تعلیم

مولانا آزاد کے سیاسی افکار پر عمل آوری کی ضرورت ،پہلے سے کہیں زیادہ

Written by Dr.Mohammad Gauhar

حیدرآباد11 نومبر (پریس نوٹ) مولانا ابوالکلام آزاد ایک ہمہ پہلو شخصیت کا نام ہے۔ دور اندیشی و سیاسی بصیرت پر مبنی ان کے افکار کی اہمیت موجودہ حالات میں پھر ایک بار بڑھ گئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں آج مولانا آزاد کے یوم پیدائش اور قومی یومِ تعلیم پر ممتاز مورخ پروفیسر اشتیاق احمد ظلی، ڈائرکٹر شبلی اکیڈیمی، اعظم گڑھ نے کیا۔ وہ ”مولانا آزاد کے سیاسی افکار“ کے زیر عنوان آزاد میموریل لکچر دے رہے تھے۔ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز، وائس چانسلر نے صدارت کی۔
اردو یونیورسٹی میں جاری ایک ہفتہ طویل یوم آزاد تقاریب کے اختتام پر آج صبح ڈی ڈی ای آڈیٹوریم میں اس لکچر کا اہتمام عمل میں آیا۔ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ نہ صرف یہ ملک بلکہ ملک میں رہنے والے بھی ہمارے ہیں۔ مولاناآزاد نے اسی بات کا عملی درس دیا تھا۔
پروفیسر ظلی نے سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مولانا آزاد کے سیاسی افکار گہری سیاسی شعور اور مطالعہ کا نتیجہ تھے۔ انہوں نے جذباتیت کے بجائے تاریخ کے واقعیت پسندانہ تجزیہ اور مطالعہ کو اپنا رہبر و رہنما بنایا۔ اس سفر میں علامہ شبلی نعمانی جیسی عظیم شخصیت کی سرپرستی انہیں حاصل رہی۔ ایک باشعور شہری کی حیثیت سے ملک کے موجودہ حالات پر نظر ڈالیں تو بے ساختہ مولانا آزاد کی یاد آتی ہے۔ انہوں نے آزادی سے قبل جو کچھ کہا تھا سچ ثابت ہوا۔ ماضی کے گہرے مطالعہ اور صحیح تجزیہ کے ساتھ ساتھ حال پر نظر ہی سے اس طرح کی بصیرت حاصل ہوتی ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد ابتداءمیں سرسید سے متاثر تھے۔ انہوں نے اپنے پہلے اخبار لسان الصدق میں اس کا برملا اعتراف بھی کیا۔ 1920 میں جب مولانا ٓٓآزاد گاندھی جی سے ملے تو وہ ہندو -مسلم اتحاد کا سنہری دور تھا۔ اس وقت خلافت تحریک زوروں پر تھی اور گاندھی جی بھی اس کی تائید کر رہے تھے۔ مولانا آزاد کا شورش کاشمیری کو دیا گیاانٹرویو اس معاملہ میں بہت اہم ہے۔ اس میں انہوں نے منجملہ دوسری پیشن گوئیوں کے یہ بھی کہا تھا کہ بنگال، پاکستان سے الگ ہوجائے گا۔ حالانکہ وہ تقسیم ہند کے مخالف تھے لیکن لوگ ہوشمندی کے بجائے جذباتی نعروں میں بہہ گئے تھے۔ مولانا آزاد ہر چیز کو مذہب کے پیرائے میں دیکھتے اور پرکھتے تھے۔ پروفیسر ظلی نے کہا کہ مولانا آزاد کو لوگوں نے امام الہند تو مانا لیکن قائد اعظم کسی اور کو مانا۔ جب لوگ جوق درجوق پاکستان جا رہے تھے تو جامع مسجد میں مولانا نے اپنا وہ خطبہ دیا جس نے کئی افراد کے بڑھتے قدموں کو روک دیا۔
پروفیسر اشتیاق احمد ظلی نے کہا کہ ہندوستان میں اسلام چونکہ ترکوں کے ذریعہ آیا جس میں زیادہ تر کا تعلق غلام خاندان سے تھا۔ ان کی تربیت ایران میں قیصر و کسریٰ کے اصولوں پر ہوئی تھی۔ ان حکمرانوں نے ہندوستان کو بہت کچھ دیا لیکن اسلام کی سب سے اہم تعلیم جو خلفائے راشدین نے عوام کو دی تھی، مساوات وہ ملک کو نہیں دے سکے۔ اس کے باعث ملک کے دونوں طبقوں میں بڑے پیمانے پر دوریاں پیدا ہوگئیں۔ اس لیے آج کے دور میں مولانا آزاد کے ہندو – مسلم اتحاد کے نظریہ کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو قرآنی تعلیمات دوسروں تک پہنچانا اور ان کی تعلیمات کو سمجھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مولانا آزاد کا نام علم کے مترادف ہے۔ پروفیسر ظلی نے زور دے کر کہا کہ لاعلمی بہت بڑی برائی اور اندھیرا ہے۔ علم ایک روشنی کی مانند ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں ایک مرکز برائے تقابلی مذاہب کا قیام ہونا چاہئے۔
ڈاکٹر محمد اسلم پرویز، وائس چانسلر نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ اردو یونیورسٹی میں شعبہ¿ اسلامک اسٹڈیز میں طلبہ کو مذاہب کے تقابلی مطالعہ کی تعلیم دی جاتی ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کے امام اور قائد میں فرق کی وجہ قرآن فہمی کا فقدان ہے۔ فسادات پھیلانا بہت بڑی برائی ہے۔ لوگ جذبات میں بہہ کر فسادات کے سبب بن جاتے ہیں جبکہ قرآن مجید نے لوگوں کو قول احسن کی تاکید کی ہے۔ اسلام صرف تبلیغ سے نہیں بلکہ کردار اور عمل سے پھیلا ہے۔ عمل اور کردار کو سنوارنا ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ انیس احسن اعظمی، صدر نشین یوم آزاد تقاریب کمیٹی نے خیر مقدم کیا۔ مرکز برائے تدریسی ذرائع ابلاغ کی جانب سے ایک ہفتہ طویل تقاریب کی آڈیو ویژول رپورٹ پیش کی گئی ۔ ڈاکٹر آمنہ تحسین نے بحسن و خوبی کاروائی چلائی اور مہمانِ خصوصی کا تعارف کروایا۔
میر ایوب علی خان، میڈیا کنسلٹنٹ نے شکریہ ادا کیا۔ اسلامک اسٹڈیز کے طالب علم محمد خالد کی قرا¿ت کلام پاک سے جلسہ کا آغاز ہوا۔ طلبہ، اساتذہ اور غیر تدریسی عملہ کے علاوہ شہر حیدرآباد معززین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ وسیع ڈی ڈی ای آڈیٹوریم اپنی تنگ دامنی کا شکوہ کر رہا تھا۔

About the author

Dr.Mohammad Gauhar

Chief Editor - Taasir