تعلیم

مولانا آزاد : فکر و عمل کے چند درخشاں پہلو

Written by Dr.Mohammad Gauhar

ڈاکٹر امام اعظم۔۔۔۔(2)۔۔۔
جنگ آزادی میں مسلمانوں کا بہت اہم رول رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ مسلمان اقتدار پر قابض تھے اور انگریزی حکومت کے نشانہ پر بھی تھے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد انگریزوں کے توسط سے اور خصوصاً سامراجی پلاننگ کے تحت دنیا میں ایک Think Tankبنایا گیاتاکہ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی سوچ کو قابو میں کیا جاسکے۔ اس لئے یہ پتہ لگانے کی کوشش کی گئی کہ وہ کون سی ایسی طاقت یا نظریہ ہے جوان کو متحد رکھتا ہے۔ اس لئے پروپگنڈہ کے ذریعہ اسلام کے بنیادی عقائد پر حملہ شروع کیا گیا۔ برٹش حکومت نے یہ محسوس کیا کہ ہر سطح پر ان کے اقتدار کی مخالفت مسلمانوں نے کی ہے۔ اس لئے مسلمانوں کو تقسیم کرنے کے لئے مسلکی اعتبار سے علیحدہ علیحدہ گروپ میں تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن مسلمان جہاں بھی رہے وہاں انگریزوں کی مخالفت کا زور کم نہ ہوا۔
نوابوں اور بڑے زمینداروں نے انگریزوں سے صلح کرنے کی کوشش کی تاکہ مسلم عوام قابو میں رہیں۔ اس مشن میں انگریز کامیاب رہے اور نوابین اور زمینداروں کو زیادہ سہولتیں فراہم ہوگئیں لیکن عوام نے اور بالخصوص مسلم عوام نے یہ محسوس کیا کہ انگریزی حکومت کے آجانے سے ان کی مذہبی آزادی پر گہری ضربیں لگائی جارہی ہیں او ریہ حقیقت ہے کہ انگریزوں نے مسلمانوں کے لئے خصوصی خفیہ محکمہ بھی قائم کیا تھا نتیجتاً بہت ساری تحریکیں دم توڑ چکی تھیں۔ ان کے عقائد کی بنیاد پر انہیں پنپنے نہیں دیا گیا کیونکہ یہ ساری تحریکیں انگریزوں کو مسلم دشمن مانتی تھیں۔ اس میں ان کی شدت پسندی عیاں تھی۔ لہٰذا برٹش حکومت نے انہیں متحد ہونے نہیں دیا۔ ایسے ہی ماحول میں مولانا آزاد نے اپنی سوچ کا رخ بدلا تھا اور ملک کی سیاسی صورت گری کے لئے انہوں نے ہمہ جہت اقدار کو ہمیشہ پیش نظر رکھا تھا یہی وجہ ہے کہ اکثر اپنے خطبات میں انہوں نے بیباکی کا اظہار کیا ہے اور برٹش حکومت پر وہ اپنا نشانہ سادھنے میں کبھی نہیں چوکتے تھے۔ ایک بار تقریر کرتے ہوئے انہوں نے اس طرح اعترافانہ مشورہ دے ڈالا تھا:
”ہاں ہاں میں نے سپاہیوں سے، ہندوستان کی برٹش فوج سے یہ کہا ہے اور جب تک میرے حلق میں آواز پھنستی نہیں یہی کہتا رہوں گا اور آج بھی اعلان کرتا ہوں اور جب تک میری زندگی باقی ہے ہر صبح کو ، ہر شام کو میرا پہلا فرض یہی ہوگا کہ سپاہیوں کو ورغلاﺅں اور ان سے کہوں کہ گورنمنٹ کی نوکری چھوڑ دو۔ کیا عظیم الشان برٹش گورنمنٹ جس کی حکومت میں کبھی سورج نہیں ڈوبتا، تیار ہے کہ گرفتار کرے؟ اگر یہ جرم ہے تو اس جرم کا ارتکاب تمام ملک کررہا ہے۔ میں نے سپاہیوں سے کہا ہے اور لوگوں سے بھی کہا ہے کہ تم سپاہیوں کے پاس چھاﺅنیوں میں جاﺅ اور یہ پیغام سناﺅ۔ پھر برٹش گورنمنٹ اگر اپنی طاقت کا گھمنڈ رکھتی ہے تو کیوں نہیں قدم آگے بڑھاتی، کیا گورنمنٹ مشینری پر فالج گر گیا ہے؟“
مولانا آزاد کے ایسے خطبات میں چنگاری کی رمق ملتی ہے اور انگریزی حکومت سے منافرت کی بو بھی آتی ہے۔
مولانا آزاد ایک بڑے مفکر، دانش ور اور عالم دین تھے۔ گرچہ ان کا مشن انگریزوں کے خلاف تھا اور تحریک آزادی میں یہ کانگریس کے ساتھ تھے لیکن ساتھ ہی وہ اپنی ایک الگ مستحکم فکر رکھتے تھے اور ان کا ماننا تھا کہ ہندوستان ایک قدیم تہذیبی گہوارہ ہے جسے یہاں کے تمام باشندوںنے مل کر سینچا اور سنوارا ہے۔ اسلئے یہ ملک انگریزوں کی غلامی برداشت نہیں کرسکتا۔ مسلمان وطن پرستی کے جذبہ سے سرشار تھے اس لئے ان پر مولانا کی تحریروں کا خاصا اثر جنگ آزادی سے قبل اور جنگ آزادی کے بعدبھی ہوتا رہا ۔ مولانا نے اس کا احساس دلانے کے لئے اکثر اپنے خطبات میں اشارةً نہیں بلکہ کھلے الفاظ میں اعتماد پیدا کرنے اور اپنی انفرادیت کو سنوارنے کے سلسلہ میں انقلاب آگیں غور وفکر اور عمل پیہم پر توجہ دلائی ہے ۔ ۴۲ اکتوبر ۷۴۹۱ءکو انہوں نے دہلی کی جامع مسجد میں ایک بڑے مجمع کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ:
”میں نے تمہیں ہمیشہ کہا ہے اور آج پھر کہہ رہاہوں کہ تذبذب کا راستہ چھوڑو، شک سے ہاتھ اٹھالو اور بدعملی کو ترک کردو ۔ یہ تیز دھار والا خنجر لوہے کی اس دودھاری تلوار سے زیادہ کاری ہےیہ فرار کی زندگی ہجرت نہیں ہے آخر کہاں جارہے ہو اور کیوں جارہے ہو۔ یہ مسجد کے مینار تم سے جھک کر سوال کرتے ہیں کہ تم نے اپنی تاریخ کے صفحات کو کہاں گم کردیا ہے ۔ ابھی کل کی بات ہے کہ یہیں جمنا کے کنارے تمہارے قافلوں نے وضو کیا تھا اور آج تم ہو کہ تمہیں یہاں رہتے ہوئے خوف محسوس ہوتا ہے۔ حالانکہ دہلی تمہارے خون سے سینچی ہوئی ہے۔ اپنے اندر بنیادی تبدیلی پیدا کرو ۔ بزدلی اور مسلمان ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے۔“
چونکہ مولانا ایک زبردست مقرر بھی تھے اور ساتھ ہی اپنی تحریروں سے دلوں کو مسخر کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے اس لئے انگریزوں کی کڑی نظر مولانا پر رہتی تھی ۔”الہلال“ اور” البلاغ“ جیسے اخبارات کلکتہ سے شائع کرکے ملک گیر پیمانہ پر غلامی کے خلاف جو تحریک وہ چلاتے رہے اس میں یہ بات بھی شامل تھی کہ ہندواور مسلمان کے درمیان اتحاد کسی بھی حال میں ختم نہ ہونے پائے۔ قومی یکجہتی اور بھائی چارگی کا جذبہ بیدار کرنا اور اپنے دشمن انگریز کو ہندومسلم منافرت پھیلانے میں کامیاب ہونے نہیں دینا ان کا مقصد تھا۔
انہوں نے اپنے مشن کو بخوبی عوام کے درمیان مشتہر کیا لیکن انگریزوں کے مظالم نے” الہلال“ اور” البلاغ“ کو بند کرکے اپنی جابرانہ پالیسی کے تحت افکار وخیالات کی آزادی کا گلا گھونٹنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ مولانا کو رانچی اور احمد نگر جیل جیسے مقامات پر قید کر دیا جہاں انہیں صعوبتیں بھی دی گئیں اور ان کے اندر آزادی کے لئے پائی جانے والی دیوانگی کو پامال کرنے کی کوشش بھی کی گئی مگر پھر بھی وہ انگریزوں کی مخالفت میں نرمی برتنے کے لئے بالکل تیار نہیں تھے۔
مولانا کی صلاحیتوں سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ ان کے اندر بے پناہ ادبی، علمی اور دینی صلاحیت تھی۔ ان کی تقریری خوبیوں کا بھی برٹش حکومت لوہا مانتی تھی اور عوام پر کانگریس کے پلیٹ فارم سے جو انہوں نے اثرات مرتب کئے تھے وہ قابل قدر تھے۔ مولانا آزاد ایک عظیم مدبر تھے اور ایک مدبر کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ سو سال آگے تک کے حالات کو سمجھ لے اور اپنی رائے قائم کرے اور دوسروں کو بھی اس کی حقیقت سے واقف کرادے۔ مولانا آزاد ایک مدبر کی حیثیت سے کھرے اترے۔ وہ تقسیم ہند کی مخالفت کرتے رہے۔ اس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ مشرقی پاکستان، بنگلہ دیش بن گیا۔ مذہبی بنیاد پر کسی ملک کا بٹوارہ کتنا مضر ہوتا ہے اس کا نتیجہ ہندوستان کے مسلمان اور پاکستان کے مہاجر اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ مولانا کی لاکھ مخالفت کے باوجود ہندوستان تقسیم ہوگیا اور پورا ملک آگ اور خون کی ہولی کھیلتا رہا اور برسوں تک اس کے برے نتائج سامنے آتے رہے۔ کشمیر کا مسئلہ آج بھی درد سر ہے۔ بنگال کے ٹکڑے ہوگئے تھے۔ پنجاب بٹ چکا تھا۔ سندھ کے دو حصے ہوچکے تھے۔ کشمیر بھی آدھا ادھر آدھا ادھر ہے۔ یہ کیسی تقسیم تھی، یہ کیسا بٹوارہ تھا جس سے دونوں ممالک کے عوام خوش نہیں تھے۔ یہ ساری باتیں مولانا نے اپنی تقریروں اور تحریروں میں جابجا پیش کی تھیں لیکن فرقہ پرستی کے زہرسے دونوں طرف دو قومی نظریہ کی بنیاد پڑ چکی تھی۔ محبت کی جگہ نفرت نے لے لی تھی۔ عقل پر پٹیاں بندھ گئی تھیں دور تک دیکھنے کے لئے کوئی تیار نہیں تھا۔
