اردو | हिन्दी | English
590 Views
Indian

یکساں سول کوڈ ملک کے مفاد میں نہیں : مسلم پرسنل لاء

maulana-wali-rahmani
Written by Tariq Hasan

نئی دہلی ،13اکتوبر(یو این آئی)ایک ساتھ تین طلاق ختم دیکھنے کی حکومت کی خواہش پر لا ء کمیشن آف انڈیا کی طرف سے ملک میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے تعلق سے عوام کی رائے جاننے کے لئے جاری کردہ سوالنامے کو جمعیت علمائے ہند ، مسلم پرسنل لا بورڈ اور دوسری مسلم تنظیموں نے آج قطعی جانبدارانہ ،بد نیتی پر مبنی او رناقابل عمل قرارا دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔یہاں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں ملک کی تمام سرکردہ مسلم تنظیموں نے اس سوالنامہ کے بائیکاٹ کے فیصلے کے ساتھ اعلان کیا کہ اس کے خلاف ملک بھر میں رائے عامہ ہموار و بیدار کی جائے گی۔ کانفرنس کو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈکے جنرل سکریٹری مولانامحمد ولی رحمانی اور جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے خطاب کیا۔مولانا ولی رحمانی نے اس استدلال کے ساتھ کہ لاء کمیشن کے سوالنامے میں غلط رہنمائی کرکے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے الزام لگایا لا کمیشن نے حکومت کے ایما پر یہ قدم اٹھا یا ہے جس میں اقلیتوں کے آئینی حقوق کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔سوالنامے میں جانبداری کی جھلک واضح طور پر نظر آرہی ہے ۔”اس لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اس سوالنامہ کا بائیکاٹ کریں گے اور کوئی مسلمان اس کا جواب نہیں دے گا۔ یہ ملک گنگا جمنی تہذیب کا ملک ہے اور یہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے اور مختلف تہذیب وثقافت والے لوگ رہتے ہیں ۔ اس لئے یکساں سول کوڈ اس ملک کے لئے قطعی مناسب نہیں ہے ۔اس ملک کے تمام عوام پر ایک ہی سوچ ااور نظریہ کومسلط نہیں کیا جا سکتا۔ یکساں سول کوڈ کے نفاذ میں زبردستی کی گئی تو یہ ملک کو توڑنے والا اقدام ہوگا ”۔ مولانا رحمانی نے کہا کہ دراصل مودی حکومت کے پاس کوئی حصولیابی نہیں ہے اس لئے عوام کا دھیان بھٹکانے کے لئے یہ شوشہ چھوڑا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مودی سے سرحد تو سنبھالی نہیں جا رہی ہے اور ملک کے اندر ایک نئی جنگ چھیڑ دی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تین طلاق کے ایشو پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اپنا موقف حلف نامہ کے ذریعے سپریم کورٹ میں پیش کر چکا ہے ۔ مسلم معاشرہ میں خواتین کے استحصال سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مودی جی تو خود اپنے گھر میں استحصال کر رہے ہیں ۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک سے زیادہ شادیوں اور طلاق کا رواج مسلمانوں میں نسبتاًکم ہے ۔ ا س بات کی وضاحت 2011کی مردم شماری کی رپورٹ میں ہوچکی ہے ۔جمعتہ علما ہند کے صدر مولانا سیدارشد مدنی نے کہا کہ ہمیں لا ء کمیشن کا سوالنامہ قطعی نا منظور ہے ”ہمارا پرسنل لا ء قرآن اور حدیث ہے اور وہی ہمارا دستور ہے ،جس میں قیامت تک کوئی تبدیلی یا ترمیم نہیں ہو سکتی”۔مولانا مدنی نے کہا کہ مسلمان اس ملک میں ایک ہزارسال سے اپنے پرسنل لا ء پر ہی عمل کرتے آرہے ہیں۔ اچانک ایسا کیا ہوگیا کہ یہ حکومت اقلیتوں کو ان کے پرسنل لا ء سے محروم کرنے پر تل گئی ہے ۔ اقلیتوں کے اپنے اپنے پرسنل لا ء پر عمل کرنے سے ملک کے اتحاد و یکجہتی کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا البتہ ملک میں یکساں سول کوڈ نافذ ہوتا ہے تو مسلمانوں کی شناخت ہی ختم ہو جائے گی اس لئے مسلمان یکساں سول کوڈ کے نفاذ کوکسی قیمت پر منظور نہیں کر سکتے ۔مولانا نے یہ دعوی کرتے ہوئے کہ موجودہ حکومت کی نیت خراب ہے لاء کمیشن کے قائم کردہ سوالنامہ کے تعلق سے کہا کہ چونکہ غیرمسلم یعنی ہندوؤں کی تعداد مسلمانوں کے مقابلہ بہت زیادہ ہے اس لئے زیادہ جواب بھی یکساں سول کوڈ کے حق میں ہی آئیں گے اور لاء کمیشن یہی چاہتا ہے کہ وہ اکثریت کی رائے بتا کر یکساں سول کوڈ کے حق میں اپنی رائے دے دے جوکہ ملک کی اقلیتوں کے ساتھ سراسر نا انصافی ہوگی۔مولانا مدنی نے کہا کہ وہ حکومت اور لاء کمیشن کے اس اقدام کے خلاف ملک بھر میں مہم چلائیں گے اور اس کی شروعات آج ہی لکھنؤ سے کر دی جائے گی۔اس موقع پر مہتمم دارالعلوم دیوبند مولانا ابوالقاسم نعمانی ،قاری محمد عثمان منصورپوری صدرجمعیۃعلماء ہند ، مولانا محمودمدنی جنرل سکریٹری جمعیۃعلماء ہند ، آل انڈیا جمعیۃ اہل حدیث کے ناظم عمومی مولانا اصغر امام مہدی سلفی اورجماعت اسلامی کے سابق نائب امیر محمد جعفرنے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر موجود دیگر معززین میں آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر منظور عالم ، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن ڈاکٹرقاسم رسول الیاس کے علاوہ بورڈ کی کئی خواتین اراکین نے شرکت کی ۔ پروگرام کی نظامت کمال فاروقی نے کی۔

About the author

Tariq Hasan