ہندستان

مسلمانوںکو جذبات میں بہکنے کی ضرورت نہیں : رابع حسن ندی

Written by Dr.Mohammad Gauhar

کولکاتا نومبر:21 نو مبر ( جاوید اختر)آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا سید محمد رابع حسن ندوی نے یہاں پارک سر کس گراو¿نڈ میں ایک عظیم الشا ن جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے حالات سنگین ہیں ، مسلم پرسنل لا میں مرکزی حکومت مداخلت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایسے حالات میںمسلمانوںکی ذمہ داری ہے کہ وہ جذبات میں بہکنے کے بجائے ہوش مندی سے کام لیں۔مسلم پرسنل لاءبورڈ کے اجلاس عام میںریاست سے تقریبا پانچ لاکھ لوگوں نے شرکت کی۔اس جلسہ کی اہمیت اس لئے بڑھی ہوئی تھی کہ مودی حکومت نے مذہب اسلام کو نشانہ بنا رکھا ہے۔ اور تین طلاق کے نام پر مذہب ہر حملہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایسی صورت میں مسلمانوں نے اس جلسہ کے ذریعہ اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ۔اور یہی وجہ ہے کہ یہ جلسہ تاریخی رہا۔ واضح رہے کہ دو بجے سے جلسہ کا آغاز ہونے والا تھا لیکن صبح سے ہی لوگوںنے میدان میں آنا شروع کر دیا تھا۔ اتنی تعداد میں لوگوں کی آمد کے باوجود کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔شام کو نو بجے اجلاس کے اختتام کے ساتھ لوگ اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔مولانا رابع حسن ندوی نے کہا کہ مسلم پرسنل لا میں کسی قسم کی مداخلت کی گنجائش نہیں ہے۔انہوںنے کہا کہ دستور ہند میں ملک کے تمام شہریوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق حاصل ہے۔ایسی صورت میں وہ بنیاد ی حق کو ختم نہیں کرسکتے ہیں۔اور ہم اپنے اس حق کےلئے لڑتے رہیں گے لیکن مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اخلاق حسنہ کا مظاہرہ کریں۔بھائی چارہ کو فروغ دیں اور شریعت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔انہوںنے کہا کہ شریعت میںخواتین کا مقام و مرتبہ بہت زیادہ ہے۔خواتین کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔اسلئے ہمیں اپنی خواتین کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہئے۔جمعیتہ علماءہند کے صدر مولانا سید محمد ارشد مدنی نے کہا کہ نریندر مودی حکومت کی نیت صحیح نہیں ہے اور وہ پرسنل لا اور مذہب آزادی پر حملہ کرکے ملک کی یکجہتی و سالمیت کو نقصان پہنچاکر اپنے اقتدار کو طویل دینا چاہتے ہیں مگر ملک کے مسلمانوں کو اپنے ملک سے محبت ہے اور ا س نے ملک کی آزادی کے لئے جان کی بازی لگائی ہے اور اس وقت غلامی کے خلاف آواز بلند کی اور جدہ جہد کی جب کانگریس کا وجود تک نہیں تھا۔اسلئے مسلمان فسطائی قوتوں کو ملک کو برباد کرنے نہیں دیں گے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذریعہ لا کمیشن کے سوالوں کے بائیکاٹ کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی مسلمان مسلم پرسنل لاءبورڈ کے ساتھ ہیں۔ مولانا نے کہا کہ ہم لا کمیشن کے مقاصد اچھے نہیں ہیں۔ کیوں کہ اس نے مسلم پرسنل لا سے متعلق سوال مسلمانوں اور مسلم خواتین سے پوچھنے کے بجائے ہندوستانی عوام سے پوچھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں اقلیتوں کی تعداد20فیصد کے قریب ہے ظاہر ہے کہ 80فیصد کا تعلق اکثریتی فرقہ سے ہے۔ مولانا نے کہا کہ اگر لا کمیشن مسلمانوں سے سوال پوچھا تو مسلمانوں کی 99فیصد آبادی مسلم پرسنل لا کے حق میں وہ شریعت میں مداخلت کے حق میں نہیں ہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر و مشہور شیعہ عالم دین مولانا ڈاکٹر کلب صادق نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپنے گھر کی فکر کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی خواتین کی بدحالی اور ان پر مظالم کا ذکر کرنے کے بجائے وزیر اعظم پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں اور ہندو خواتین کی فکر کریں۔ ڈاکٹر کلب صادق نے کہا کہ ہندوستانی پارلیمنٹ ملک کا باوقار ادارہ ہے ، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ایک ایسی پارلیمنٹ جن کے ممبران کی ایک بڑی تعداد کرپشن و بدعنوانی میں ملوث ہے کیا ان کے ممبران ایک ایسی شریعت جس میں تبدیلی کرنے کا حق کسی بڑے سے بڑے مسلم عالم دین مجتہد کو نہیں تو پھر پارلیمنٹ کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ شریعت میں مداخلت کریں ۔ انہوںنے کہا کہ شریعت میں مداخلت کا حق جب حضرت علی کو حاصل نہیں تو پھر پارلیمنٹ کیا ہے؟آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکرٹری مولانا محمد ولی رحمانی نے بہت ہی مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کسی بھی صورت میں یکساں سول کورڈ منظور نہیں ہے اور ہم پوری طاقت کے ساتھ کلکتہ کے اس عظیم مجمع میں مسلمانوں کی آواز میںکہتے ہیں کہ یکساں سول کوڈ کسی بھی صورت منظور نہیںہے۔

About the author

Dr.Mohammad Gauhar

Chief Editor - Taasir