لیکن شومی¿ قسمت کہ برٹش حکومت نے سازش کرکے کانگریس میں بھی دو الگ الگ فکری نظریے پروان چڑھانے میں بہت حد تک کامیابی حاصل کرلی تھی۔مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ مولانا آزاد نے دور اندیشی سے کام لے کر دو مختلف نظریہ کے رد کے لئے اور کانگریس کو ایک ہی پلیٹ فارم پر دیکھنے کے لئے کانگریس رہنماﺅں کو فڈریشن کا مشورہ دیا تھا۔ اگر اس پر عمل آوری ہوتی تو ہندوستان اور پاکستان دو ملک نہیں بنتے بلکہ قومی یکجہتی کو استحکام ملتا اور مولانا آزاد کے نقطہ¿ نظر کے پیش نظر دفاعی اتحاد مساوی طور پر مستحکم ہوتا اور انگریز حاکموں کے جابرانہ رویے میں بھی ایک الگ رجحان سے نفسیاتی اثر سامنے آتا لیکن مسلمانوں میں لیگی خیالات اور کانگریس میں ہندو کٹر پنتھی کی وجہ سے جو ٹکراﺅ ہوا اس کا اثر یقینی طور پر ملکی سیاست پر پڑا جس کی تفصیل مولانا آزاد کی تحریروں میں جابجا ملتی ہے۔ مولانا آزاد نے اصلاحی کوششوں کے لئے قلم کو ہتھیار بنایا اور اصلاح معاشرہ کی طرف ان کا رجحان بڑھتا گیا لیکن سیاست میں بھی ان کی پکڑ مضبوط تر ہوتی گئی جس سے استفادہ نہرو جیسے دیدہ ور و سیاست داں تاعمر کرتے رہے۔ انگریز بھی یہی چاہتے تھے کہ کانگریس کے اندر کے ہندوکٹرپنتھی اور اقتدار کے لالچی اس بنیاد پر خلیج پیدا کرلیں اور یہ افواہ پھیلائی گئی کہ اس مشن میں انگریز کامیاب ہوگئے ہیں۔یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ ہندو کٹرپنتھی مسلمانوں کو ان کا جائز مقام نہیں دیں گے اور ان کی قربانیوں کو فراموش کردیں گے تب مولانا آزاد بھی ذہنی طور پرالجھن کے شکار ہوئے۔ ( جاری )

یہ بات صرف کانگریس کے کچن کیبنٹ تک ڈھکی چھپی نہیں رہی بلکہ سیاسی گلیاروں سے لے کر عوامی شاہراہوں پر بھی موضوع بحث ہوگئی کہ آزادی کے بعد مسلمانوں کو کچھ نہیں ملنے والا ہے ۔ اس موقع پر مسلم لیگی ذہنیت ابھر کر سامنے آئی اور جناح نے اس افواہ کو سنجیدگی سے لیا اور ایک نئی خود مختار حکومت کے بارے میں سوچ کر ریاست پاکستان کی مانگ کرلی۔ اس پر انگریزوں نے اپنی سازش کو کامیاب ہوتے دیکھ کر ظاہراً تو اپنا رد عمل سامنے نہیں آنے دیا لیکن Two Nation Theoryکی وکالت کو منظوری دے دی۔ مولانا آزاد کی تمام تر کوششوں اورگاندھی جی کی یقین دہانیوں کے باوجود ملک تقسیم ہوگیا اور پاکستان میں جناح اور ہندوستان میںنہرو اقتدار پر قابض ہوگئے ۔مولانا کی جانب سے دو قومی نظریہ کی ناکامی کے لئے حکمتِ عملی بہت اپنائی گئی لیکن جناح اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے، نہرو نے اقتدار پانے میں کامیابی حاصل کی اور برٹش حکومت کی سازش ہندوستان کے ہندومسلمان کے درمیان تفرقہ پھیلانے میں کامیاب ہوگئی اور مولانا آزاد جنہوں نے جنگ آزادی کو اپنا لہو پلایا تھا، قربانیاں دی تھیں ان کے نظریہ کو تہہ خانہ میں بندکرکے رکھ دیا گیا۔ مولانا آزاد ہندوکٹرپنتھیوں کے شکار ہوگئے اور انگریزوں کی سازش سے معتوب۔
مولانا آزاد نے جنگ آزادی میں جو قربانی دی اور جو مدبرانہ فیصلے لیے اس کا حشر بھی ہم لوگ دیکھ چکے۔ مولانا کے مطابق دو لسانی جماعتیں دو مختلف علاقے میں بٹ کر ایک ملک نہیں ہوسکتیں نتیجتاً بنگلہ دیش اس کی مثال ہے اور یہ بھی کہ دو کمیونٹی یا قوم ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں جس کو جناح نے اپنی دلیل بنائی تھی اس کی مثال ہندوستان ہے کہ تمام دنگے اور فسادات کے باوجود آج بھی ہندوومسلمان ایک ساتھ رہتے ہیں اور تمام شعبہ¿ حیات میں اشتراک کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ اس لئے آج مولانا آزاد غیر مسلموں میں بھی مقبول ہیں اور مسلمانوں میں بھی۔ مولانا آج کے تناظر میں جب بھی دیکھے جائیں گے تو وہ ہندو اور مسلمان کی حیثیت سے نہیں دیکھے جائیں گے بلکہ آزادی کے علمبرداروں کی طرح ان کا جائزہ لیا جائے گا کیونکہ بر صغیر مشترکہ تہذیب کا گہوارہ تھا۔ اس مشترکہ تہذیب کو برباد کرنے والے لوگ کل بھی سرگرم عمل تھے اور آج بھی سرگرم عمل ہیں۔ اس میں ہندو اور مسلمان کی کوئی قید نہیں کیونکہ نفرت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور اس سے اتحاد پارہ پارہ ہوتا ہے اور اس سے اجتماعی طور پر قوم کا نقصان ہوتا ہے۔ نظریے تو بنتے اور بگڑتے ہیں لیکن قومیں آباد رہتی ہیں اور مذہب کی بنیاد پر قائم نظریہ کسی ملک اور سیاست کے لئے مہلک ہوتا ہے۔ یہ بات کل بھی مولانا نے سمجھائی تھی اور آج بھی اس بات سے ہر آدمی اتفاق کرے گا۔ کیونکہ انہوں نے تاریخی پس منظر میں ملکوں کے عروج و زوال کی داستانوں کو دیکھا تھا اور اس کے نتائج بھی مولانا کے ذہن میں تھے اس لئے وہ عوام کو ہلاکت خیزی سے بچانے کے لئے مسلسل جدوجہد کرتے رہے۔ اس کے لئے۱۱سال کی عمر سے ہی انھوں نے خود کو صحافت سے جوڑا اور ”نیرنگِ عالم “ ، ”المصباح“ ، ”احسن الاخبار“ ،”خدنگِ نظر“ اور ”ایڈورڈ گزٹ“ کی ادارت کی۔ ”الندوة“ لکھنو¿ ، ”وکیل “ امرتسر اور ”دارالسلطنت“ کلکتہ کے ایڈیٹوریل بورڈ میں رہے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مولانا محی الدین احمد فیروز بخت ابوالکلام آزاد کی شخصیت نابغہ¿ روزگار تھی اور وہ منفرد و ممتاز اُسلوب کے موجد و خاتم تھے۔ مولانا کا اُسلوب جدید ذہن کو متاثر ہی نہیں کرتا بلکہ مسحور بھی کرتا ہے۔ اس کا ایک ایک لفظ اپنی انانیت ، بلاغت ، اشاریت ، ایمائیت ، تصویریت ، موسیقیت کے باعث نقش کاالحجر بن کر ابھرتا ہے ، دل کی بساط الٹ دیتا ہے ، افکار و نظریات و خیالات کی دنیا میں ہلچل پیدا کر دیتا ہے ۔ انھوں نے جس اسلوبِ نگارش کی بنا ڈالی اس میں شاعری اور نثر کے درمیان کوئی فاصلہ باقی نہ رہا۔
جہاں تک مولانا کے دینی نظریہ کا تعلق تھا‘ وہ اسلام کو امن کا مذہب مانتے تھے۔ استحصال کی نفی اور آزادی کو اسلام کی بنیاد تصور کرتے تھے اور کسی طرح سے بھی عصبیت کا شکار ہونے کو ہلاکت خیزی تصور کرتے تھے اس لئے بڑے بڑے دانشور جن میں مسلم ،غیر مسلم اور فرنگی بھی شامل رہے ہیں، مولانا کی ان کوششوں کو ایک صحت مند قومی نظریہ مانتے ہیں۔
مولانا کی ہمہ جہت شخصیت تھی۔ علم وفضل اور سیاسی سوجھ بوجھ میں انھیں مہارت حاصل تھی ۔ صحافت اور سیاست ان کی زندگی کے دو نمایاں پہلو تھے۔ ”الہلال “ اور ”البلاغ“ کی اشاعت کا طنطنہ اس کا شاہد ہے۔ مجاہدِ آزادی بھی تھے اور شہر بدر ہونا اور سلاخوں کے پیچھے رہنا ان کے معمولاتِ زندگی میں شامل تھا۔ وسیع النظر ہونا اور عالمی سطح پر علمی کوششوں کو جس میں سائنسی کوششیں بھی شامل ہیں ‘ پر مضامین لکھنا ان کی وسیع النظری اور وسیع القلبی کا جیتا جاگتا نمونہ ہے۔ ان کی انشاءپردازی ، ان کی تحریر کی لطافت ، ان کا Sense of Humour بامِ عروج پر تھا۔ ”الہلال“ 13 جولائی 1912ءمیں افقِ صحافت پر نمودار ہوا تو اس کی تیز کرنیں پورے ملک میں پھیل گئیں جنھوں نے عوام الناس کو بیدار کردیا۔ ”الہلال“ کی اشاعت صحافت کی ترقی کا مسئلہ تھا‘ نہ ہی قلم کی جولانی دکھانے کا کوئی آلہ ، یہ تو قومی ترقی کو فروغ دینے کا ترجمان تھا۔ یہاں عقل کی گنجائش تھی نہ نفع کا سودا ۔ ”الہلال“ کے تیسرے شمارے کے شذرات میںمولانا لکھتے ہیں :
”ہم اس بازار میں سودائے نفع کے لئے نہیں بلکہ تلاشِ زیاں و نقصان میں آئے ہیں۔ صلہ و تحسین کے لئے نہیں بلکہ نفرت و دشنام کے طلب گار ہیں۔ عیش کے پھول نہیں بلکہ خلش و اضطراب کے کانٹے ڈھونڈتے ہیں۔ دنیائے سیم و زر کو قربان کرنے کےلئے بلکہ خود اپنے تئیں قربان کرنے آئے ہیں ….
