کسی بھی حصے میں کرفیو نافذ نہیں رہا۔ تاہم دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت وادی کے تمام بڑے قصبہ جات اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی بدستور جاری رکھی گئی ہے ۔اس دوران علیحدگی پسند قیادت کی طرف سے ہڑتال میں دی گئی ڈھیل کے مطابق گرمائی دارالحکومت سری نگر کے علاوہ وادی کے دیگر 9 اضلاع میں اتوار کو ٹھیک دوپہر دو بجے دکانیں اور تجارتی مراکز کھل گئے اور سڑکوں پر ٹریفک کی روانی بحال ہوئی۔علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک جنہوں نے وادی میں جاری ہڑتال میں 29 ستمبر تک توسیع کا اعلان کر رکھا ہے ، نے آج کپواڑہ، رفیع آباد، بانڈی پورہ، خانصاحب، گاندربل، سری نگر، ترال، کولگام، شوپیان اور ڈورو تک آزادی مارچ نکالنے کی کال دی تھی۔ تاہم گزشتہ اڑھائی ماہ میں پہلی مرتبہ اپنے احتجاجی کلینڈر میں نرمی برتتے ہوئے انہوں نے آج دوپہر دو بجے سے پیر کی چھ بجے صبح تک ہڑتال میں ڈھیل کا اعلان کیا تھا۔ سری نگر کے سیول لائنز میں دوپہر کے دو بجتے ہی دکانیں کھل گئیں اور مختلف اشیاء فروخت کرنے والے چھاپڑی فروش سڑکوں پر نمودار ہوئے ۔ یو این آئی کے ایک نامہ نگار نے بتایا کہ شہر کا قلب کہلائے جانے والے تاریخی لال چوک اور اس سے ملحقہ تجارتی مراکز بشمول بڈشاہ چوک، ریگل چوک، مولانا آزاد روڑ، ریذیڈنسی روڑ، ککر بازار، گونی کھن مارکیٹ، مہاراجہ بازار اور مائسمہ میں جو دکانیں اتوار کو بند رہتی تھیں، وہ بھی آج دوپہر دو بجے کھل گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ اڑھائی ماہ میں پہلی مرتبہ ریڈیو کشمیر کراسنگ سے ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ پر ہر اتوار کو لگنے والا مشہور سنڈے مارکیٹ کھل گیا۔ انہوں نے بتایا کہ سستی قیمتوں کے لئے مشہور اس مارکیٹ میں آج سینکڑوں کی تعداد میں تاجروں نے اپنے اسٹال لگائے تھے ، تاہم عام دنوں کے مقابلے میں بہت ہی کم گاہکوں نے اس مارکیٹ کا رخ کیا۔سری نگر کے سب سے حساس مانے جانے والے پائین شہر میں بھی آج دوپہر دو بجے کے بعد کاروباری زندگی بحال ہوئی۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق وادی کے دیگر اضلاع میں بھی علیحدگی پسند قیادت کے کہنے پر ٹھیک دوپہر دو بجے دکانیں اور تجارتی مراکز کھل گئے ، تاہم ان اطلاعات کے مطابق پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب ہی رہا۔اطلاعات کے مطابق وادی کے کچھ ایک علاقوں میں ہڑتال میں ڈھیل کے دوران بھی دکانیں نہیں کھلیں۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ وادی کی صورتحال میں مزید بہتری آنے کے پیش نظر آج وادی کے کسی بھی علاقہ میں کرفیو نافذ نہیں رہا۔انہوں نے بتایا کہ امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے بڑے قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت پابندیاں جاری رکھی گئی ہیں۔ تاہم پولیس ذرائع کے دعوے کے برخلا ف کئی ایک علاقوں کی زمینی صورتحال بالکل مختلف نظر آئی۔ ایسے علاقوں میں سڑکوں کو خاردار تار سے بند رکھا گیا ہے جبکہ ان علاقوں میں تعینات سیکورٹی فورس اہلکار لوگوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کے لئے کہہ رہے تھے ۔ یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے اتوار کی صبح پائین شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا، نے بتایا کہ کچھ ایک علاقوں میں سڑکوں کو خاردار تار سے بدستور بند رکھا گیا ہے ۔ نوہٹہ میں واقع تاریخی جامع مسجد کے باب الداخلے بدستور بند رکھے گئے ہیں جبکہ جامع مارکیٹ کے اندر اور باہر سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکار تعینات رکھے گئے ہیں۔ تاہم نوہٹہ کی بنیادی سڑک کو گاڑیوں اور راہگیروں کی نقل وحرکت کے لئے کھول دیا گیا ہے ۔ نالہ مار روڑ جس کو کچھ ایک مقامات پر خاردار تار سے بند سیل رکھا گیا ہے ، پر سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکار تعینات رکھے گئے ہیں۔ سیکورٹی فورسز کو رعناواری، خانیار، نوہٹہ، رانگر اسٹاپ، راجوری کدل، ملہ رٹہ، نواح کدل، عالی کدل، نواح کدل، بوہری کدل اور صفا کدل میں بھی بھاری تعداد میں تعینات رکھا گیا ہے ۔دریں اثنا شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ میں علیحدگی پسندوں کی طرف سے دی گئی ‘عیدگاہ چلو’ اور ‘آزادی کانفرنس’ کال کو ناکام بنانے کے لئے کرفیو جیسی پابندیاں نافذ رہیں۔ اگرچہ سیکورٹی عہدیداروں نے بتایا کہ بانڈی پورہ میں صرف دفعہ 144 کے تحت پابندیاں جاری رکھی گئی ہیں، لیکن وہاں کے سبھی علاقوں کی زمینی صورتحال بالکل مختلف تھی۔ عیدگاہ قاضی پورہ کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو خاردار تار سے سیل کیا گیا تھا جبکہ لوگوں کو ایک جگہ جمع ہونے سے روکنے کے لئے سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکار تعینات کئے گئے تھے ۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ مجوزہ کانفرنس سے مختلف مذہبی اور علیحدگی پسند رہنما خطاب کرنے والے تھے ۔

About the author

Tariq Hasan