سیاست

مودی راج میں عوام کی کوئی وقعت نہیں:راہل

Written by Dr.Mohammad Gauhar

نئی دہلی 21 نومبر (یو این آئی) کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے نوٹ بندی کے فیصلے اور کانپور میں ہوئے ریل حادثے پر مودی حکومت پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو عام لوگوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور اس کی تمام پالیسیاں چند لوگوں کو ذہن میں رکھ کر طے کی جا رہی ہیں۔مسٹر گاندھی نے آج یہاں پارلیمنٹ احاطے میں نامہ نگاروں سے کہا وزیر اعظم نریندر مودی نے بغیر کسی تیاری کے نوٹ بندی جیسا اہم فیصلہ کر لیا۔ ایک بار نہیں سوچا کہ اس کا عام آدمی پر کیا اثر ہوگا۔ کالا دھن والے تو ہاتھ آنے والے نہیں عام آدمی ضرور پریشان ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ جہاں بھی گئے ہر جگہ لوگ یہ شکایت کر رہے ہیں کہ بینکوں کے باہر وہ گھنٹوں لائن میں لگے رہ جاتے ہیں لیکن چند لوگ پچھلے دروازے سے اپنا کام آرام سے نپٹایا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا “نوٹ بندی کا فیصلہ کرکے مسٹر مودی پتہ نہیں خود کی کیا تصویر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ آج کل ان کی کوئی نئی شکل سامنے آئی ہے ۔ ‘سپر پرائم منسٹر’ بھی نہیں کہہ سکتے ہیں۔ ان کے لئے کوئی نیا لفظ نکالنا پڑے گا۔ “کانگریس نائب صدر نے کل کانپور میں ہوئے ریل حادثے میں بڑی تعداد میں لوگوں کے مارے جانے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف تو مسٹر مودی ملک میں کروڑوں کی لاگت سے بلٹ ٹرین چلانے کی بات کرتے ہیں وہیں دوسری طرف جو ٹرینیں چل رہی ہیں ان میں تحفظ کے ہی کافی انتظامات نہیں ہو پا رہے ہیں۔ عوام کے لئے ریل سفر محفوظ نہیں ہو پا رہا ہے ۔ پہلے اس پر کام ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ عوام کے لئے ٹرین کا سفر بہتر سہولیات والا اور محفوظ ہو سکے ۔ سفر کے گھنٹے کم ہو سکیں۔ یہ چیزیں اولین ترجیح ہیں، بلٹ ٹرین نہیں۔ اس بیچ 500 اور 1000 روپے کے نوٹ بند ہو جانے سے لوگوں کو درپیش پریشانیوں کو جاننے کیلئے کانگریس نائب صدر راہل گاندھی آج صبح دارالحکومت کے کئی اے ٹی ایم کے باہر لائن میں کھڑے لوگوں سے ملنے پہنچے ۔مسٹر گاندھی نے اندرلوک، جہانگیرپوری، آنند پروت اور دیگر مقامات پر اے ٹی ایم سے رقم نکالنے کی لائن میں کھڑے لوگوں سے ملاقات کی۔ انہوں نے نوٹ بندی کے سبب لوگوں کو ہو رہی پریشانیوں کے بارے میں جانا۔مسٹر گاندھی نے 11 نومبر کو پارلیمنٹ اسٹریٹ میں واقع اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں قطار میں لگ کر چار ہزار روپے کے نوٹ تبدیل کرا ئے تھے اس کے علاوہ بھی وہ کئی دیگر مقامات پر بھی لوگوں کی پریشانیاں جاننے کے لئے گئے تھے ۔نوٹ بندی کے سبب پارلیمنٹ کی کارروائی بھی نہیں چل پا رہی ہے ۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی، دہلی کے وزیر اعلی اروندکیجریوال، کانگریس، بائیں بازو ، بہوجن سماج پارٹی اور سماج وادی پارٹی کا کھل کر اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے نوٹ بندی کی حمایت کی ہے لیکن لوگوں کو ہو رہی پریشانیوں کو دور کرنے کی بات کہی ہے ۔واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے آٹھ نومبر کی درمیانی شب سے 500 اور 1000 روپے کے نوٹوں کا چلن بند کردیا تھا۔ اس کے بعد سے بینکوں میں نوٹوں کو تبدیل کرانے اور اے ٹی ایم پر نئی کرنسی نکالنے کیلئے لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔

About the author

Dr.Mohammad Gauhar

Chief Editor - Taasir