بدہ بشارتِ طوبیٰ کہ مرغِ ہمتِ ما براں درخت نشیند کہ بے ثمر باشد
(”الہلال“ جلد :۱ ، شمارہ : ۳ ، صفحہ :۲)
”الہلال“ کی اشاعت نے سوتے کو جگایا۔ اس سے صرف صحافت کی دنیا ہی میں انقلاب نہیں آیا بلکہ ملکی ، ملّی اور سیاسی روشن خیالی بھی عام ہوئی۔ جذبہ¿ حریت کو فروغ دینے میں اس اخبار نے جو کردار ادا کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ”الہلال “ مولانا آزاد کی علمی ، ادبی ، دینی اور سیاسی بصیرت کا آئینہ دار تھا۔ اس پر ان کی شخصیت کی چھاپ تو تھی ہی لیکن سب سے بڑھ کر ہندوستانیوں کے سوئے ہوئے ذہن کو جگانے کا ایک پیغام تھا۔ مولانا کا مقصد ہندوستان کے مسلمانوں کو علمی ، فکری اور عملی سطح پر بیدار کرنا تھا اور ہندوستانیوں کو بالعموم اور مسلمانوں کو بالخصوص ، غلامی کی زنجیر کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرنا تھا۔ انھوں نے ہر ہر لفظ کو جذبہ¿ حریت کا ایک جام اور آزادی کی جدوجہد کا پیغام بنا دیا تھا۔ ہرلفظ جذبے کی تیز و تند آنچ میں ڈھلا ہوا ایک شعلہ تھا۔ اس نے ہندوستانی مسلمانوں اور ہندوو¿ں میں نہ صرف محبت کی جوت جگائی بلکہ انھیں تازیانے بھی لگائے۔ مسلمانوں کو اس پر آمادہ کیا کہ وہ بھی اس جہدِ آزادی میں اپنا فرض ادا کریں ۔ وہ قومیں جو غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوتی ہیں‘ صفحہ¿ ہستی سے مٹا دی جاتی ہیں۔ ان کا پیغام غیر متزلزل تھا۔ اس میں کوئی تذبذب نہ تھا۔ وہ آزادی کا پیغام دینے کے لےے جیل جانے کو تیار تھے۔ گھر کے زیورات گروی رکھے گئے لیکن پیغام کا سلسلہ جاری رہا۔ ”الہلال“ ۸۱ دسمبر ۲۱۹۱ءکے شمارے میں کہتے ہیں :
”ایک وقت تھا میں نے ہندوستان کی آزادی کے حصول کا احساس دلاتے ہوئے کہا تھا …. جو ہونے والا ہے اس کو کوئی قوم اپنی نحوست سے روک نہیں سکتی ۔ ہندوستان کی تقدیر میں سیاسی انقلاب لکھا جاچکا ہے اور اس کی زنجیریں بیسویں صدی کی ہوائے حریت سے کٹ کر گرنے والی ہیں …. اگر تم نے وقت کے پہلو بہ پہلو قدم اٹھانے سے پہلو تہی کی اور تعطل کی موجودہ زندگی کو اپنا شعار بنائے رکھا تو مستقبل کا مورخ لکھے گا کہ تمہارے گروہ نے جو ۷کروڑ انسانوں کا ایک غول تھا ‘ ملک کی آزادی کے بارے میں وہ رویہ اختیار کیا جو صفحہ¿ ہستی سے مٹ جانے والی قوموں کا شیوہ ہوا کرتا ہے ۔ آج ہندوستان کا جھنڈا پورے شکوہ سے لہرا رہا ہے ۔ یہ وہی جھنڈا ہے جس کی اڑانوںسے حاکمانہ غرور کے دل آزار قہقہے تمسخر کیا کرتے تھے ۔ “
انھوں نے کلکتہ سے اس ہفت روزہ اخبار کا اجراءکر کے اردو صحافت کی تاریخ میں ایک شان دار باب کا اضافہ کیا۔ ”الہلال“ مولانا آزاد کی تعلیمی ، ادبی ، دینی و سیاسی بصیرت کا عکس تھا ۔ اس پر ان کی شخصیت کی پوری چھاپ ملتی ہے ۔
مولانا کی صحافت سے مسلمانوں میں بیداری کی لہر دوڑ گئی اور وہ آزادی کی راہ میں اپنے ہم وطنوں کے ساتھ شانہ بشانہ گامزن ہوگئے ۔ اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ تین ماہ کے اندر اس کے تمام شماروںکو دوبارہ طبع کرانا پڑا ۔ اتنا ہی نہیں ”الہلال “ کی اشاعت پچیس ہزار کی حد کو پار کرگئی جو اس وقت کے لحاظ سے ایک بڑی بات تھی ۔ ”الہلال “ کی امتیازی خصوصیت اس کے عالمانہ مضامین اور مولانا آزاد کا انفرادی اسلوب تھا۔
مولانا آزاد کی پرورش و پرداخت خالص دینی ماحول میں ہوئی تھی۔ ان کی فطرت شروع سے باغیانہ رہی جو غلامی کو قبول نہیں کرسکتی تھی ۔ اس کا ثبوت ان کا اسلوبِ نگارش ہے ۔ ان کی نگارشات کا اسلوب و آہنگ جداگانہ ہے۔ پسِ دیوارِ زنداں لکھے جانے والے ”غبارِ خاطر “ کے خطوط ہوں یا ”الہلال “ و ”البلاغ“ کا خطیبانہ اور پرشکوہ انداز‘ ان کی انفرادیت ہر جگہ قائم رہتی ہے۔ مولانا کی یہ صلاحیت خدائے بخشندہ کی بخشی ہوئی تھی اور انھوں نے عوام کے اندر قوم پرستی کے جذبات کو بیدار کرنے اور اسے غلامی کی زنجیروں کو توڑ پھینکنے پر آمادہ کرنے کے لےے اپنی اس خداداد صلاحیت کا بھرپور استعمال کیا۔ اپنے دونوں اخبارات کے ذریعہ انھوں نے خوابیدہ قوم کو بیدار کرنے کا فریضہ انجام دیا نیز برطانوی حکومت کی پالیسیوں اور اس کے مظالم کے خلاف جہاد چھیڑ دیا ۔ پہلی جنگِ عظیم کے دوران جب ہندوستانی اخبارات پر سنسر لگا اور ”الہلال“ پر پابندی لگا دی گئی تو اس کے بعد انھوں نے ”البلاغ“ کو جہاد کا وسیلہ بنایا۔ اس کے ذریعہ بھی انھوں نے ملک و قوم کی وہ عظیم الشان خدمات انجام دیں جن کے ذکر کے بغیر اردو صحافت کی تاریخ نامکمل ہے ۔ ۲۱ نومبر ۵۱۹۱ءمیں ”البلاغ“ جاری ہوا تو حق کی اس آواز کو دبانے کے لےے برطانوی قہر و غضب کی بجلیاں گریں اور چھ ماہ کے اندر ہی اسے بھی بند کردینا پڑا۔ یہ مولانا کے اسلوبِ نگارش کا کمال تھا کہ بقول سعید الحق دسنوی ان کے جملے آگ بن کر ان کے قلم سے نکل پڑتے تھے۔ مولانا نے اسلام کی تاریخ کو دہراتے ہوئے مسلمانوں کو آزادی کی تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دی اور اس میں کامیاب بھی ہوئے۔ وہ لکھتے ہیں :
” میں وہ صدا کہاں سے لاو¿ں جس کی آواز چالیس کروڑ دلوں کو خوابِ غفلت سے بیدار کردے۔ میں اپنے ہاتھوں سے وہ قوت کیسے پیدا کروں کہ ان کی سینہ کوبی کے شور سے سرگشتگانِ خواب موت سے ہوشیار ہوجائیں ۔ دشمن شہر کے دروازے توڑ رہے ہیں ۔ اہلِ شہر رونے میں مصروف ہیں۔ ڈاکوو¿ں نے قفل توڑ دےے ہیں اور گھر والے سوئے ہوئے ہیں۔ لیکن اے رونے کو ہمت اور مایوسی کو زندگی سمجھنے والو!یہ کیا ہے کہ تمھارے گھر میں آگ لگ چکی ہے ، ہوا تیز ہے اور شعلوں کی بھڑک سخت ہے ، مگر تم میں سے کوئی نہیں جس کے ہاتھ میں پانی ہو ۔ “
مولانا کا کمال یہ تھا کہ وہ جو کچھ لکھتے تھے وہ دماغ کے ذریعہ دل میں اتر جاتا تھا ۔ ان کی نگارشات کی تہوں میں آتش فشاں موجود تھا جو بارود کی صورت میں جب پھٹتا تھا تو برطانوی حکومت کے ہوش ٹھکانے لگ جاتے تھے۔ مولانا کے ”الہلال“ و ”البلاغ“ کی تحریروں میں جو زیر و بم تھا ، جو رعب و داب تھا اور جو شان و شوکت تھی ‘ شاید اسی سے متاثر ہو کر رشید احمد صدیقی نے کہا تھا کہ ”مولانا کا اسلوبِ تحریر ان کی شخصیت تھی۔ ان کی شخصیت اور ان کا اسلوب دونوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا …. “مولانا پہلے اور آخری شخص ہیں جنھوں نے باقاعدہ قرآن کو اپنے اسلوب کا سرچشمہ بنایا۔
مولانا آزاد نے اپنے اخبار ”الہلال“ اور ”البلاغ“ کے ذریعہ جن مقاصد پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی تھی ‘ وہ ۹۱ویں صدی کے اواخر اور ۰۲ویں صدی کے اوائل کے حالات و حوادث کے پیشِ نظر تھے۔ انھوں نے امتِ مسلمہ میں باہمی نزاعات اور مناقشات ، پریشان خیالی اور یاس و حرماں کی وجہ سے مذہبی خیالات سے بحث کی تھی اور برگزیدہ بندہ کے اعمالِ حسنہ کو اپنی سیرت و کردار کا حصہ بنانے کی دعوت دی تھی ۔ تمدنی اور ثقافتی افکار نے جو نئے باب کھولے تھے ‘اس کی ضرورت آج ۱۲ویں صدی میں بھی ہے کہ آج قوم استبداد کے عذابِ الیم میں مبتلا ہے ۔ آج پوری دنیا میں مسلم قوم عجیب نزع سے گزر رہی ہے اور اس کا شیرازہ ہر طرف بکھرا ہوا نظر آرہا ہے ۔ اس سیلِ رواں کو روکنے کی زبانی کوششیں ہورہی ہیں۔ یہی حالات مولانا آزاد کے زمانے میں بھی تھے جب مسلمانانِ ہند اور انگریزوں کے درمیان کشاکش تھی اور انگریزی مفادات ان کے درمیان حائل تھے۔ آج بھی مسلمان نظر انداز اور معتوب کےے جارہے ہیں مگر جو بھی ہو ‘ مذہب و ملت کی ختم ہوتی ہوئی توقیر کو مولانا آزاد نے اپنے اخبار کے ذریعہ ایک نیا رجحان دینے پر زور دیا تھا جس کی ضرورت آج بھی ہے کہ اخلاقیات کے مسائل میں تصنع اور نمائش کی کثرت ہم اپنے آس پاس دیکھتے ہیں۔
”الہلال“ اور ”البلاغ“ کے ذریعہ مولانا نے نہ صرف سوئی ہوئی قوم کو بیدار کیا اوراسے استعماریت کے خلاف صف آرا کر دیا بلکہ قومی یکجہتی اور ہندو مسلم اتحاد بھی قائم کیا کیوں کہ یکجہتی کے بغیر آزادی کا تصور بھی ناممکن تھا اوریہ بات بلاخوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ ان دو اخبارات نے قومی یکجہتی پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا نہ کیا ہوتا تو شاید آزادی کا خواب شرمندہ¿ تعبیر نہ ہوتا ۔ مولانا کی ولادت ۱۱ نومبر ۸۸۸۱ءمیں مکہ معظمہ میں ہوئی جب کہ انھوں نے ۲۲فروری ۸۵۹۱ءکو بمقام دہلی اس دارِ فانی کو خیرباد کہا۔ مقامِ حیرت ہے کہ مولانا کو وطنِ عزیز سے محبت کا صلہ ملک کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز ”بھارت رتن“ کی صورت میں ان کی وفات کے برسوں بعد ۲۹۹۱ءمیں دیا گیا۔
