Uncategorized

سب سے بڑی دوربین کا مقام تبدیل کرنے پر غور

Written by Dr.Mohammad Gauhar

دنیا کی سب سے بڑی دوربینوں میں سے ایک کو نصب کرنے کے لیے مقرر کردہ مقام تبدیل کیا جا رہا ہے۔تھرٹی میٹر ٹیلی سکوپ (ٹی ایم ٹی) کو امریکی ریاست ہوائی میں تعمیر کرنا تھا تاہم بعض علاقائی گروپس کی مخالفت کے بعد اس کی جگہ تبدیل کی جارہی ہے۔ ان گروپس کا کہنا ہے کہ اس دوربین کے لیے منتخب کردہ جگہ ایک مقدس مقام ہے۔ٹی ایم ٹی کے بورڈ ممبران کا کہنا ہے کہ اب اس دوربین کے لیے سپین کا کینیری جزیرہ متبادل مقام ہو سکتا ہے۔ایک ارب 40 کروڑ ڈالر سے بننے والے اس منصوبے سے ماہرین کو کائنات کے آغاز اور نظام شمسی سے باہر کے سیاروں کے بارے میں جاننے میں مدد ملے گی۔یہ دوربین دنیا کی سب سے بڑی دوربینوں میں شامل ہے۔ ان دوربینوں میں یورپیئن ایکسٹریملی لارج ٹیلی سکوپ (ای ای ایل ٹی) اور جیمز ویب ٹیلی سکوپ شامل ہیں۔ ان کا مقصد 2020 اور اس سے آگے تک فلکیات کو سمجھنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔بادلوں سے پاک آسمان، فضا میں کم آبی بخارات اور کئی دیگر عوامل ہوائی کی ماؤنا کیی اس دوربین کے لیے دنیا کے مناسب ترین مقامات میں سے ایک تھا۔اس دوربین کی ہوائی میں تعمیر کی مخالفت کئی دہائیوں سے جاری ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں کے مقامی افراد کے خیال میں ماؤنو کیی اس جزیرے پر موجود پہاڑیوں میں سے مقدس ترین ہے اور ان کے خیال میں اس پہاڑی کا خداؤں کے ساتھ خصوصی تعلق ہے۔لہذا اس منصوبے پر جاری کام کو بے حرمتی تصویر کیا جا رہا ہے۔اس منصوبے پر تعمیراتی کام اپریل 2015 میں شروع کیا جانا تھا تاہم مظاہرین نے اس مقام تک جانے والے راستے کو کارکنوں کے لیے بند کردیا تھا جس کے نتیجے میں کئی افراد کو حراست میں بھی لیا گیا تھا، لیکن مخالفین احتجاج کے ساتھ ساتھ عدالتی راستہ بھی اختیار کیے ہوئے تھے۔بعد ازاں دسمبر 2015 میں ہوائی ریاست کی سپریم کورٹ نے 2011 میں دیے جانے والے تعمیراتی اجازت نامے کو منسوخ کر دیا۔سپریم کورٹ نے وجہ یہ بتائی کہ اس منصوبے کی تعمیر کے لیے اجازت نامہ مخالفین کو مقدمہ کرنے کے لیے مناسب وقت دیے جانے سے قبل ہی جاری کر دیا گیا تھا۔

About the author

Dr.Mohammad Gauhar

Chief Editor - Taasir