اسلام

مانومیںاردو مرکز برائے فروغ ِعلوم کا قیام

Written by Dr.Mohammad Gauhar

حےدر آباد، 22نومبر (پرےس نوٹ) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں اردو مرکز برائے فروغِ علوم کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز ‘ وائس چانسلر نے اس سلسلے میں اعلیٰ ترین پالیسی ساز اداروں ایگزیکٹیو کونسل اور اکیڈیمک کونسل کی سفارشات کو آج منظوری دے دی۔ ڈاکٹر شکیل احمد‘ رجسٹرار کے جاری کردہ اعلامیہ کے بموجب یہ مرکز‘ مانو ایکٹ 1996 کی دفعہ 27 (1-K)میں یونیورسٹی کوحاصل اختیار کے تحت قائم کیا جارہا ہے۔ یونیورسٹی کے مینڈیٹ کے مطابق اردو زبان کا فروغ فطری طور پر دانشورانہ ملکیت کی حیثیت سے معلومات کی منتقلی سے مربوط ہے۔ تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر اردو زبان کو ادبی علوم تک محدود کردیا گیا اور گزشتہ 6 دہائیوں میں اردو اپنے شاندار ماضی سے لگ بھگ محروم رہی۔ اردو زبان کو حقیقی ادبی علمی وسیلے کے طور پر دوبارہ متحرک کرنے اور فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ متنوع شعبوں پر محیط کارآمد مواد کی تیاری پر توجہ دینے کا کوئی منظم ڈھانچہ تشکیل دیا جائے۔ مجوزہ مرکز ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا مرکز ہوگا اور اردو کے بحیثیت علمی ادب‘ فروغ کی سمت اور علوم کے دیگر شعبوں میں اس قسم کی سرگرمیوں کی توسیع کے لیے کام کرے گا۔ طلبا کو زندگی کے ایسے تجربات سے جوڑتے ہوئے جن سے اُن کا رابطہ منقطع ہوچکا ہے‘ اردو زبان کو بطور علمی ادب سیکھنے کا موقع فراہم کرے گا۔ اس طرح طلبا میں رواداری‘ اشتمالیت‘ محبت اور امن کے کلچر کو فروغ ‘ شخصی آگہی اور دنیا کے ساتھ ٹکراو¿ کو سمجھنے میں مدد دیتے ہوئے اُن کی فکری ذہن سازی کی راہ ہموار ہوگی۔

About the author

Dr.Mohammad Gauhar

Chief Editor - Taasir