کھیل

نچلے آرڈر کے بلے بازوں کی شراکت بونس: جڈیجہ

Written by Dr.Mohammad Gauhar

موہالی، 28 نومبر (یو این آئی) ہندوستان کی پہلی اننگز میں 90 رن کی اہم اننگز کھیلنے والے آل را¶نڈر رویندر جڈیجہ نے پیر کو کہا کہ نچلے آرڈر کے بلے بازوں کی شراکت بونس ہے اور اس سے ٹیم انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میں مضبوط پوزیشن میں پہنچ گئی ہے ۔جڈیجہ نے تیسرے دن کے کھیل کے بعد نامہ نگاروں سے کہاکہ ہم نے 150 رنز کے آس پاس اپنے پانچ وکٹ گنوا دیئے تھے ۔لیکن اس کے بعد ہم نے اپنی اننگز کو سنبھالا اور ٹیم کو مضبوط پوزیشن میں پہنچا دیا۔اگر آپ کے ساتویں سے 11 ویں نمبر تک کے بلے باز 50 سے 100 رنز کی شراکت دے دیتے ہیں تو یہ کسی بھی ٹیم کے لئے بونس ہے ۔انہوں نے کہاکہ اچھی بات ہے کہ ہم ایسا کر پا رہے ہیں۔اس سے یہ پتہ لگتا ہے کہ ان کا رنز بنانے کے لئے ٹاپ آرڈر پر مکمل طور پر انحصار نہیں ہے ۔ہندستانی اننگز میں ساتویں نمبر کے بلے باز روی چندرن اشون نے 72، آٹھویں نمبر کے جڈیجہ نے 90 اور نویں نمبر کے جینت یادو نے 55 رنز بنائے ۔ہندستانی ٹیسٹ تاریخ میں یہ پہلی بار ہے کہ جب ساتویں نمبر سے نیچے کے بلے بازوں نے تین نصف سنچری بنائیں ۔دوسری طرف انگلینڈ کے جانی بیرسٹو نے اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ ٹیم نے آخری سیشن میں بہت وکٹ گنوا دیئے ۔انہوں نے کہاکہ ہم نے کئی وکٹ گنوائے جو صحیح نہیں ہے ۔ہماری یہ حکمت عملی نہیں تھی۔لیکن ہماری امید باقی ہے ۔جو روٹ اب کریز پر ہیں ۔ جوس بٹلر کو آنا ہے اور کرس ووکس کو بھی آنا ہے ۔عادل راشد نے یارکشائر کے لئے رن بنائے ہیں۔ہماری ٹیم میں ابھی کافی بلے بازی باقی ہے ۔اس درمیان انگلینڈ ٹیم کے ترجمان نے کہا کہ اوپنر حسیب حمید منگل کو بلے بازی کرنے اتریں گے لیکن وہ اس کی تصدیق نہیں کر پائے کہ حمید کس نمبر پر آئیں گے ۔وولف نے کہا کہ مرسڈیز نے پہلے بھی مالی اور مارکیٹنگ تعاون دینے کی پیشکش کی تھی لیکن اسے لیا نہیں گیا اور اس بار اس طرح کی کوئی بات نہیں ہے ۔ھوکنھیم کے سربراہ جارگ سیلر نے گزشتہ ہفتے جرمن میڈیا کو کہا تھا کہ مسلسل برسوں میں اس ایوینٹ کو منعقد کرنے سے ان کے سرکٹ کو بھاری اقتصادی نقصان ہوا ہے ۔اس سال ریس میں صرف 57000 ناظرین آئے تھے ۔جرمنی کو 2017 میں عارضی طور پر 21 ریسو ں کے پروگرام میں رکھا گیا ہے لیکن فارمولا ون چیف برنی ایکلسٹون اشارہ دے چکے ہیں کہ جرمن گراں پری کو ہٹایا جائے گا۔مرسیڈیز ٹیم کے جرمن ڈرائیور نیکو روسبرگ فارمولا ون موٹر ریسنگ کا امسالہ ٹائٹل اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ دبئی گراں پری میں دوسرے نمبر پر آنے والے روسبرگ پہلی مرتبہ یہ اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔متحدہ عرب امارات میں اتوار کو منعقد ہونے والی دبئی گراں پری میں پہلے نمبر پر برطانوی ڈرائیور لوئیس ہیملٹن رہے جبکہ نیکو روسبرگ دوسری پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ۔ تاہم اس سیزن کے دوران مجموعی پوائنٹس کی بدولت روسبرگ کو اس ریس میں صرف وکٹری اسٹینڈ پر ہی آنا تھا، جو انہوں نے کر دکھایا۔رواں سیزن کے آخری ریس کے اختتام پر روسبرگ کے مجموعی پوانٹس 385 ہو گئے جبکہ انہی کی ٹیم کے ساتھی ڈرائیور ہیملٹن کے پوائنٹس 380 رہے ۔
اس ریس میں ہیملٹن پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ انہوں نے ‘گندے ہتھکنڈے ‘ استعمال کیے ۔ ہیملٹن کی اس سیزن میں یہ دسویں کامیابی تھی۔روسبرگ نے ریس کے بعد کہاکہ یقینی طور پر یہ میرے کیریئر کی بہترین ریس نہیں تھی اور میں اس سے زیادہ لطف اندوز نہیں ہوا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ خوش ہیں کہ وہ امسالہ چمپئن شپ کا ٹائٹل اپنے نام کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔یہ مرحلہ میرے لیے سخت اور اعصاب شکن تھا۔روسبرگ اب جرمنی کے ایسے تیسرے ڈرائیور بن گئے ہیں، جنہوں نے فارمولا ون کا ٹائٹل جیتا ہے ۔ اس سے قبل مشہور زمانہ جرمن ڈرائیور شوماکر اور ویٹل اس ٹائٹل کو جیت کر اپنے ملک کا نام روشن کر چکے ہیں۔دبئی گراں پری میں تیسرے نمبر پر آنے والے فیراری ٹیم کے جرمن ڈرائیور ویٹل اس سیزن میں پوائنٹس ٹیبل پر چوتھے نمبر پر رہے جبکہ تیسری پوزیشن ریڈ بل ٹیم کے آسٹریلوی ڈرائیور ڈینئل ریکارڈو کے پاس رہی۔گراں پری کے سلسلے میں ایک ریس جیتنے والے ڈرائیور کو پچیس پوائنٹس ملتے ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والے کو اٹھارہ اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے ڈرائیور کو پندرہ پوائنٹس دیے جاتے ہیں۔ اس سال اس سیزن میں مجموعی طور پر اکیس ریسیں منعقد ہوئیں۔

About the author

Dr.Mohammad Gauhar

Chief Editor - Taasir