سیاست

ممتا نے مودی کو نوٹ بندی کے ایشو پر الیکشن کرانے کا چیلنج کیا

Written by Dr.Mohammad Gauhar

نئی دہلی، 23 نومبر (یو این آئی) مغربی بنگال کی وزیر اعلی اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے نوٹ کی منسوخی کے خلاف جدوجہد کو ‘آزادی کی دوسری لڑائی’ قرار دیتے ہوئے آج مودی حکومت کو اس معاملے پر انتخابات کرانے کا چیلنج کیا۔محترمہ بنرجی نے نوٹ کی منسوخی کے خلاف پارلیمنٹ سے سڑک تک کی لڑائی کے تحت ترنمول کانگریس کی قیادت میں یہاں جنتر منتر پر منعقد ایک دن کے دھرنے میں آنے والے لوگوں سے خطاب کر رہی تھیں۔ دھرنے میں ترنمول کانگریس کے ممبران پارلیمنٹ کے علاوہ جنتا دل یونائیٹڈ کے رہنما شرد یادو، لوک سبھا میں سماج وادی پارٹی کے نائب رہنما دھرمیندر یادو اور ایم پی جیا بچن، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے رہنما ماجد مینن، عام آدمی پارٹی کے ترجمان راگھو چڈھا اور کچھ دیگر رہنما بھی شامل ہوئے ۔محترمہ بنرجی نے نوٹ کی منسوخی کے سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے ان کے اس اقدام کو آمرانہ قرار دیا جس سے محنت کش مزدور، کسان، چھوٹے تاجر، خواتین اور نوجوان پریشان ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ‘اچھے دن لانے ‘ کا وعدہ کرکے ووٹ لینے والے مودی سوئس بینک سے تو ایک بھی پیسہ نہیں لا سکے اس کے برعکس عوام کا نوٹ چھین لیا۔ مودی کو ہٹلر سے بھی زیادہ ظالم اور گھمنڈی قرار دیتے ہوئے ترنمول کی سربراہ نے کہا کہ وہ اپوزیشن جماعتوں، خواتین اور میڈیا سب کو دھمکی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ کی منسوخی کے بارے میں حکومت کا خفیہ ایجنڈا جلد ہی سامنے آ جائے گا۔ اس اقدام سے حکومت کی ساکھ ختم ہو گئی ہے ۔ ایسے میں تمام جماعتوں اور معاشرے کے ہر طبقے کو نوٹ کی منسوخی کے خلاف آزادی کی دوسری لڑائی کے لئے کمر کس لینی چاہئے ۔ محترمہ بنرجی نے کہا کہ نوٹ کی منسوخی پر اشتہارات دے کر عوام کی رائے سامنے نہیں آئے گی۔ حکومت میں اگر ہمت ہے تو انتخابات کراکر دیکھے ۔ انہوں نے کہا کہ اترپردیش اور پنجاب کے آئندہ اسمبلی انتخابات میں مسٹر مودی کو عوام کا جواب مل جائے گا۔محترمہ بنرجی نے کہا، ”مودی جی ملک آپ کے ہاتھ میں محفوظ نہیں ہے ۔ آپ کو جانا ہی ہوگا”۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں اپوزیشن اور عوام کی بات سنی جانی چاہئے ۔ نوٹ تبدیل کرنے کا حق صرف مرکزی اداروں کو دیئے جانے پر سوال کھڑا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت ریاستوں کی معیشت برباد کرنا چاہتی ہے ۔ مودی حکومت کو گونگی بہری قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عام لوگوں کا مسئلہ حل ھونے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔ جد یو کے ممبر پارلیمنٹ شرد یادو نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم کو پارلیمنٹ میں آکر یہ بتانا چاہئے کہ نوٹ کی منسوخی سے کالے دھن پر چوٹ کس طرح پہنچے گی، دوسری صورت میں جس طرح ایمرجنسی کے بعد نسبندی پر کانگریس حکومت گئی تھی، اسی طرح نوٹ کی منسوخی پر یہ حکومت جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ کی منسوخی ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر نے نہیں بلکہ مسٹر مودی نے کی ہے اس لئے اس سے ہونے والی تباہی کا جواب بھی انہیں ہی دینا ہوگا۔ اس اقدام سے صدر، چیف جسٹس اور الیکشن کمیشن سمیت تمام ادارے ہل گئے ہیں۔مسٹر یادو نے سوال کیا کہ آخر کس قانون کے تحت لوگوں کو بینکوں میں رکھے اپنے پیسے نکالنے سے روکا جا رہا ہے ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جلد سے جلد عوام کی پریشانی کا حل نہیں نکلا تو پورا اپوزیشن متحرک ہوگا اور پورا ملک جنتر منتر بن جائے گا۔ایس پی ممبر پارلیمنٹ دھرمیندر یادو نے کہا کہ نوٹ کی منسوخی سے لوگوں کی موت ہو رہی ہے ، کسانوں کو ربیع کی بوائی کی ضرورت کے لئے روپے نہیں مل رہے ہیں اور شادیاں ٹوٹ رہی ہیں۔مسٹر دھرمیندر یادو نے کہا کہ مسٹر مودی وجے مالیا اور للت مودی کو تو واپس نہیں لا پا رہے ہیں اور کالے دھن کے نام پر عام آدمی کو پریشان کر رہے ہیں۔ ایک طرف تو حکومت کہتی ہے کہ بڑے نوٹوں سے کالا دھن بڑھ رہا ہے دوسری طرف دو ہزار روپے کے نوٹ لا رہی ہے ۔ آپ کے ترجمان راگھو چڈھا نے نوٹ کی منسوخی کو آزاد ہندوستان کی تاریخ کا سب سے بڑا گھپلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان نوٹوں سے بینکوں پر بقایا سرمایہ داروں کے آٹھ لاکھ کروڑ روپے کا قرض معاف کیا جائے گا۔نوٹ کی منسوخی کو تغلقی فرمان قرار دیتے ہوئے انہوں نے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا اعلان کیا۔این سی پی کے رہنما ماجد میمن نے اپنے خطاب میں نوٹ کی منسوخی کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا، مودی جی نے اپنے ایک کروڑ سرمایہ دار دوستوں کے لئے 124 کروڑ عوام کو سزا دی ہے ۔ راجیہ سبھا میں وزیر اعظم کی موجودگی کی اپوزیشن کا مطالبہ نہ ماننے تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے پارلیمنٹ کو سڑک سے بھی بدتر بنا دیا ہے ۔دھرنے کو ہاردک پٹیل کی قیادت والے پاٹیدار انامت تحریک کمیٹی کے اکھلیش کاٹیال نے بھی خطاب کیا۔

About the author

Dr.Mohammad Gauhar

Chief Editor - Taasir