بہرحال ‘ یہاں یہ عرض کرنا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مولانا نے جہاں آزادی کی جنگ اردو زبان کے ذریعہ لڑی وہیں اس زبان کی آبیاری بھی کی۔ اپنی خوبصورت تراکیب اورد ل نشیں اسلوب کے ذریعہ انھوں نے زبان کو اس لائق بنایا کہ وہ سیاسی افکار کو بھی اپنے اندر سمیٹ سکے اور اسی لئے بجا طور پر مولانا آزاد کو مجاہدِ آزادی کے ساتھ اردوکا ایک اہم ستون تسلیم کیا جاتا ہے۔ راقم الحروف کا ایک شعر اس ضمن میںملاحظہ فرمائیں :
آزادی کا ذکر جو ہوگااردو زباں یاد آئے گی اردو کے لہجے کی قوت ہر دل پر چھا جائے گی
مولانا آزاد کی انشاءپردازی اظہر من الشمس ہے ۔ انھوں نے زبان و بیان اور اسلوب پر خصوصی توجہ دی تھی جو ان کے مزاج کا حصہ تھا ۔ یہ حصہ قابلِ تحسین اس لحاظ سے تھا کہ اردو انشاءپردازی کا جب بھی جائزہ لیا جاتا ہے ، تو مولانا آزاد کے اسلوب کو نظر انداز کردینا ممکن نہیں ہوتا۔ انھوں نے اپنے پیرایہ¿ اظہار کے لئے عربی ، فارسی ، انگریزی اور فرانسیسی زبانوں سے استفادہ کیا تھا۔ اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان کے افکار و نظریات پر بحث کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ گفتگو ان کی انشاءپردازی کے حوالے سے بھی کرلی جائے۔
انشا پردازی بھی ایک تخلیقی عمل ہے۔ اس میں حقائق کو نئے انداز میں پیش کرنا ہی کمال فن ہے۔ روانی، تسلسل، آہنگ، معنویت، Wit Ironyیہ ساری چیزیں جب تک ایک انشا پرداز کے یہاں موجود نہیں ہوں گی اس کے فن پارہ میں کوئی ذائقہ پیدا نہیں ہوسکتا اسیلئے شاعرانہ مزاج اور تخئیل کی اڑان کی ضرورت بیش ازبیش ہوتی ہے۔ اس ہیئت کو انگریزی ادب میںعرصہ دراز سے لکھنے کا فن مانا جاتا ہے ۔ اردو نثر میں انشا پردازی کے بہت سارے نمونے ایسے ہیں جو انگریزی کی انشاءپردازی سے بے حد مماثل ہیں۔ انشا پردازی کا جوہر علمی سوجھ بوجھ کا متقاضی ہوتا ہے۔ بہت ہی ہلکے پھلکے انداز میں انشا پرداز اپنی باتوں کو پیش کردیتا ہے جو حقیقت پر مبنی بھی ہوتی ہےں لیکن سچائی کا براہ راست اظہار نہیں ہوتا بلکہ ایسی سچائی جو باعث تکلیف ہو خوبصورتی کے ساتھ انشا پرواز ہنستے ہنستے اور سہل انداز میں پیش کردیتا ہے۔ یہی ایک انشا پرداز کی پہچان ہوتی ہے جس کو اسٹائل بھی کہہ سکتے ہیں اور اسی سے کسی انشا پرداز کی شناخت ہوتی ہے۔ مولانا آزاد نے بھی انشا پردازی کا اپنا رنگ اور جوہر پیش کیا ہے حالانکہ ناقدین نے ان کی انشا پردازی پر اعتراضات بھی کئے ہیں اور یہ بھی کہا ہے کہ مولانا دقیق، معرب، مفرس اور بہت ہی غیرمعمولی الفاظ کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ اعتراض اپنی جگہ صحیح بھی ہے لیکن مولانا کی انشا پردازی کو محض اردو ادب کے تناظر میں دیکھنا غلط ہوگا۔ مولانا کی علمی بصیرت سے دنیا واقف ہے۔ انہیں کئی عالمی زبانوں کے ادب کو جاننے کا براہ راست شرف حاصل تھا۔ وہ اردو ادب کو بھی ان خوبیوں سے مالا مال کرنا چاہتے تھے اسی لئے مولانا کی تحریروں پرناقدین کی سرسری نگاہ سے یہ مغالطہ پیدا ہوگیا کہ مولانا کی تحریریں معرب اور مفرس ہوا کرتی ہیں۔ لفظوں میں جمال و جلال کا اہتمام کرنا کوئی عیب کی بات نہیں ہے اور دنیا کے بیشتر انشا پرداز ایسا کرتے رہے ہیں اوران کو ادبی دنیا میں پذیرائی حاصل ہوتی رہی ہے۔ مولانا نے بھی ان اوصاف کو اپنی تحریروں میں اپنایا ہے۔ عربی فارسی کے وہ ماہر تھے ان کے علاوہ غیر ملکی ادب کے نشیب و فراز سے بھی واقف تھے لہٰذا انشا پردازی میں اس نئی راہ کو جو پہلے اردو ادب میں موجود نہیں تھی اپنایا۔ ان کی انشاءپردازی نچلی سطح کی نہیں بلکہ ان کی علمی گہرائی و گیرائی کا عکس ہے۔ اس لئے جس بات کو وہ بیان کرتے تھے اس کو مختلف اسالیب بیان کے ذریعے اعتبار عطا کرتے تھے۔ اس کے مختلف پہلو نکالتے تھے اس کو دلچسپ بناتے تھے۔ مثالیں تشبیہات ، استعارے اور رموز و علائم سے مزین کرتے تھے۔
