اسرائیل کے صدر کا دورہ ہند تاریخی اہمیت کا حامل: پرنب

0
67
Indian Foreign Minister Pranab Mukherjee reads documents during a joint press briefing with his Pakistani counterpart Shah Mehmood Qureshi at the end of two day peace talks at the foreign ministry in Islamabad on May 21, 2008. India and Pakistan wrapped up their latest round of peace talks on Wednesday, saying that they had made significant progress and had signed a pact on giving consular access to prisoners. AFP PHOTO/Farooq NAEEM (Photo credit should read FAROOQ NAEEM/AFP/Getty Images)

نئی دہلی،16 نومبر (یو این آئی) صدر پرنب مکھرجی نے اسرائیل کے صدر رووین رولن کے دورہ ہند کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ملک مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو مضبوط کرنے کے خواہاں ہیں۔مسٹر رولن کا کل صدارتی محل میں استقبال کرتے ہوئے مسٹر مکھرجی نے کہا کہ اسرائیل کے صدر دورہ ہند 20 برسوں کے طویل وقفے پر ہو رہا ہے ۔مسٹر مکھرجی نے دفاع، سائبر سیکورٹی، قابل تجدید توانائی، زراعت، آبی وسائل کے انتظام، زراعت، سائنس اور ٹیکنالوجی اور تعلیم کے میدان میں اسرائیل کا تعاون طلب کرتے ہوئے کہا کہ اس کے پاس ان اہم شعبوں کی جدید ٹیکنالوجی اور مجرب صلاحیت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسمارٹ سٹی، ڈیجیٹل انڈیا اورسوچھ بھارت جیسے ملک کے اہم منصوبوں میں شریک بننے کی اسرائیلی دلچسپی خوش آئند قدم ہے ۔ زرعی شعبے میں اس کی شراکت سے ملک کے کسانوں کو فائدہ ہو رہا ہے ۔صدر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سمیت 21 ویں صدی کے کئی ایسے چیلنجز ہیں جن کے لئے عالمی برادری کو مربوط قدم اٹھانا پڑے گا۔ انہوں نے کہا ”ہمیں اپنے بچوں کے لئے ایسی دنیا چھوڑنی ہے جو بہتر، صاف اور صحت مند ہو۔ وہاں پرامن اور ہم آہنگی پر مبنی انداز میں ساتھ ساتھ رہ سکیں اور ایک دوسرے کے عقیدے کا احترام کریں۔مسٹر مکھرجی نے اعتماد کا اظہار کیا کہ ہندوستان اور اسرائیل مل کر اس اہم مقصد کو حاصل کر سکتے ہیں۔صدر نے کہا کہ اگلے سال ہندوستان اور اسرائیل کے سفارتی تعلق کے 25 سال پورے ہونے کے موقع پر ہندوستان اسرائیل کے ساتھ ایسے تعلق بنانے کا خواہاں ہے جو دونوں ممالک کے لئے فائدہ مند ہونے کے ساتھ ہی دنیا کی بہتری کے لئے بھی ہو۔ اس دوران دونوں ممالک نے اعلی سطحی رہنما¶ں کے دورے کے ذریعے باہمی تعاون کے لئے ترجیح کے نئے شعبوں کی نشاندہی کی ہے ۔مسٹر مکھرجی نے اسرائیل کے صدر کو دی گئی ضیافت کے دوران کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تبادلے سے گہرے باہمی اعتماد اور افہام و تفہیم کا پتہ لگتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت ہندوستان کی معیشت صحیح سمت میں ہے ۔صدر کے جذبات سے اتفاق کرتے ہوئے اسرائیل کے صدر نے کہا کہ ہندوستان اور مغربی ایشیا ہزاروں برسوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنا علم ہندوستان کے عوام کے ساتھ اشتراک کرنے کے لئے تیار ہے ۔