اسلام

شعبہ اسلامک اسٹڈیز اردو یونیورسٹی میں’شام اقبال‘کا انعقاد

Written by Dr.Mohammad Gauhar

حیدرآباد، 23نومبر(پریس نوٹ)شعبہ اسلامک اسٹڈیز، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں اقبال کے کلام اور فکر کو تازہ کرنے کے لئے ”شام اقبال“ کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس موقع پر طلبہ نے علامہ کا کلام پیش کیا۔ایم اے سال اول سے صلاح الدین ایوبی نے اپنی دل کش آواز میں اقبال کی دعا ”یارب دل مسلم کو ۔۔۔“ پیش کی، نعیم النساءنے ”بچہ کی دعا“ اپنی مترنم آواز میں پڑھ کر سنائی، رضوانہ بیگم نے ترانہ ملی پیش کیا، رخسانہ بیگم نے اقبال کے اشعار پر کی گئی تضمین پیش کی، روحینہ فاطمہ نے اقبال کے مقبول اشعار کا انتخاب پیش کیا۔ ایم اے سال دوم سے طفیل احمد نے اقبال کی طویل نظم ذوق وشوق سے ایک غزل ”لوح بھی تو ، قلم بھی تو ©©“ پڑھ کر سنائی، محمد خالد نے ”نہ تو زمین کے لئے ہے“ اپنی مترنم آواز میں سنائی، ابو الکلام نے ©©”ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں©“ پیش کی،پی ایچ ڈی سے سید عبد الرشید نے اقبال کے نعتیہ اشعار کا انتخاب پیش کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد فہیم اختر (صدر شعبہ )نے کہا کہ طلبہ نے علامہ اقبال کے عمدہ اشعار پیش کئے، ان اشعار کو بار بار سننے کے باوجود ہر مرتبہ ہم کو نیا پیغام ملتا ہے، دل سے دعا نکلتی ہے، اور اور کردار سازی کی طرف توجہ ہورہی ہے۔ اس نشست کا مقصد فکر اقبال کو تازہ کرنے کے ساتھ اپنے ذہن میں اچھے اشعار کا ذخیرہ کرنا بھی ہے۔ میری دعا ہے کہ ایسی شامیں یہاں اور سجتی رہیں، اور ہمارے طلبہ کی دلچسپی میں اضافہ ہوتا رہے۔ ڈاکٹر محمد عرفان احمد (اسسٹنٹ پروفیسر) نے کہا کہ اقبال اور فکر اقبال اسلامیات کے نصاب کا جز بھی ہے، ڈاکٹر اقبال نے شعر وادب کو اصلاح وتجدید کے لئے استعمال کیا ہے، اقبال ، سرسید اور آزاد سب کے اندر ایک ہی قسم کا درد اور ایک ہی طرح کی تڑپ ہم کو نظر آتی ہے، جو مسلمانان ہند کی اصلاح وترقی کے لئے ہوتی تھی۔ مولانا سراج الدین (اسسٹنٹ پروفیسر ) نے کہا کہ علامہ اقبال الہامی شعر کہتے تھے، وہ شاعر بھی تھے، اور فلسفی بھی، ان کو علم اور اہل علم سے بڑی عقیدت تھی، خصوصا دینی علوم میں اجتہادی فکر رکھنے والے افراد سے وہ اپنا خصوصی رابطہ استواررکھتے تھے۔ پروگرام کا آغاز حسیب الرحمن(ایم اے، سال دوم ) کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا، نظامت کے فرائض ابو الکلام(ایم اے سال دوم) نے ادا کئے، سلیمان سعود (ایم اے سال دوم) نے کلمات تشکر پیش کئے۔

About the author

Dr.Mohammad Gauhar

Chief Editor - Taasir