مہمان مضبوط، لیکن ہم پوری طرح تیار:وراٹ

0
41
RAJKOT, NOV 08 (UNI) India's Test cricket captain Virat Kohli addressing a press conference in Rajkot ahead of the first test match against England.UNI PHOTO-101U

راجکوٹ، 8 نومبر (یو این آئی) ہندستانی ٹیسٹ کپتان وراٹ کوہلی نے کہا ہے کہ انگلینڈ کی بنگلہ دیش میں مایوس کن کارکردگی کے باوجود وہ مہمان ٹیم کو ہلکے میں نہیں لیں گے اور ہندوستان اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ میدان میں کھیلے گا۔وراٹ نے انگلینڈ کے خلاف بدھ سے یہاں ہونے والے پہلے ٹیسٹ میچ کی شام پر کہاکہ میں یہ نہیں کہنا چاہوں گا کہ انگلینڈ جدوجہد کر رہا ہے ۔بنگلہ دیش دورے پر انہوں نے پہلے ٹیسٹ میں اچھا کھیل دکھایا تھا۔دوسرے میچ میں میزبان ٹیم نے اپنی گھریلو کنڈیشنز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اچھا کھیل دکھایا۔ہمیں پتہ ہے کہ انگلینڈ وہی ٹیم ہے جس نے پچھلی بار ہندوستان آ کر اچھا کیا۔کپتان نے کہاکہ موجودہ وقت میں ہم اچھی کرکٹ کھیل رہے ہیں اس کے باوجود سیریز کو لے کر ہم کسی چیز کی ضمانت نہیں دے سکتے ۔ہم اپنی مضبوط کڑی پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔لیکن ساتھ ہی آپ حریف ٹیم کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے ۔اس وقت ایک ٹیم کے طور پر آپ کو جو کرتے ہیں، اس پر آپ کو یقین کرنا چاہئے ۔گزشتہ کچھ وقت سے ہم نے اسی چیز پر توجہ دی ہے اور یہی وجہ ہے کہ گذشتہ 12۔14 ماہ سے نتائج کو اپنے حق میں کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔دنیا کی نمبر ایک ٹیم ہندستان اور آخری بار اسے چار سال پہلے گھریلو سرزمین پر شکست دینے والے انگلینڈ کے درمیان سخت مقابلہ ہونے کی توقع ہے ۔انگلینڈ نے 2012 میں پہلا میچ گنوانے کے بعد واپسی کرتے ہوئے چار ٹیسٹ کی سیریز 2۔1 سے جیت لی تھی۔انگلینڈ کی جیت میں اس وقت گریم سوان اور مونٹی پنیسر کی بہتر اسپن جوڑی نے اہم کردار ادا کیا تھا لیکن اس دورے پر ٹیم میں بڑے ناموں کا فقدان ہے ۔کولکتہ میں 2012 میں انگلینڈ کے خلاف شکست کے بعد سے ہندوستان گھریلو میدان پر 14 ٹیسٹ میں ناقابل تسخیر رہا ہے ۔لیکن کپتان وراٹ کا انگلینڈ کے خلاف ریکارڈ اچھا نہیں رہا ہے اور ان کی نظریں انگلینڈ کے خلاف بلے سے اپنی خراب ریکارڈ کو بہتر بنانے پر ٹکی ہوں گی۔28 سالہ وراٹ نے کہاکہ جو گزر گیا میں اسے یاد نہیں کرنا چاہتا۔پہلے جو ہوا، اسے ہم بدل تو نہیں سکتے ۔ہم صرف یہ سوچ سکتے ہیں کہ اب ہمیں آگے کیا کرنا ہے ۔اس لئے ہمیں اچھا کرکٹ کھیلنا ہوگا اور ایک ٹیم کے طور پر اپنی بہترین کارکردگی کرنا ہوگی۔ ایک ٹیم کے طور پر ایک ہی دن کو ایک نئے دن کے طور پر لیتے ہیں اور کسی بھی مخالف ٹیم کو کم کرکے نہیں سمجھتے ہیں۔وراٹ کے لئے یہ سیریز ذاتی طور پر بھی کافی اہم ہو گی ۔ دو سال پہلے چار ٹیسٹ کی سیریز میں وہ بری طرح سے ناکام رہے تھے ۔انگلینڈ کے تیز بولر جیمز اینڈرسن کی گیندوں کا کوہلی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔وہ چھ اننگز میں چار بار اینڈرسن کا شکار بنے تھے ۔انگلینڈ کے دورے پر کوہلی ایک بھی نصف سنچری نہیں لگا پائے تھے ۔انگلینڈ ہی واحد ٹیم ہے جس کے خلاف کوہلی کا ریکارڈ خراب ہے ۔لیکن حالات اب تبدیل ہوچکے ہیں اور کوہلی اب وراٹ بن چکے ہیں۔کوہلی کی کپتانی میں ہندستان نے سری لنکا کو اسی کے گھر میں 2۔1 سے ، بنگلہ دیش کو اسی کی زمین پر 1۔0 اور ویسٹ انڈیز کو 2۔0 سے شکست دی تھی۔اس کے علاوہ گزشتہ سال جنوبی افریقہ کو 3۔0 اور اس سال گزشتہ ماہ ہی نیوزی لینڈ کو 3۔0 سے کلین سویپ کیا تھا۔اس میچ سے اپنے 100 ویں ٹیسٹ میں اتر رہے تیز گیند باز اسٹورٹ براڈ نے ایک دن پہلے ہی کہا کہ جارحانہ انداز میں قیادت کرنے والے کوہلی کی کپتانی میں کھیلنے والی ہندستانی ٹیم کے خلاف وہ ‘انڈرڈاگ’ کے طور پر آغاز کریں گے ۔