کھیل

موہالی میں ٹیم انڈیا کا ریکارڈ شاندار

Written by Dr.Mohammad Gauhar

موہالی، 24 نومبر (یو این آئی) دنیا کی نمبر ایک ٹیسٹ ٹیم انڈیا کے لئے موہالی اس کا گڑھ رہا ہے جہاں وہ گزشتہ 22 سالوں سے ناقابل شکست ہے ۔ہندستان اور انگلینڈ کے درمیان اس میدان پر 26 نومبر سے پانچ میچوں کی سیریز کا تیسرا ٹیسٹ کھیلا جائے گا۔ہندستان سیریز میں وشاکھاپٹنم میں کھیلا گیا دوسرا ٹیسٹ 246 رنز کی بھاری فرق سے جیت کر 1۔0 کی برتری بنا چکا ہے اور اب موہالی کے اپنے گڑھ میں اس کا مقصد اس برتری کو دگنا کرنا ہوگا۔ہندوستان نے اس میدان پر اپنے گزشتہ تین ٹسٹ میچوں میں آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ جیسی قدآور ٹیموں کو شکست دی اور اب اس کے نشانے پر انگلینڈ کی ٹیم ہوگی۔موہالی میں ٹیسٹ کرکٹ کا آغاز دسمبر 1994 میں ہوا تھا اور اس کے بعد ویسٹ انڈیز نے ہندستان کو 243 رنز سے شکست دی تھی۔لیکن اس کے بعد سے اس میدان پر کھیلے گئے 11 ٹیسٹ میچوں میں ہندستان نے ایک بھی میچ نہیں گنوایا ہے ۔ان 11 ٹسٹ میچوں میں ہندوستان نے چھ ٹیسٹ جیتے ہیں اور پانچ ٹیسٹ ڈرا کھیلے ہیں۔ہندستان اور انگلینڈ کا موہالی میں تین بار مقابلہ ہوا ہے جن میں ہندستان دو بار جیتا ہے اور ایک ٹیسٹ ڈرا رہا ہے ۔ہندوستان نے دسمبر 2001 میں انگلینڈ کو دس وکٹ سے شکست دی تھی۔ہندستان نے پھر مارچ 2006 میں انگلینڈ کو نو وکٹ سے شکست دی جبکہ دسمبر 2008 میں دونوں ٹیمو ں کے درمیان میچ ڈرا ہوا۔ہندستان اس کے علاوہ موہالی میں آسٹریلیا کو اکتوبر 2008 میں 320 رنز سے ، اکتوبر 2010 میں ایک وکٹ سے اور مارچ 2013 میں چھ وکٹ سے ہرا چکا ہے ۔ہندستان اس میدان پر نومبر 2015 میں کھیلے گئے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کو 108 رنز سے شکست دے چکا ہے ۔ہندستان کے اس میدان پر شاندار ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے انگلینڈ کو سیریز میں واپسی کی اپنی توقعات کے لئے اپنی پوری کوشش کرنا ضروری ہے ۔موہالی کے میدان پر ہندوستان کا سب سے بہترین اسکور 516 رنز رہا ہے جو اس نے مارچ 2005 میں پاکستان کے خلاف بنایا ہے ۔انگلینڈ کے خلاف اس میدان پر ہندوستان کا سب سے بہترین اسکور 469 رنز رہا ہے جو اس نے دسمبر 2001 میں بنایا تھا۔اس میدان پر دو بہترین انفرادی اسکور شکھر دھون (187) اور گوتم گمبھیر (179) کے نام ہیں لیکن بائیں ہاتھ کے دونوں اوپنر موجودہ ٹیم سے باہر ہیں۔موجودہ ہندستانی کھلاڑیوں میں اوپنر مرلی وجے مارچ 2013 میں آسٹریلیا کے خلاف 153 کے اسکور کے ساتھ سب سے زیادہ اسکور بنانے والے بلے بازوں کی فہرست میں پانچویں نمبر پر ہیں۔چتیشور پجارا نے گزشتہ سال جنوبی افریقہ کے خلاف اسی کے میدان پر 77 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔ہندستانی کپتان وراٹ کوہلی یہاں ناٹ آ¶ٹ 67 رنز بنا چکے ہیں۔
ہندستانی بلے بازوں میں وجے نے موہالی میں دو میچوں میں کل 301 رن، پجارا نے 137 رن اور وراٹ نے 131 رنز بنائے ہیں۔وراٹ کے پاس موہالی میں اس کیلنڈر سال میں 1000 رن پورے کرنے کے ساتھ ساتھ کیریئر میں 4000 رن پورے کرنے کا بھی موقع رہے گا۔موہالی کی پچ عام طور پر تیز گیند بازوں کے موافق مانی جاتی ہے لیکن یہاں موجودہ ٹیم کے دو اسپنروں رویندر جڈیجہ اور روی چندرن اشون نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔گزشتہ سال جنوبی افریقہ کے خلاف لیفٹ آرم اسپنر جڈیجہ نے پہلی اننگز میں تین اور دوسری اننگز میں پانچ وکٹ لئے تھے جبکہ آف اسپنر اشون نے پہلی اننگز میں پانچ اور دوسری اننگز میں تین وکٹ لئے تھے ۔لیگ اسپنر امت مشرا بھی پیچھے نہیں رہے تھے اور انہوں نے بھی اس میچ میں پہلی اننگز میں دو اور دوسری اننگز میں ایک وکٹ لیا تھا۔مشرا تاہم وشاکھاپٹنم ٹیسٹ میں آخری الیون سے باہر رہے تھے لیکن اگر موہالی کی پچ کی حالت گذشتہ سال جیسی رہتی ہے تو انہیں واپس بلایا جا سکتا ہے ۔مشرا 16 رکنی ہندستانی ٹیم میں شامل ہیں۔موہالی کے میدان پر جڈیجہ نے دو ٹسٹ میں 14 وکٹ، اشون نے 12 وکٹ اور مشرا نے 12 وکٹ حاصل کئے ہیں۔اس میدان پر سب سے زیادہ 36 وکٹ لینے کا ریکارڈ لیگ اسپنر انل کمبلے کے نام ہے جو موجودہ ہندستانی کوچ ہیں۔آف اسپنر ہربھجن سنگھ موہالی میں 24 وکٹ حاصل کر چکے ہیں۔موہالی میں اسپنروں کے دبدبے کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ انگلینڈ کے بلے بازوں کو ایک بار پھر اسپن جال سے گزرنا پڑے گا۔

About the author

Dr.Mohammad Gauhar

Chief Editor - Taasir