کھیل

آٹھ سال بعد پارتھیو کی ٹیم میں واپسی

Profile photo of Dr.Mohammad Gauhar
Written by Dr.Mohammad Gauhar

نئی دہلی، 23 نومبر (یو این آئی) آٹھ سال کے طویل وقفے کے بعد جا کر وکٹ کیپر بلے باز پارتھیو پٹیل کا ہندوستانی ٹیم کی جرسی دوبارہ پہننے کا خواب پورا ہونے جا رہا ہے اور وہ انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ کیلئے زخمی ردھیمان ساہا کی جگہ لیں گے ۔پارتھیو نے آخری بار آٹھ سال پہلے قومی ٹیم کے لئے اپنا آخری ٹیسٹ میچ کھیلا تھا جبکہ چار سال پہلے اپنا آخری بین الاقوامی میچ کھیلا تھا۔ موجودہ وکٹ کیپر ساہا زخمی ہونے کی وجہ سے اگلے میچ کا حصہ نہیں ہوں گے اور ان کی جگہ تجربہ کار وکٹ کیپر بلے باز پارتھیو کو ٹیم میں واپس بلایا گیا ہے ۔ ساہا کو وشاکھا پٹنم میں دوسرے ٹیسٹ کے دوران بائیں ران میں چوٹ لگی تھی۔ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) نے بدھ کے روز یہ اعلان کیا۔ موہالی میں 26 سے 30 نومبر تک ہونے والے تیسرے میچ کے لیے ٹیم کے اعلان کے 15 گھنٹے بعد پارتھیو کا ساہا کی جگہ انتخاب کیا گیا ہے ۔ اس سے پہلے منتخب کی گئی ٹیم میں صرف ایک ہی تبدیلی کی گئی تھی جس میں گوتم گمبھیر ٹیم سے باہر ہوئے تھے اور تیز گیند باز بھونیشور کمار کو ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔بی سی سی آئی نے اپنے بیان میں کہا ” احتیاطاًساہا کو اگلے میچ سے باہر رکھا گیا ہے تاکہ وہ کچھ آرام کر سکیں۔ پارتھیو اس میچ میں ساہا کی جگہ لیں گے ”۔31 سالہ پارتھیو نے سری لنکا کے خلاف کولمبو میں سال 2008 میں اور سری لنکا کے خلاف برسبین میں سال 2012 میں آخری بار ون ڈے انٹرنیشنل میچ میں ہندوستان کی نمائندگی کی تھی۔ سال 2002 میں 17 سال کی عمر میں کرکٹ میں قدم رکھنے والے پارتھیو ٹیسٹ میں اترنے والے سب سے نوعمر وکٹ کیپر بنے تھے لیکن موجودہ ٹیم میں وہ دوسرے سب سے زیادہ عمر والے کھلاڑی ہوں گے ۔پارتھیو ایک تجربہ کار وکٹ کیپر ہونے کے ساتھ ہی بائیں ہاتھ کے بلے باز بھی ہیں اور اسی لئے سلیکٹروں نے انہیں 19 سالہ رشبھ پنت پر ترجیح دی ہے ۔ رشبھ نے اس سیشن میں دہلی کے لیے رنجی ٹرافی میچ میں ٹرپل سنچری بنائی تھی اور رنجی میں 48 گیندوں میں سب سے تیز سنچری کا ریکارڈ بھی بنایا تھا۔ہندوستانی ٹیم میں ساہا کی جگہ پر کرنے کے لئے دوسرے دعویدار میں مدھیہ پردیش کے نمن اوجھا بھی اہم سمجھے جا رہے تھے لیکن اوجھا زخمی ہونے کی وجہ سے رنجی سیشن کے شروع میں نہیں کھیل سکے تھے لیکن انہوں نے ایم پی کے لئے آخری میچ کھیلا تھا۔ اس کے علاوہ تمل ناڈو کے دنیش کارتک نے بھی حال میں گھریلو کرکٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اور وہ دعویداروں میں شامل تھے ۔پارتھیو نے سال 2016-17 کے رنجی سیشن میں گجرات کے لئے اچھی شروعات کی تھی۔ انہوں نے آٹھ اننگز میں 59.28 کی اوسط سے 415 رن بنائے تھے جس میں ایک سنچری اور ایک نصف سنچری بھی شامل ہیں۔ وکٹ کیپر بلے باز نے مدھیہ پردیش کے خلاف گزشتہ رنجی میچ میں سنچری بنائی تھی۔ ان کی 170 گیندوں میں ناٹ آ¶ٹ 139 رن کی اننگز کافی اہم رہی تھی۔بی سی سی آئی افسر نے کہا ”پارتھیو کو ان کے موجودہ فارم اور وکٹ کیپگ کی بنیاد پر منتخب کیا گیا ہے ۔ وہ بائیں ہاتھ کے اہم بلے باز بھی ہیں جبکہ انگلینڈ کے پاس لیگ اسپنر اور بائیں ہاتھ کے اسپنر عادل راشد اور ظفر انصاری ہیں۔ ایسے میں کسی بائیں ہاتھ کے کھلاڑی کی ٹیم میں موجودگی سے ہمیں فائدہ ملے گا”۔انہوں نے کہا ”نمن زخمی ہیں اور وہ اس سال رنجی کے ابتدائی تین سے چار میچوں میں بھی نہیں کھیل سکے ۔ اگر کیپنگ کی بات کریں تو پارتھیو کا تجربہ دنیش کارتک سے زیادہ ہے اور ان دونوں میں پارتھیو کا پلڑا زیادہ بھاری تھا۔ اوورآل وہ ٹیم کی ضرورت کے لحاظ سے سب سے مناسب کھلاڑی ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں پارتھیو کی کیپنگ میں بھی کافی بہتری آئی ہے ”۔بی سی سی آئی افسر نے کہا کہ فی الحال پارتھیو کس نمبر پر بلے بازی کریں گے یہ ابھی طے نہیں ہے ۔ یہ ٹیم مینجمنٹ پر منحصر کرے گا کہ انہیں ضرورت کے لحاظ سے کس نمبر پر اتارا جائے ۔ پارتھیو نے سال 2002 میں انگلینڈ میں اپنا پہلا میچ کھیلا تھا اور اب تک ٹیم کیلئے 20 ٹیسٹ ہی کھیلے ہیں جس میں انہوں نے 29.68 کے اوسط سے 683 رنز بنائے ہیں۔ اس کے علاوہ 41 کیچ اور آٹھ اسٹمپ کئے ہیں۔

About the author

Profile photo of Dr.Mohammad Gauhar

Dr.Mohammad Gauhar

Chief Editor - Taasir

Skip to toolbar