اردو | हिन्दी | English
386 Views
Appointment

نوٹ بندی کے بعد اب کیش لیس کانعرہ لگارہے ہیں وزیر اعظم : تپن داس

img_20161210_142049_hdr
Written by Tariq Hasan

ہگلی 10دسمبر ( محمد شبیب عالم ) آج بانسبیڑیا کے ڈاکٹر مختار احمد اردو مدھیامک سکسا کیندر میں ایک تقریب کے دوران ریاستی زراعتی وزیر مملکت تپن داس گپتا نے مودی کے نوٹ بندی سے پریشان طالب علموں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سمچھ میں نہیں آرہاہے کہ اللہ پاک ایسا وزیراعظم کیوں بنایا جسکی فطرت محمدبنطغلق جیسی ہے نوٹ بندی میں کالادھن نکالنے میں ناکام ہونے کے بعد اب کیش لیس کا نعرہ لگاکر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش میں لگے ہیں۔ ڈاکٹر مختار احمد انصاری مدھامک سکسا کیندر بانسبیڑیا میں آج پہلی بار قدم رکھنے والے ریاستی وزیر و مقامی ایم ایل اے تپن داس گپتا نے تحفہ کا برسات کردیا اسکول بلڈنگ کی تعمیر کے لئے پہلے ہی دس لاکھ مل چکے تھے آج مزید دس سے پندرہ لاکھ روپیہ منظوری کا واعدہ کیا ساتھ ہی 2017/18میں ملنے والا اپنے ایم ایل اے فنڈ سے دولاکھ روپیہ دینے کا اعلان کیا اور دولاکھ روپئے اسکول عمارت کی رنگ روگن کے لئے بھی نئے سال کے جنوری تا مرچ کے درمیان دینے کا اعلان کیا اسکے ساتھ ہی اسکول میں لیٹرن باتھ روم تعمیر کے لئے سرکاری فنڈ سے دولاکھ پیتیس ہزار روپئے کی بھی منظوری مل گئی ہے ۔ تپن داس گپتا کے تقریر کے دوران اس وقت تمام طالب علم اور اساتذہ کے علاوہ گارجین حضرات خوش ہوگئے جب انہوں نے اس اسکول کو مدھیا مک تک کی منظوری دیلانے کا اعلان کیا اور انہوں نے کہا کہ اس اسکول میں کلاس نائن اور ٹین کی پڑھائی بہت ہی جلد شروع کردی جائے گی اسکے لئے اقلیتی چیئرمین سے بھی بات کرلی گئی ہے امید کرتا ہوں بہت جلد منظوری مل جائے گی ۔ تپن داس گپتا نے طالب علموں سے مخاطب ہوتے ہو کہاکہ آپ سب میرے بچے جیسے ہو آپ لوگوں کے لئے نیا سیشن شروع ہونے سے قبل تحفہ کے طور پر کاپیاں دونگا اسکے علاوہ تعلیمی معاملات میں جس طرح کی بھی مدد چاہئے میں ہمیشہ آپکی خدمت میں ہاجر ہوں آپ کی تعلیمی ترقی سے آپکی اور ہماری ریاست و ملک کا نام روشن ہوگا۔ آخر میں انہوں نے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ جسطرح ملک کے غریب عوام تکلیف اٹھارہے ہیں اسکا بدلا آئندہ 2019کے انتخاب میں عوام مودی حکومت کو شکست دیکر چکا لینگے۔ واضح ہوکہ بانسبیڑیا قثیر مسلم آبادی کا علاقہ ہے یہان مسلمانوں کی کل تعداد قریب دولاکھ کی ہے مگر افسوس کہ ایک بھی اردو میڈیم مدھیامک اسکول نہی ہے اتنی آبادی میں صرف ایک مدرسہ ہائر سیکنڈری ہے جس میں طالب علموں کی تعداد دوہزار سے زائد ہے ایسے میں یہاں تعلیم حاصل کر نا خاصے دشوار کن ہے سابقہ چوتیس سالہ محازی دورے حکومت سے ہی مدھیامک اسکول کے لئے مطالبات کیئے جارہے ہیں موجودہ حکومت میں ایم ایس کے تحت منظوری ملی ہے اگر مدھمک کی منظوری مل جائے تو سارے مسائل حل ہو جائیں گے ۔ آجکی اس تقریب میں اقلیتی سیل کے سیخ اختر علی ، چنسورہ موگرہ بلاک کے صدر دیبو برتا بسواس اور دیگر لیڈران شریک تھے جنکے ہاتھوں 156بچیوں میں اسکول ڈریس تقسیم کیا گیا ۔

About the author

Tariq Hasan