ان کی انشا پردازی میں فرانسیسی ادب کا رنگ دیکھنے کو ملتا ہے۔ فرانس میں انشا پرداز پہلے جب اپنی بات کہتا ہے تو اس کے یہاں الجھاو¿ کی نشان دہی ملتی ہے جس کو عام فہم ذہن بہ آسانی نہیں سمجھ پاتا لیکن اس مرصع تحریر کو پھر وہ تحلیل کرتا ہے اور تحلیل کرتے کرتے پہلے اس کی معنوی ساخت کا تجزیہ کرتا ہے ،پھر اس کے حجاب میں پوشیدہ تشکیک کے پردے الٹتا ہے پھر کسی محور یا مرکز پر گھومتا ہے اور آخر میں اسے اس مقام تک پہنچا دیتا ہے کہ قاری کا ذہن اس انشا پروازی کے سیلاب میں بہہ جائے اور اس کے مختلف ڈائمنشن کے بارے میں سوچتا ہے اور خود بھی اس میں شامل ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
مولانا آزاد کی تحریروں کا اگر جائزہ لیں اور ان کی انشا پردازی پر غور کریں تو ہمیں وہی ساری کیفیتیں موجود ملیں گی جس کا ذکر میں نے اوپر کیا ہے۔ پہلا حصہ بہت ہی دقیق ہوتا ہے اور پھر اسے وہ سہل بناتے ہیں اور سہل بنانے کے بعد اس کی پرتیں الٹتے ہیں مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں اور ایک محور پر آکر اسے اتنا تحلیل کردیتے ہیں کہ قاری محظوظ بھی ہوتا ہے اور اس کی دلچسپی میں اتنا اضافہ ہوجاتا کہ تحریر کو پڑھنے کے بعد بھی اس کا دماغ اور ذہن مکمل مسحور ہوجاتا ہے اور تحریر کی گہرائی اور علمیت کے ان پہلوﺅں کو اپنے طور پر مزید سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
مولانا آزاد کی انشا پردازی کے بہترین نمونے ”غبار خاطر“ میں دکھائی دیتے ہیں جن کے بعض اقتباس میں یہاں نقل کر رہا ہوں :
”یہ خیال ہوا، اگر ہمارے قید و بند کیلئے یہی جگہ چنی گئی ہے ، تو انتخاب کی موزونیت میں کلام جرم نہیں…. ہم خراباتیوں کے لئے کوئی ایسا ہی خرابہ ہوتا تھا۔“
”زندگی میں جتنے جرم کئے اور ان کی سزائیں پائیں، سوچتا ہوں تو ان سے کہیں زیادہ تعداد ان جرموں کی تھی جونہ کرسکے، اور جن کے کرنے کی حسرت دل میں رہ گئی۔ یہاں کردہ جرموں کی سزائیں تو مل جاتی ہیں لیکن ناکردہ جرموں کی حسرتوں کا صلہ کس سے مانگیں۔“
”میری دکان سخن میں ایک ہی طرح کی جنس نہیں رہتی، لیکن آپ کیلئے کچھ نکالتا ہوں تو احتیاط کی چھلنی میں اچھی طرح چھان لیا کرتا ہوں کہ کسی طرح کی سیاسی ملاوٹ باقی نہ رہے ۔ “
”بلندی کا یہ نصب العین خدا کی ہستی کے تصور کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے؟ اگر یہ بلندی اس کے سامنے سے ہٹ جائے، تو پھر اسے نیچے کی طرف دیکھنے کے لئے جھکنا پڑے گا اور جونہی اس نے نیچے کی طرف دیکھا، انسانیت کی بلندی پستی میں گرنے لگی۔“
”گویا بے طاقتی سے توانائی، غفلت سے بیداری، بے پروبالی سے بلند پروازی اور موت سے زندگی کا پورا انقلاب چشم زدن میں ہوگیا۔ غور کیجئے ، تو یہی ایک چشم زدن کا وقفہ زندگی کے پورے افسانہ کا خلاصہ ہے۔“
”حسن آواز میں ہو یا چہرے میں، تاج محل میں ہو یا نشاط باغ میں، حسن ہے اور حسن اپنا فطری مطالبہ رکھتا ہے ۔ افسوس اس محروم ازلی پر، جس کے بے حس دل نے اس مطالبہ کا جواب نہ سیکھا ہو!“
مولانا آزاد کی زندگی میں چونکہ عملی سیاست نے اپنی جگہ بنالی تھی اس لئے ان کی انشا پردازی کی بے پناہ صلاحیت ہمیں دیکھنے کو زیادہ نہیں ملی۔ اس کے باوجود جو بھی انہوں نے تحریر کیا اس کی مثال اردو ادب میں نہیں ملتی۔ کسی نے ان کے مخصوص اسلوب اور اسٹائل کو اپنانے کی جرا¿ت بھی نہیں کی کیوں کہ اس انداز کی تحریر کے لئے وسعت نظری اور وسعت قلبی کے ساتھ ساتھ علمی دیانتداری بھی ضروری ہوتی ہے جو مولانا آزاد کے یہاں بدرجہ¿ اتم موجود ہے۔
٭٭٭
٭ ریجنل ڈائریکٹر (مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ) ، کولکاتا ریجنل سینٹر
۱۷جی، تلجلا روڈ ، کولکاتا-۶۴۰۰۰۷ ؛ موبائل : 08902496545 / 9431085816
ای میل : imamazam96@gmail.com

About the author

Dr.Mohammad Gauhar

Chief Editor - Taasir