سیاست

ممتابنرجی نے بھی اٹھایا بھوپال انکاؤنٹر پر سوال

Written by Dr.Mohammad Gauhar

کلکتہ2نومبر (یو این آئی)مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے آج بھوپال میں سنٹرل جیل سے فرار سیمی کے 8مبینہ ورکروں کی انکاؤنٹر کی تھیوری پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کسی بھی صورت میں پولس کے انکاؤنٹر کے دعویٰ پر یقین نہیں کرسکتے ۔ممتا بنرجی نے سماجی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر بھوپال انکاؤنٹر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”انکاؤنٹر سے متعلق پولس کی تھیوری ناقابل یقین ہے ۔لوگوں کے ذہن و دماغ میں کئی سوالات پیدا ہورہے ہیں ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ سب سیاسی انتقام کے تحت انجام دیا گیاہے اور اس طرح کے واقعات ت ملک کی سالمیت اور اتحاد کیلئے بڑا خطرہ ہے ۔واضح رہے کہ سوموار کی صبح میں پہلے بھوپال کے ہائی سیکورٹی والے سنٹرل جیل سے مدہشت گردی کے الزام میں جیل میں بند سیمی کے 8کارکنان کے فرار ہونے کی خبر آئی اور اس کے 8گھنٹے کے بعد ڈرامائی انداز میں انکاؤنٹر کا دعویٰ کیا جانے لگا اس کے معاً بعد کچھ ایسی ویڈیوز سوشل میڈیا کے ذریعہ عام ہوئی کہ پورے انکاؤنٹر کی تھیوری پر ہی سوالیہ نشان لگنا شروع ہوگیا ۔بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتوں کے علاوہ ملک کی تمام اپوزیشن جماعتوں نے اس اکاؤنٹر پرعدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی نگرانی میں عدالتی جانچ کا مطالبہ کیا ہے ۔ترنمول کانگریس کی جانب سے گرچہ باضابطہ فرضی انکاؤنٹر کی عدالتی جانچ کا مطالبہ سامنے انہیں آیا ہے تاہم وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے انکاؤنٹرکی تھیوری کو مشکوک قرار دے کر بی جے پی کے خلاف مورچہ کھول دیا ہے ۔ترنمول کانگریس کے مسلم ممبران پارلیمنٹ میں سابق مرکزی وزیر سلطان احمد اور احمد حسن عمران نے انکاؤنٹر پر اٹھ رہے اعتراضات اور شکوک کی بنیاد عدالتی جانچ کا مطالبہ کیا ہے ۔احمد حسن عمران نے یواین آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انکاؤنٹر کی عدالتی جانچ کا مطالبہ کرنے والوں کی حب الوطنی پر سوالیہ نشان لگانا اوریہ کہنا ہے کہ ان لوگوں کو ملک کی سالمیت سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ افسوس ناک رویہ ہے ۔یہ 8آٹھوں افراد کے خلاف عدالتوں میں معاملات چل رہے ہیں ۔پولیس کی گرفتاری سے کوئی بھی شخص مجرم نہیں بن جاتا ہے ۔کسی کے مجرم ہونے یا نہیں ہونے کا فیصلہ کرنے کا اختیار عدالت کو ہے مگر اب پولس ، میڈیا اور سیاسی پارٹیوں نے فیصلہ کرنے کی ذمہ داری اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے ۔

About the author

Dr.Mohammad Gauhar

Chief Editor - Taasir