img_7434 6

اختراعی کاوشوں ہی سے ملک کی ترقی ممکن: وی کے سرسوت

حیدرآباد، 9جنوری (پریس نوٹ): ملک کی ترقی میں سائنس اور ٹکنالوجی کا بہت اہم رول رہا ہے۔ اسی لیے آزادی کے بعد ہمارے دور اندیش قائدین نے سب سے پہلے اسی جانب توجہ دی اور ملک کو ترقی کی جانب گامزن کیا۔ مختلف شعبوں مثلاً زراعت، سبزانقلاب، صنعت و حرفت، جوہری توانائی وغیرہ میں ہمارے سائنسدانوں نے بہت اہم اور نمایاں کارنامے انجام دیئے ہیں جس کی وجہ سے آج ہم بہت سے شعبوں میں خود کفیل ہوسکے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں انیسویں یوم تاسیس کے موقع پر مہمانِ خصوصی معروف بین الاقوامی سائنسداں اور نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر وی کے سرسوت نے کیا۔ انہوں نے سائنس اور ٹکنالوجی کے مختلف اہم ترین شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دیا ہے۔ ڈی آر ڈی او میں بھارت رتن ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات اور ان کے ساتھ کام کرنے کے اپنے تجربوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم ورک، نصب العین، مشن اور اختراعی سرگرمیوں پر ڈاکٹر کلام بہت توجہ دیتے تھے۔ ڈاکٹر سرسوت نے کہا کہ اختراعی عمل سے ہی ملک کی ترقی ممکن ہے۔ ہمہ جہت معاشی ترقی کا انحصار اسی پر ہے۔ نئے نئے خیالات اور غور و فکر ہی سے یہ ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اختراعی سرگرمیاں اختیار کرکے ہی ہم سرمایہ پیدا کرسکتے ہیں اور روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرسکتے ہیں۔ ڈاکٹر سرسوت نے کہا کہ ہر شعبہ¿ حیات میں ہمیں غیر ممالک پر انحصار کو ختم کرنا ہوگا اور اپنی اختراعی کاوشوں سے ہی یہ ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیوکلیائی توانائی کے پلانٹ آج ہندوستان میں پوری دنیا میں سب سے زیادہ لگائے جارہے ہیں۔ دفاعی میدان میں بھی ہندوستان نے کافی ترقی کی ہے۔ بڑے ممالک کی مخالفت کے باوجود ہمارا ملک مختلف شعبوں میں خود کفیل بنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں آج جو کچھ بھی ہوں وہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی وجہ سے ہوں۔ وہ کہا کرتے تھے کہ مشکلات آتی ہیں۔ گھبرانے کی بجائے ثابت قدمی سے اس کا مقابلہ کرنا چاہئے تبھی کامیابی ملتی ہے۔ کیونکہ زندگی کوئی سیدھا راستہ نہیں ہے۔
ڈاکٹر سرسوت نے کہا کہ ہندوستان میں آج 300 ملین عوام غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ زراعت کا جی ڈی پی بہت کم ہے۔ بچوں کی 42 فیصد تعداد تغذیہ کی کمی کا شکار ہے۔ ہر دن تیس افراد گاﺅوں سے شہر کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔ 300 ملین گھروں میں اب بھی بجلی نہیں ہے۔ فیکٹریوں میں تمام آلات بیرونی ممالک سے برآمد کرنے پڑ رہے ہیں۔ ان تمام حالات کو اپنی اختراعی کاوشوں ہی سے بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کو ملک کی ترقی کے لیے اپنی اختراعی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر ملک کو سائنس اور ٹکنالوجی کے میدان میں خود کفیل بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹائزیشن کی وجہ سے سیکوریٹی کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ سائبر جرائم میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس معاملے میں ریسرچ بہت اہم ہے۔ اسی لیے زندگی میں تخلیق، تخیل، نئے خیالات اور خطرہ مول لینے کا جذبہ بہت ضروری ہے۔
ڈاکٹر سرسوت نے اردو یونیورسٹی کے طلبہ کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہر انسان میں کوئی نہ کوئی خوبی ہوتی ہے۔ اس خوبی کو افضلیت (Excellence) میں بدلنا ضروری ہے۔ انسان کو اپنی صلاحیت کا اندازہ قائم کرتے ہوئے ایک ہدف مقرر کر کے آگے بڑھنا چاہئے۔ معاشی ترقی، اختراعات کے ذریعہ ہی حاصل کی جاسکتی ہے۔
شیخ الجامعہ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز نے کہا کہ اپنے کاموں کے تئیں عزم مصمم بہت ضروری ہے۔ ہم جس شعبہ میں بھی کام کر رہے ہوں اس میں ڈوب کر کام کرنا چاہئے۔ آج کے دن ہمیں عزم کے ساتھ اس بات کا تہیہ کرنا چاہئے۔ کام کے تئیں اپنے میدان میں خود کو وقف کردینے ہی سے کسی کو اعلیٰ و ارفع مقام حاصل ہوتا ہے۔ پروگرام کی کاروائی ڈاکٹر آمنہ تحسین، ڈائرکٹر انچارج، مرکز برائے مطالعاتِ نسواں نے چلائی اور میر ایوب علی خان، کنسلٹنٹ نے شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر شکیل احمد، پرو وائس چانسلر بھی شہ نشین پر موجود تھے۔ پروگرام کی ابتداءشعبہ¿ اسلامیات کے طالب علم محمد خالد کی قرا¿ت اور ترجمانی سے ہوا۔ پروگرام میں کثیر تعداد میں طلبہ، اساتذہ اور غیر تدریسی عملہ موجود تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں