اردو | हिन्दी | English
187 Views
Politics

اکھلیش ہی ہوں گے سی ایم کے امیدوار

akhiles
Written by Tariq Hasan

لکھنؤ، 17 اکتوبر (یواین آئی) سماج وادی پارٹی (ایس پی) نے ریاستی اسمبلی کے آئندہ انتخابات میں اکھلیش یادو کو وزیر اعلی کے عہدے کے امیدوار کے طور پر اعلان کے ساتھ ہی پارٹی میں جاری گھمسان کو آج روکنے کی کوشش کی۔ پارٹی جنرل سکریٹری اور پارلیمانی بورڈ کے رکن کرن مے نندا نے یہاں واضح کیا کہ اکھلیش یادو ہی وزیر اعلی کے لئے پارٹی کا چہرہ ہوں گے ۔ مسٹر نندا نے کہا کہ میڈیا نے ملائم سنگھ یادو کے بیان کا صحیح مطلب نہیں نکالا تھا۔ مسٹر نندا کا کہنا تھا کہ میڈیا نے پارٹی سربراہ ملائم سنگھ یادو کے بیان کا غلط مطلب نکالا جس سے بلا وجہ غلط فہمی پیدا ہوئی ۔ انہوں نے وزیر اعلی کو منتخب کرنے کے عمل کا ذکر کیا تھا نہ / نہ کہ یہ کہا تھا کہ اکھلیش یادو وزیر اعلی کا چہرہ نہیں ہوں گے ۔ گذشتہ 14 اکتوبر کو ملائم سنگھ یادو نے نامہ نگاروں سے کہا تھا کہ انتخابات کے بعد پارٹی اراکین لیڈر منتخب کریں گے ۔ ملائم سنگھ یادو کی پریس کانفرنس میں ان کے بھائی اور آب پاشی کے وزیر شیو پال سنگھ یادو بھی موجود تھے . اس سے پہلے اکھلیش یادو نے تنہا انتخابی مہم چلانے اور بچپن میں اپنا نام خود رکھ لینے جیسے بیان دے کر پارٹی اور اس کے باہر کھلبلی مچا دی تھی۔ مسٹر یادو کی پریس کانفرنس کے بعد پارٹی جنرل سکریٹری اور ممبر پارلیمنٹ رام گوپال یادو نے اکھلیش یادو کو وزیر اعلی کے چہرے کے طور پر پیش کرنے کی سخت وکالت کرتے ہوئے پارٹی صدر کو تلخ خط لکھا تھا۔ انہوں نے لکھا تھا کہ ایس پی کا اگر زوال ہوا تو اس کے لئے صرف آپ ہی ذمہ دار ہوں گے ۔ پرو فیسر یادو نے سماج وادی پارٹی صدر کو بھیجے خط میں کہا تھا، “پارٹی بنانے کے لئے جو عوام آپ کی پوجا کرتے ہیں وہی عوام پارٹی کا زوال ہونے پر آپ کو اور صرف آپ کو مجرم ٹھھرائیں گے ۔ تاریخ کسی کو بخشتی نہیں ہے ۔ ” مسٹر یادو نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ “وزیر اعلی کے عہدے کا چہرہ ہر حال میں اکھلیش یادو کو بنانا چاہئے ۔ ایس پی کو آپ نے بڑی محنت سے بنایا ہے ۔ پارٹی چار بار اقتدار میں بھی پہنچی۔ پچھلی بار کسی دیگر پارٹی کی حمایت کی ضرورت بھی نہیں پڑی۔” پروفیسر رام گوپال یادو کا خط کل عام ہوگیا ا اور آج پارٹی جنرل سکریٹری مسٹر نندا کے بیان سے واضح ہو گیا کہ پارٹی تنازعات سے نکلنا چاہتی ہے ۔ اس بیان کو صلح صفائی کے طور بھی دیکھا جا رہا ہے ۔

About the author

Tariq Hasan