اسلام

زرد صحافت سے اخبارات کو پاک رکھیں: مختار احمد فردین

Written by Dr.Mohammad Gauhar

حیدرآباد۔20نومبر(پریس نوٹ)سائنس تیزی کے ساتھ ترقی کررہی ہے جس سے ہر کوئی واقف ہے ۔نئی نئی ایجادات سے دنیا حیران ہے نوجوان اپنا زیادہ تر وقف سوشیل میڈیا پر صرف کررہے ہیں ۔جب سے سوشیل میڈیا تیزی سے پھیل گیا ہے نوجوان طبقہ اخبار بینی سے دور ہوگیا ہے۔ہر کوئی انٹر نیٹ کا استعمال کررہا ہے اسی سے معلومات حاصل کررہا ہے مگر یہ تباہی کا باعث ہے کیونکہ انٹر نیٹ کی تمام معلومات حقائق پر مبنی نہیں ہوتی۔نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ کتابوں اور اخبارات کا مطالعہ کریں جس سے ان میں نکھار پیدا ہوتا ہے ۔ان خیالات کا اظہار روزنامہ”سالار“ (بنگلور) کے چیف ایڈیٹر افتخار احمد شریف نے ڈاکٹر مختار احمد فردین کی کتب ”چوتھا ستون“ اور” پرورش لوح قلم “کی رسم اجرائی کے بعد کیا۔مسرز مختار احمد فردین صدر اردو ماس سوسائٹی فار پیس ‘ عزیز بلگرامی شاعر و ادیب اور دیگر نے بنگلور کا دورہ کیا ۔یہ تقریب مذکورہ اخبار کے دفتر میں منعقد کی گئی جس میں اسٹاف ممبرس موجود تھے۔اس موقع پر ڈاکٹر مختار احمد فردین اور عزیز بلگرامی نے دفتر کے تمام شعبہ جات کا مشاہدہ کیا اور وہاں کے کام کرنے والوں کی خدمات کو حراج تحسین پیش کیا۔جناب افتخار احمد شریف مدیر رسالہ نے صحافیوں کو زرد صحافت سے اجتناب کی تلقین کی اور کہا کہ خبروں کو صحیح انداز میں پیش کرنا صحافی کی اہم ذمہ داری ہوتی ہے۔افتخار احمد شریف نے ڈاکٹر مختار احمد فردین کی کتابوں پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ڈاکٹر مختار احمد فردین نے کہا کہ مسرز افتخار احمد شریف اور سید عثمان جنرل منیجر رسالہ کی انتھک کوششوں کی وجہ سے اخبار دن دوگنی رات چوگنی ترقی کررہا ہے جس کےلئے وہ قابل مبارکباد ہیں۔انہوں نے حیدرآباد اور کلکتہ کے اردو اخبارات کا تذکرہ کیا اور کہا کہ اردو اخبارات ہمیشہ عوام کے مسائل کو حکومت کے روبرو پیش کرتے ہوئے عوام کےلئے آسانیاں پیدا کرتے ہیں ‘ اخبار رسالہ(بنگلور) بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔انہوں نے تمام اسٹاف سے فرداً فرداً ملاقات کی اور دفتر کا تفصیلی معائنہ کرنے کے بعد مذکورہ دفتر کو انگلش اخبار کے دفتر سے تعبیر کیا۔انہوں نے کہا کہ جنرل منیجر سید عثمان کی انتھک کاوشیں اخبار کو بلندی پر پہنچا رہی ہے۔مسٹر فردین نے تمام اسٹاف کو مبارکباد پیش کرتے نیک تمناﺅں کا اظہار کیا۔

About the author

Dr.Mohammad Gauhar

Chief Editor - Taasir