سیاست

دہلی، ممبئی سمیت کئی مقامات پر چھاپے

Written by Dr.Mohammad Gauhar

نئی دہلیپٹنہ، 10 نومبر (تاثیر بیورو) 500 اور 1000 کے نوٹوں کو بند کرنے اعلان کے بعد پہلی بار وزیر اعظم نریندر مودی نے اس پر رد عمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کو بدعنوانی سے پاک بنانے کے اپنے وعدے پرقائم ہے۔ جاپان دورے پر روانگی سے پہلے مودی نے ٹویٹ کر کے کہا کہ ترقی کا فائدہ ملک کے ہر شہری کو ملے گا۔ دوسری طرف دہلی ،ممبئی اور چنڈی گڑھ میں ان ڈکلیئرڈ انکم کے بدلے گولڈ بیچنے اور فارن کرنسی اکسچنج کرنے والے تاجروں پر انکم ٹیکس نے چھاپے مارے ۔ دوسری طرف پورے ملک کے بینکوں میں جمعرات سے نئے نوٹ ملنے شروع ہوگئے۔ حالانکہ کئی بینکوں میں نئے نوٹ نہ پہنچنے یا کم تعداد میں پہنچنے اور فارم ختم ہونے کی شکایتیں کرتے ہوئے پریشان صارفین نظر آئے۔ 500 اور 1000کے پرانے نوٹوں کو بینکوں میں جمع کرانے یا بدلنے کے لئے بینکوں کے کھلنے سے پہلے ہی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں۔حکومت نے روزانہ چار ہزار روپے تک بینکوں میں پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے نوٹ بدلنے کی سہولت دی ہے ۔ یہ سہولت 30 دسمبر تک جاری رہے گی۔ اس کے لئے لوگوں کو اپنی شناخت کے طور پر آدھار کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، ووٹر شناختی کارڈ یا کوئی اور سرکاری ثبوت ثبوت کے طور پر دینے ہونگے ۔دہلی کے جمنا پار کے پریت وہار، سواستھ وہار اور دیگر مقامات پر دیگر بینکوں کے مقابلے میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی شاخوں پر زیادہ لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔پٹنہ میں بھی بینکوں کا یہی حال رہا۔ سب سے زیادہ بھیڑ اسٹیٹ بینک میں نظر آئی۔ کئی لوگوں کو دن بھر قطار میں رہنے کے بعد بھی نئے نوٹ کا دیدار نہیں ہوسکا۔ بزرگ مرد وخواتین اور شوگر اور دل کے مریضوں کو زیادہ دیر تک قطار میں رہنے سے پریشانی ہوئی۔ پٹنہ میں اسٹیٹ بینک کے مین برانچ میں بینک کھلنے کے دو گھنٹے بعد ہی فارم ختم ہونے سے لوگوں میں ناراضگی دیکھی گئی۔ جن لوگوں کو پہلے دن نئے نوٹ ملے ان میں سے کچھ نے نئے نوٹوں کی تعریف کی تو کچھ نے پرانے نوٹوں کے مقابلے میں نئے نوٹوں کو بہت سطحی بتایا۔کچھ لوگوں نے اسے چورن کے ساتھ ملنے والے نقلی نوٹ جیسا بتایا۔ ڈاک خانوں پر بھی لوگ گھنٹوں پہلے جمع ہو گئے ۔ لوگوں کی سہولت کے لئے 12 اور 13 نومبر ہفتہ اور اتوار کو بھی بینک کھلے رہیں گے ۔ کل یعنی 11 نومبر سے اے ٹی ایم بھی کھل جائیںگے جہاں سے ایک دن میں 2 ہزار روپئے نکالے جاسکیںگے۔

About the author

Dr.Mohammad Gauhar

Chief Editor - Taasir