Uncategorized

اردو ہماری ساجھی سنسکرتی کی علامت ہے:ڈی ایم

Written by Dr.Mohammad Gauhar

جموئی 13 نو مبر( ڈاکٹرمعصو م رضا)اردو ڈائریکٹوریٹ ،محکمہ کابینہ سکریٹریٹ کے تعاون سے ضلع کلکٹریٹ واقع سنواد بھون میں اردو ملازمین کی صلاحیت سازی اور ضلع کے دیگر اردو ملازمین و افسران میںاردو کی اہمیت وافادیت کاپیغام پہنچانے کیلئے ایک رو ز ہ ورکشاپ کا انعقاد کیاگیا۔برو ز سنیچر کے رو ز ورکشاپ کاافتتاح ڈی ایم ڈاکٹر کوشل کشور نے کیا ۔اپنے افتتاحی خطاب میں ڈی ایم نے کہاکہ اردو کے الفاظ سنتے ہی میرے دل ودماغ میں لکھنو¿ کا ماحول چھاجاتاہے اور وہاں کی زبان میرے کانو ں میں گونجنے لگتی ہے ۔ڈی ایم نے اردو کے تئیں عوامی سطح پر چھائی سرد مہری پر افسو س کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ اردو ہماری تہذیب کا حصہ اور ہماری ساجھی سنسکرتی کی علامت ہے ۔انگریزی کے طوفان سے اپنی زبان کو بچانے کیلئے ضروری ہے کہ اردو کو بھی رو زی روٹی سے جوڑا جائے اور اسکے استعمال کادائرہ ایلیٹ طبقہ کی چہار دیواری سے نکال کرکھیت کھلیہانو ں تک بڑھایا جائے ۔انہوں نے ورکشاپ کے تمام شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اردو ہماری ریاست کی دو سری سرکاری زبان ہے ۔اس زبان کوپروان چڑھانا بہارکے تمام لوگو ں کی اخلاقی وہ شہری ذمہ داری ہے ۔ ورکشاپ کے موقع سے منعقد پرو گرام کی صدارت کررہے سینئرایڈوکیٹ اور مجاہد اردو ڈاکٹر معصوم رضا امرتھوی نے کہاکہ ہم لوگوں کو یہ عہد کر نا چاہئے کہ سرکاری عمارتو ں ، سڑکوں ، دفترو ں اوراسکولوں ،کالجوں کے سائن بورڈ کے ساتھ ساتھ ضلع کے تمام افسران کے ناموں کی تختیاں ہندی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی ہرجگہ نظر آئیں۔ڈاکٹر معصوم نے حکومت بہارکی جانب سے پورے بہارمیں اردو کے نفاذ کے سلسلے میں چلائی جارہی بیداری تحریک کیلئے وزیر اعلیٰ نتیش کمار، متعلقہ محکمہ کے سکریٹری برجیش مہرو ترا اور اردو ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر امتیاز احمد کریمی اوران کے تمام رفقائے کار کا شکریہ ادا کر تے ہوئے یہ یقین دلایا کہ جموئی کے سبھی باشعور ہندو اورمسلمان حکومت کی اس بیداری تحریک کے ساتھ ہے اور تمنا رکھتے ہیں کہ ضلع کلکٹریٹ سے لیکر کھیت کھلیہانو ںتک ہندی اور اردو جڑوا ںبہنوں کی طر ح ایک ساتھ نظر آئیں۔اس موقع پر معروف معالج ڈاکٹر ایس این جھانے کہاکہ میں اپنے ان چند دوستو ں کامیں حددرجہ ممنون ہو ں جنہو ں نے مجھے اردو پڑھنا،لکھنااور بولنا سکھا یا۔مجھے اس بات کا فخر ہے کہ میں انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو بھی اسی طر ح سے جانتاہوں جس طرح میں اپنی مادری زبان ہندی سے سے واقف ہو ں ۔ انہو ں نے اردو کی صورتحال کا ذکر کر تے ہوئے کہاکہ اگر سیاست بازی کو در کنار کر دیا جائے تو عوامی سطح پر اردو کے تئیں کہیں کوئی مخالفت یامنافرت نہیںہے۔اردو ہماری اپنی اور اپنے ملک کی زبان ہے اسے مسلمانو ںسے جوڑ نا نہ صرف اردو کے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے بلکہ اپنی تہذیب کو کمزور کر نے کی مجر مانہ کوشش ہے۔
ورکشاپ سے ضلع کے مشہور معالج اور ایک اردو کتاب کے مصنف ڈاکٹر للت کمار سنگھ نے کہاکہ ہم اردو کیلئے چاہیں جتنے نعرے لگا لیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنے بچو ں کے ساتھ انصاف نہیں کررہے ہیں۔انہو ں نے کہاکہ ہمارے بچے کیا پڑھ رہے ہیںاور کیسے پڑھ رہے ہیں، اس پرہماری نگاہ نہیںہے اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے بچے بے راہ روی کے شکار ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے نہ صرف ہماری اپنی زبانوں کا نقصان ہورہاہے بلکہ یہ صورتحال ہندستان کے مستقبل کیلئے بھی خسارے کا باعث ہے ۔انہوں نے مشورہ دیا کہ ریاست میں زبان کی پڑ ھائی کاایک ایسا انتظام ہو نا چاہئے کہ جو تمام بچو ں کیلئے مفید اور ان کے مستقبل کیلئے معاون ہو۔انہو ں نے تعلیم کی سطح پر بچو ں کوخانو ں میں باٹنے کے بجائے تمام بچو ں کو یکساں طور پر ہندی اردو اور انگریزی کی تعلیم دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ اپنی زبان اوربچو ں کے مستقبل کیلئے اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ۔ورکشاپ کے شرکا سے ایس ڈی او وجے کمار، سینئرایڈو کیٹ ایس سی او پادھیا ئے ، جمشید پور میں انگریزی ٹیچر، طیب اصغر ، ایڈو کیٹ علیم الدین ،ہیڈ ماسٹر محمد یعقو ب انصاری ،علی گنج کے بی ڈی او ظفرامام اورسینئر ایڈو کیٹ دیا نند نے بھی خطاب کیا۔ورکشاپ میں اردو ڈائریکٹوریٹ کی نمائندگی محمد نور عالم اور محمد حامد نے کی۔ محمد نور عالم نے اپنے خطا ب میں اردو ڈائریکٹوریٹ ، محکمہ کابینہ سکریٹریٹ کے منصوبوں اور اردو کے فروغ کے حوالے سے حکومت بہار کے عزائم پر تفصیل سے رو شنی ڈالی۔ پرو گرام اختتام شام 5 بجے ایڈو کیٹ ڈاکٹر معصوم رضا امرتھوی کے صدارتی کلمات سے ہوا۔پرو گرام کوکامیاب بنانے میں محمد محفو ظ ،محمد اسلم اورضلع میں مامور دیگر تمام ملازمین پیش پیش رہے ۔سمینار میں بڑی تعداد میں ضلع انتظامیہ کے افسران ،اور اردو اساتذہ و ملازمین کے ساتھ ساتھ جمو ئی ضلع کے محبان اردو ہندی نے شرکت کی ۔سمینار میں متعدد سماجی کار کنا ن بھی مو جو د تھے ۔

About the author

Dr.Mohammad Gauhar

Chief Editor - Taasir