سیاست

راہل ،آزاداور سیسودیا حراست میں لئے گئے

Written by Dr.Mohammad Gauhar

نئی دہلی، 2نومبر(یو این آئی) ایک رینک ایک پنشن اسکیم سے غیر مطمئن سابق فوجی رام کشن گریوال کی خودکشی کے بعد آج راجدھانی میں سیاست گرم ہوگئی اور ڈرامائی پیش رفت میں کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کو آج دو مرتبہ حراست میں لیا گیا ۔ ان کے ساتھ پارٹی کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد او رجیوترادتیہ سندھیا سمیت کئی کانگریسی لیڈروں کو بھی حراست میں لیا گیا۔مسٹر گاندھی کو دن میں چار گھنٹے کے اندر دو مرتبہ حراست میں لیا گیا۔ کانگریس نائب صدر پہلے سہ پہر دو بجے کے قریب مسٹر گریوال کے رشتہ داروں سے ملاقات کے لئے رام منوہر لوہیا اسپتال پہنچے تو پولیس نے انہیں اندر جانے سے روک دیا اور حراست میں لے لیا ۔ اس کے بعد انہیں مندر مارگ تھانے لے جایا گیا جہاں انہیں تقریباً ایک گھنٹہ رکھنے کے بعد چھوڑ دیا گیا۔اس کے بعد جب پولیس مسٹر گریوال کے رشتہ داروں کو کناٹ پلیس تھانے لے گئی تو مسٹر گاندھی کئی دیگر کانگریسی لیڈروں کے ساتھ وہاں پہنچ گئے اور پھر ان سے ملاقات کی کوشش کی جس پر پولیس نے انہیں دوبارہ حراست میں لے لیا ۔ ان کے ساتھ ہی مسٹر آزاد اور مسٹر سندھیا کو بھی حراست میں لیا گیا۔ پولیس نے مسٹر گاندھی کے علاوہ دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کو بھی آج رام منوہر لوہیا اسپتال میں حراست میں لے لیا ۔ مسٹر سسودیا مسٹر گاندھی سے پہلے ہی سابق فوجیوں کے رشتہ داروں سے ملنے اسپتال پہنچ گئے تھے ۔ ان کے ساتھ عام آدمی پارٹی کے ممبر اسمبلی کمانڈو سریندر بھی تھے او رانہیں بھی حراست میں لے لیا گیا ۔دریں ثنا دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کو بھی پولیس نے کناٹ پلیس تھانہ پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا۔وہ سابق فوجی مسٹر گریوال کے بیٹے پردیپ سے ملنے تھانے جارہے تھے ۔ پولیس کے ذریعہ بیچ راستے میں روکے جانے پر مسٹر کیجریوال نے کہا کہ دیکھتے ہیں انہیں کتنی دیر روکا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی مسٹر گریوال کے بیٹے جسونت سے فون پر بات ہوئی تھی۔ ۔اس نے بتایا کہ اسے اور اس کے خاندان کے کچھ اور لوگوں کو پولیس کناٹ پلیس تھانے میں روکے ہوئے ہے اور انہیں باہر جانے یا کسی سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔ مسٹر کیجریوال نے کہا کہ انہوں نے جسونت کو بتایا کہ وہ ان سے ملنے آرہے ہیں لیکن جب وہ نکلے تو پولیس نے درمیان میں ہی انہیں روک لیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیسا نظم ہے کہ ایک وزیر اعلی اپنی ہی ریاست میں ایک آنجہانی فوجی کے رشتہ داروں سے نہیں مل سکتا۔اس دوران عام آدمی پارٹی او رکانگریس کے کارکنان بڑی تعداد میں کناٹ پلیس’ پارلیمنٹ اسٹریٹ اور مندر مار تھانے کے باہر جمع ہوگئے ہیں اور جم کر مظاہرہ کیا ۔ کارکنوں نے مودی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی ۔ پولیس او رمظاہرین کے درمیان ا س دوران دھکا مکی بھی ہوئی۔اس سے پہلے مسٹر سسودیا کو حراست میں مندر مارگ تھانے لے جانے پر بھی عام آدمی پارٹی کے کارکنوں نے وہاں جم کر مظاہرہ کیا تھا۔ کارکنان مودی تیری غنڈہ گردی نہیں چلے گی نہیں چلے گی جیسے نعرے لگارہے تھے ۔ دوسری طرف مسٹر راہل گاندھی نے پولیس کارروائی پر اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ یہ مودی کا کیسا ہندوستان ہے جہاں ایک سابق فوجی کے رشتہ داروں کو حراست میں لیا جاتا ہے ۔راجیہ سبھا میں کانگریس کے لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ جب سے مودی حکومت اقتدار میں آئی ہے تب سے جمہوریت کا خاتمہ ہوگیا ہے ۔ اپنے لوگوں کو تو حکومت کلین چٹ دیتی رہتی ہے لیکن دیگر لوگوں کو پھنسانے کے لئے ان کے پیچھے انکم ٹیکس محکمہ اور سی بی آئی کو لگادیتی ہے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ قانون و انتظام کے لئے خطرہ پیداہونے کی وجہ سے ان لیڈروں کو حراست میں لیا گیا ہے ۔ اسپیشل پولیس کمشنر مہیش کمار مینا نے کہا کہ جمہوریت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کام کاج میں رکاوٹ پیدا کی جائے ۔

About the author

Dr.Mohammad Gauhar

Chief Editor - Taasir