سیاست

مسلم تنظیموں پر پابندی ، بی جے پی حکومت سے عوام نالاں :ابوعاصم اعظمی

Written by Dr.Mohammad Gauhar

ممبئی :18 نومبر (یو این آئی) مالیگا¶ں بم دھماکہ 2006 ءمیں باعزت بری ہونے والے 8 مسلم نوجوانوں کے خلاف مہاراشٹر حکومت کی ہائیکورٹ میں اپیل مسلم دشمنی کا ثبوت ہے جب کسی معاملے میں مسلم نوجوانوں کو عدالت سے رہائی ملتی ہے تو حکومت اس کے خلاف ضرور اپیل کرتی ہے یہ مسلمانوں کے ساتھ حکومت کی دوغلی پالیسی کا نتیجہ ہے ۔ اس قسم کی برہمی کا اظہارمہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے حکومت کے مسلمانوں کے ساتھ سوتیلا سلوک پر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ سناتن سنستھا کے ارکان جب عدالت سے ثبوتوں کی عدم دستیابی کے سبب باعزت رہا ہوجاتے ہیں تو سرکار اسے چیلنج نہیں کر تی ہے اور نہ ہی ان کے خلاف عدالتوں میں پختہ ثبوت پیش کئے جاتے ہیں۔ مالیگا¶ں بم دھماکہ 2006 ءاپنی نوعیت کا ایک منفرد کیس ہے جس میں پہلے مہاراشٹر اے ٹی ایس اس کے بعد سی بی آئی اور پھر این آئی اے نے از سر نو اس معاملے کی تحقیقات کی اس میں پایا کہ مسلم نوجوانوں کا کوئی قصور نہیں ہے بلکہ یہ بم دھماکہ ہندو انتہا پسند تنظیم نے ہی کیا ہے اس کا اعتراف آر ایس ایس پرچارک سوامی اسیما نند نے بھی کیا تھا جس کے بعد ہی این آئی اے نے عدالت میں مسلم نوجوانوں کو ضمانت دیدی تھی اور پھر ان نوجوانوں کو باعزت بری کر دیا گیا تھا ۔ قومی سلامتی ایجنسی ( این آئی اے ) نے باقاعدہ طور پرمالیگا¶ں بم دھماکہ 2006 ءمیں ان مسلم نوجوانوں کو کلین چٹ دیدی تھی جس کے بعد ہی عدالت نے انہیں رہا کیا ہے ایسے میں ہائیکورٹ جاکر سرکار کا اس فیصلہ کو چیلنج کر نا کھلی مسلم دشمنی ہے ۔ سرکاریں چاہے کانگریس ، این سی پی کی ہو یا بی جے پی کی مسلمانوں کے ساتھ اس کی دو رخی پالیسی ہمیشہ ہی رہی ہے مالیگا¶ں بم دھماکہ 2008 ءکی ملزمہ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر سمیت دیگر ملزمین کو راحت دی جارہی ہے اب تک لیفٹیننٹ کرنل پروہت کو معطلی میں بھی تنخواہ مل رہی ہے اس کے برعکس مسلمانوں کے ساتھ حکومت کا سوتیلا رویہ معنی خیز ہے ۔ ابوعاصم اعظمی نے کہا کہ اب تک جتنے بھی معاملات میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں آئی ہیں اس میں سے بیشتر معاملات میں عدالت نے مسلم نوجوانوں کو باعزت بری کیا ہے لیکن مسلم نوجوانوں کو مزید اذیت میں مبتلا کر نے کے لئے حکومت ان کے خلاف اپیل کر دیتی ہے تا کہ وہ دوبارہ معمول کے مطابق زندگی نہیں گزار سکیں ۔ حکومت کو تو ان مسلم نوجوانوں کو بے قصور ہونے کے لئے ہرجانہ ادا کرنا چاہئے لیکن اس نے تو ان مسلم نوجوانوں کو مزید الجھن میں مبتلا کر دیا ہے اس اپیل کے خلاف جمعیة علماءعدالت میں جواب داخل کرے گی ۔ ابوعاصم اعظمی نے سخت لہجہ اختیارکرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے ساتھ اس ملک میں دوہرا معیار قطعی برداشت نہیں کیا جائیگا اگر حکومت اپنی اس دوغلی پالیسی سے باز نہیں آتی تو سماجوادی پارٹی اس کے خلاف تحریک شروع کر کے عوام میں اس کے اصل چہرے کو بے نقاب کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ عوام بی جے پی حکومت سے اس قدر نالاں ہیں کہ وہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں اسے ضرور سبق سکھائیں گے ۔ مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے نام پر انکا¶نٹر کروانے والی اس بی جے پی حکومت کے خلاف عام عوام میں بھی ناراضگی پائی جارہی ہے بھوپال انکا¶نٹر ، یکساں سول کوڈ کے نفاذ سمیت دیگر معاملات میں حکومت کی پالیسی پر چو طرفہ تنقیدیں بھی ہو رہی ہیں ۔ابوعاصم اعظمی نے سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ مسلم نوجوانوں کی باعزت رہائی پر تو حکومت اعلی عدالت میں اسے چیلنج کر تی ہے لیکن جب کوئی ہندوانتہا پسند تنظیم کا ارکان اور آتنک وادی بری ہوتا ہے تو حکومت کوئی اپیل تک داخل نہیں کر تی ہے ایسا کیوں ۔ مسلم تنظیموں پر پابندی عائد کرنے میں حکومت ذرا بھی نہیں سوچتی جبکہ مسلم تنظیموں پر پابندی کا کوئی جواز ہی پیدا نہیں ہوتا ہے ۔ اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا ( سیمی ) پر پابندی کو ٹریبونل کورٹ نے کالعدم قرار دیا ہے اس کے باوجود ہر سال حکومت اس پراسٹے کی معیاد میں توسیع کر دیتی ہے لیکن سناتن سنستھا ، ابھینو بھارت سمیت ہندو انتہا پسند تنظیموں پر پابندی عائد کرنے سے متعلق حکومت غور تک نہیں کر تی ہے ۔ یہ اطلاع آج یہاں ایس پی ترجمان عبدالقادر چودھری نے دی ہے ۔

About the author

Dr.Mohammad Gauhar

Chief Editor - Taasir