تعلیم

امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد

Written by Dr.Mohammad Gauhar

بابا صدیقی،اورنگ آباد۔
8055241515
مولانا آزاد کا پورا نام ابوالکلام محی الدین احمد آزاد تھاوہ ۱۱نومبر ۸۸۸۱ءکو مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ مولانا آزاد کے والد بزرگوار محمد خیر الدین انہیں فیروزکہہ کر پکارا کرتے تھے۔ والدہ کاتعلق مدینہ سے تھا۔ ان کا سلسلہ نسب شیخ جمال الدین سے ملتا ہے جو کہ اکبر اعظم کے عہد میں ہندوستان آئے تھے او ریہیں مستقل سکونت اختیار کرلی ۔۷۵۸۱ءکی جنگ آزادی میں مولانا آزاد کے والد کو ہندوستان سے ہجرت کرنی پڑی۔ کئی سال عرب میں رہے۔ مولانا کا بچپن مکہ معظمہ او رمدینہ میں گزرا ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی۔ جامعہ ازہر(مصر)چلے گئے۔ چودہ سال کی عمر میں علوم مشرقی کا تمام نصاب مکمل کرلیا تھا۔ مولانا کی ذہنی صلاحیتوں کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ انہوں نے پندرہ سال کی عمر میں ماہوار جریدہ لسان الصدق جاری کیا۔ جس کی مولانا الطاف حسین حالی نے بھی بڑی تعریف کی تھی۔ ۴۱۹۱ءمیں الہلال نامی اخبار نکالا۔ یہ اپنی طرز کا پہلا پرچہ تھا ۔ترقی پسند سیاسی تخیلات اور تعقل پر پوری اترنے والی مذہبی ہدایات کا گہوارہ بلند پایہ سنجیدہ ادب کا نمونہ تھا۔ مولانا بیک وقت عمدہ انشا پرواز،جوشیلا بیان وخطیب بے مثال صحافی اور ایک بہترین مفسر قرآن تھے۔ ۶۱۹۱ءمیں مولانا نے ترجمان القرآن لکھنا شروع کیا۔غالباً دسمبر کا مہینہ ۸۱۹۱ءمیں مولانا رانچی میں نظر بند تھے اور وہاں پر بھی ان کی کوششیں جاری رہیں۔ ۷۲ دسمبر ۹۱۹۱ءمیں مولانا رہا ہوئے۔ جب تک مولانا نے ۰۱پارے تفسیر کے مکمل کرلئے تھے۔ جو کہ اسی دس پاروں میں مولانا نے بے باکانہ انداز میں سود کی وضاحت کردی تھی۔ ۶۱۹۱ءمیں مولانا نے ترجمان القرآن کی ابتداءکی اور آج ۶۱۰۲ ہیں مکمل ۰۰۱ سال ہوگئے ہیں۔افسوس صد افسوس آج سے ۰۰۱ سال پہلے جس شخص نے سود کی کھلے الفاظ میں مذمت اور وضاحت کی تھی آج اسی کے نام سے حکومت سودی قرض دے رہی ہے اور ہم بڑے اہتمام سے وہ قرض لے رہے ہیں۔ استغفراللہ۔۔۔ ۲۲فروری۸۵۹۱ءکو مولانا وفات پاچکے تھے۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون۔
مولانا ابوالکلام آزادی کی نگارشات کی نوک نے جہاں غلامی کی زنجیروں کو توڑدیا وہیں پر باطلی نظام حیات کی فلک بوس فرعونی قارونی او ر ہامانی عمارتوں کو بھی مسمار کردیا اور اہل ہند کے عوام کے ہاتھوں پر آزادی وامامت او رجمعیت کا تاج پہنایا۔ غرض کہ یہی وہ اس ملک کی اولین ہستی ہیں جنہوں نے اپنی تحریروں میں ام الجرائم سود اور سودی نظام حیات کی لعنتوں سے پردہ اٹھاکر معاشی عدم مساوات بھوکمری،محتاجی اور معاشی نا انصافی کی بیخ کنی کی لیکن افسوس کہ اس ملک میں سودی نظام اور سرمایہ دارانہ استعماریت سے آزادی کے علمبردار مولانا ابوالکلام آزاد کو جمہوری نظام کی آڑ میں سودی نظام کے علمبردار کی حیثیت سے پیش کرتے ہوئے مسلمانو ںکی ایمانی غیرت اور حمیت کو ببانگ دہل للکارا گیا اور مسلمانوں سے اس جمعیت اور امامت کی روح ختم ہونے کے بدترین نتائج ایسے ظاہر ہوئے کہ ان کی غیرت ایمانی گویا کہ ارتداد کی آگ میں جل کر خاک ہوگئی حد تو یہ ہے کہ اس امام الہند کے نام پر جمہوری تماشائیوں نے مولانا آزاد اقلیتی مالیاتی کارپوریشن قائم کیا اور مسلمانوں کو سود کی لعنت میں ملوث کرنے کا بڑا کارنامہ انجام دیا۔ اور پھر اس قومی کارنامہ جمہوریت پر ایشیاءکے سب سے بڑی دینی درسگاہ یعنی کہ دارالعلوم دیوبند اور ندوة العلماءاور تمام ہندوستان کی دینی درسگاہ اور جماعت اسلامی ، وحدت اسلامی ، اہل سنت والجماعت، اہل حدیث ،تبلیغ جماعت اور دیگر تمام علمائے کرام، اہل تشیع علمائے کرام،بوہری علمائے کرام، ملی تنظیمیں،مسلم نمائندہ کونسل صحافی اردو مسلم منسٹر، ایم ایل اے،ایم پی، کارپوریٹرس، این جی اوز اور سوشل ورکر کے زبانوں اور قلموں پر تالے لگ گئے اور بیچارے بھولے بھالے مسلمان جو جمعیت اور امامت سے اول ہی محروم ہیں یہ سمجھنے پر مجبور ہوئے کہ سودی ادارہ کو جائز سمجھ کر سودی قرض لینے لگے اور اس قرض کی رقم سے کاروبار کرنے لگے اور اسی رقم پر حج اور نمازوں کی بڑی نیکیاں بھی کرنے لگے اور اسی طرح مدارس کے علمائے کرام کو اس میں سے چندہ ،زکوة اورہدیات بھی دینے لگے۔ اگر یہی حال رہا تو ہر ایک بری اور ناجائز اسکیمات جو کہ شریعت اسلامی میں حرام ہے اس کو بھی حکیم الامت کا نام دیا جائے گا۔ اور عوام اسے جائز سمجھ کر فائدہ اٹھاتی رہے گی۔ شعوری اور لاشعوری طور پر ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف جنگ میں شریک ہورہے ہیں۔ کیونکہ یہ کاروبار بھی اس ملک میں جمہوری اصولوں کے مطابق جائز ہے ۔ لہذا مسلمانو ںکی غیرت ایمانی اس بات کا تقاضہ کررہی ہے کہ اس فائنانس کارپوریشن سے امام الہند کا نام ہٹایا جائے ۔
شریعت اسلامی نے حلال وحرام کی پہلے ہی وضاحت کرچکی جو کہ مسلمان مرد عورت پر جاننا فرض ہے۔سود کے حوالے سے شریعت کا مزاج انتہائی سخت ہے اور شریعت اسلامی نے اسکی حرمت کو بنیا کرتے ہوئے انتہائی تاکید کے ساتھ اس کے نقصانات دنیا میں اور آخرت میں ہم کو بار بار یاد دلاتے ہیں۔ چنانچہ مسلمانوں کو لازم ہیں کہ ہر معاشی معاملے میں اس بات کا احتیاط رکھیں اور پرہےز کریں کہ سود کی ہر رقم سے بچے سودخوری کا معاملہ یہ بدترین بغاوت ہے اللہ کے خلاف جس پر اللہ تعالی فرماتے ہیں اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی جارہی ہیں او رہم میں سے کوئی کھڑا ہونے کو تیار نہیں ہیں۔ ہماری اس مہم میں جو سود سے نجات چاہتی ہوں جو سودی اسکیم سے مولانا ابوالکلام آزادی کا نام ہٹانے کی ایک تحریک شروع کرتے ہیں عوام سے ہم یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ روٹی پانی بجلی گیس پٹرول ڈیزل ترکاری گوشت وہ کاروباری طبقات جو اپنے ٹیکس بچانے کے لئے سڑکوں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اللہ کے لئے کون کھڑا ہوگا بھائی۔ کون کھڑا ہوگا کیا چلتا رہے گا یہ سب گندا دھندا اللہ کے خلاف بغاوت اللہ کے رسول کے خلاف بغاوت اور اللہ اور اسکے رسول ﷺ سے جنگ کوئی تو کھڑا ہوگا خدارا کوئی تو کھڑا ہوگا۔ آئیے آج اس مہم میں ہماراساتھ دیںکوئی تو کھڑ ا ہو اللہ اور اس کے رسول کے لئے اللہ ہمیں غیرت ایمانی عطا فرمائے اور اس شہر میں تحریک کی شکل میں ایک ایم ایل اے کئی سال بعد پھر آسکتا ہے تو کیا اس سودی اسکیم سے مولانا ابوالکلام آزاد کا نام نہیں ہٹاسکتے۔ آئیے کمر بستہ ہو کر ہائی اسکول کالجس مدرسہ کاروباری طبقات او رمحلہ والے حضرات اس مہم میں شرکت کریں۔ کیا ہی یہ اچھا ہو سود کے خاتمے کے حوالے سے جس کے حرام ہونے پر کسی کو اختلاف رائے نہیں۔ کسی عالم دین کو کسی مکتب فقہ کو اختلاف رائے نہیں کیا ہی یہ اچھا ہو کہ اس فکر کو لے کر کھڑے ہو ہم اور تحریک برپا کرے اور اس بدترین بغاوت اور جرم کا خاتمہ کرے تو اللہ تعالیٰ کی رحمتیںہمارے ساتھ شامل حال ہوجائے گی۔(انشاءاللہ)
٭٭٭

About the author

Dr.Mohammad Gauhar

Chief Editor - Taasir