اردو | हिन्दी | English
449 Views
Sports

آخری ٹی 20 آج ، سریز جیتنے اترےگی ٹیم انڈیا

CANBERRA, AUSTRALIA - JANUARY 20:  Virat Kohli of India looks on during the Victoria Bitter One Day International match between Australia and India at Manuka Oval on January 20, 2016 in Canberra, Australia.  (Photo by Mark Metcalfe - CA/Cricket Australia/Getty Images)
Written by Tariq Hasan

بنگلور، 31 جنوری (یو این آئی) اپنے گیند بازوں کے دم پر دوسرے ٹوئنٹی -20 میں انگلینڈ کے منہ سے فتح حاصل کرنے والی ٹیم انڈیا کا جوش اس فتح سے اپنے عروج پر ہے اور وہ یہاں چنا سوامی میدان پر جمعرات کو ہونے والے تیسرے اور آخری ٹوئنٹی -20 مقابلے میں ایک بار پھر مہمان ٹیم کا حوصلہ پست کرنے کی نیت سے اترے گی اور یہاں کامیابی حاصل کرکے وہ ٹیسٹ، ون ڈے کے بعد ٹوئنٹی -20 سیریز بھی اپنے نام کرے گی۔ کپتان کی اپنی نئی اننگز میں شاندار آغاز کرنے والے ہندستانی کپتان وراٹ کوہلی کو ون ڈے سیریز میں جیت کے بعد جس طرح اس سیریز میں فتح کی امید تھی، مہمان کھلاڑیوں نے اسے پورا نہیں ہونے دیا۔ ‘کرو یا مرو’ کے دوسرے ٹوئنٹی -20 میچ میں ٹیم انڈیا کو ضروری فتح حاصل ہوئی لیکن وراٹ فوج کو یہاں تیسرے میچ میں مکمل طور پر الرٹ رہنے کی ضرورت ہے . چھوٹی سی بھول بھی ٹیم انڈیا سے سیریز چھین سکتی ہے ۔ ہندوستان کے پاس یہاں جیت سے انگلینڈ کے خلاف پہلی ٹوئنٹی -20 سیریز جیتنے کا بھی موقع رہے گا۔ ہندستان انگلینڈ کے خلاف ایک بھی ٹوئنٹی -20 سیریز نہیں جیت پایا ہے ۔ ابھی تک دونوں ٹیموں کے درمیان چار ٹوئنٹی -20 سیریز ہو چکی ہے جس میں تین سیریز میں انگلینڈ نے قبضہ کیا ہے جبکہ ایک سیریز ڈرا رہی ہے ۔ 2011 میں دونوں ٹیموں کے درمیان انگلینڈ میں کھیلے گئے ایک میچ کے ٹوئنٹی -20 سیریز کو انگلینڈ نے ایک صفر سے جیت لیا تھا۔ پھر اکتوبر 2011 میں دونوں ٹیموں کے درمیان ہندستان میں کھیلے گئے ٹوئنٹی -20 سیریز کو انگلینڈ نے ایک صفر سے جیت لیا تھا۔ دسمبر 2012 میں دونوں ٹیموں کے درمیان ہوئی دو میچوں کی ٹوئنٹی -20 سیریز برابری پر ختم ہوئی تھی۔ اس میں ایک میچ ہندستان فاتح رہا تھاتو ایک میچ انگلینڈ نے اپنے نام کیا تھا. اگر وراٹ کوہلی کی کپتانی میں ٹیم انڈیا کل کا میچ جیت جاتی ہے تو یہ پہلی بار ہوگا جب انگلینڈ کے خلاف ٹوئنٹی -20 سیریز جیتنے کا فخر ٹیم انڈیا حاصل کرے گی۔ اگر ہندوستان یہ سیریز ہار جاتا ہے تو یہ بھی پہلی بار ہوگا جب وراٹ کے کپتانی میں ہندستان اپنے گھریلو میدان پر کوئی سیریز کھو دیتا۔ بنگلور میں ٹیم انڈیا نے ابھی تک دو ٹوئنٹی -20 میچ کھیلے ہیں جن میں سے ایک میچ میں ہندستان کو فتح ملی ہے جبکہ ایک میچ ہندستان ہارا ہے ۔ دونوں ٹیمیں اس وقت برابر کی پوزیشن میں ہیں۔ ٹیم انڈیا نے اپنا پہلا میچ گنوایا جبکہ دوسرے میچ میں مہمان ٹیم کو قریبی ہار جھیلنی پڑی۔ تین ٹوئنٹی -20 میچوں کی سیریز اس وقت 1-1 سے برابر ہے اور دونوں ٹیمیں آخری مقابلے میں ہر حالت میں جیت کے مقصد کے ساتھ اتریں گی۔ ٹیم انڈیا کی مہمان انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز فتح کرنے والی ٹیم انڈیا کو کانپور میں ہوئے پہلے ٹوئنٹی -20 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن اس کے بعد گیند بازوں کی غیر معمولی کارکردگی کے دم پر دوسرا میچ پانچ رنوں سے جیت کر تیسرے مقابلے کو اہم بنا دیا۔ میزبان ٹیم اور اس کے کپتان وراٹ کا جو حوصلے پہلے میچ کی شکست کے بعد ڈگمگایا گیا تھا وہ کہیں نہ کہیں اپنی پرانی تال میں آ گیا ہو گا۔ ٹیم انڈیا کی دوسرے میچ میں جیت کے لیے اگرچہ بہت قابل اعتماد تو نہیں کہا جا سکتا لیکن بہت سی چیزیں ٹیم انڈیا کے لیے مثبت رہیں. تجربہ کار فاسٹ بولر اشیش نہرا کا فارم میں واپس لوٹنا، باصلاحیت جسپریت بمراہ کا ڈیتھ اووروں میں خود پر شاندار کنٹرول اور سب سے بڑا اور اہم بات ٹیم کا آخر تک جیت کیلئے جدوجہد جاری رکھیں. یہ تمام باتیں مہمان ٹیم کو دبا¶ میں لانے کیلئے کافی ہیں. ٹیم کے اسٹار بلے باز اور کپتان وراٹ کو اپنے بلے بازی آرڈر کے بارے میں ایک بار پھر سے غور کرنے کی ضرورت ہے . وراٹ پہلے میچ کے بعد دوسرے میچ میں بھی اچھی شروعات کے بعد سستے میں آ¶ٹ ہو گئے . وراٹ جس طرح آ¶ٹ ہو رہے ہیں وہ یقینی طور پر قابل غور ہے . دوسرے اوپنر لوکیش راہل نے اگرچہ اچھی اننگز کھیل فارم میں واپس اشارہ دیے لیکن مڈل آرڈر میں تجربہ کار بلے بازوں سریش رائنا اور یوراج سنگھ کو آپ کی کارکردگی پر مزید توجہ درکار ہے ۔ ٹیم میں جگہ بنانے والے منیش پانڈے کو اس موقع کا فائدہ اٹھانا چاہیے . کپتان دھونی کافی تجربہ کار ہیں اور ان کے نچلے آرڈر میں بیٹنگ کرنے کی بات سمجھ سے باہر ہے . ٹیم کی کپتانی سے ہٹنے کے بعد اب وہ زیادہ کھل کر بلے بازی کر سکتے ہیں اور ٹیم کو اس کا فائدہ ملنا چاہیے بولنگ میں بمراہ نئے ہیرو بن کر ابھرے ہیں. انہوں نے بحران کی صورت میں جس طرح اپنے اوپر کنٹرول رکھا تھا وہ لاجواب ہے . نہرا کی گیند بازی میں اب بھی دم ہے اور یہ بات انہوں نے دوسرے میچ میں ثابت کر دی. اس کے علاوہ ٹیم کے دیگر اسپنر یجویندر چہل، امت مشرا اور سریش رائنا بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
دوسری طرف مہمان ٹیم پر نظر ڈالیں تو ہندستانی گیند بازوں کو مہمان کپتان ایون مارگن، جیسن رائے ، جو روٹ، معین علی سے ایک بار پھر سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے . ٹیم انڈیا کی سیریز جیت میں یہ تمام کھلاڑی اکیلے دم پر رکاوٹ ڈال سکتے ہیں اس لئے میزبان گیند بازوں کو ان کے وکٹ جلد نکالنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ مورگن نے پہلے میچ میں کپتانی اننگز کھیلتے ہوئے شاندار نصف سنچری لگائی تھی اور وہ کبھی بھی بڑی اننگز کھیلنے کے لئے تیار ہیں۔ مہمان بولر مسلسل شاندار تال میں ہیں اور دوسرے میچ میں بھی انہوں نے بہترین بولنگ کی تھی. گیندبازوں کرس جارڈن اور ٹامل ملز خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں. ٹیم انڈیا کو آل را¶نڈر بین اسٹوکس سے خاص طور پر ہوشیار رہنا ہوگا کیونکہ وہ اب تک بلے اور گیند دونوں سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

About the author

Tariq Hasan