img20170108105552 4

اردو آبادی بیدار رہے اور آنے والی نسلو ں کو بیدار رکھے:امتیازکریمی

پٹنہ 8 جنوری ( امتیاز کریم)راجدھانی کے باشعور اردو آبادی آج پورے دن شادعظیم آبادی اور پرو فیسر عبدالمغنی کی باتو ں اور یادو ں کی دنیا میں کھوئی رہی ۔موقع تھا اردوڈائریکٹوریٹ محکمہ کابینہ سکریٹریٹ، حکومت بہارکے زیر اہتمام بہاراردو اکادمی کے کانفرنس ہال میں مذکورہ دو نوں عبقری شخصیات کے کار ناموں پرمبنی یادگاری تقریبات کے انعقاد کا۔تقریبات کا انعقاد دوسیشنس میں ہوا۔پہلے سیشن میں پرو فیسرعبدالمغنی کی کثیر الجہات شخصیت اور ان کے کار ناموں کی بازیافت کی کو شش کی گئی ۔جبکہ دوسرے سیشن میں عظیم آباد اسکول کے بانی مانے جانے والے شاعر شاد عظیم آبادکی شاعرانہ عظمت کو موجودہ دورکے تقاضوںکے تناظر میں دیکھاگیا۔اپنے ابتدائی کلمات میں جب ڈائریکٹر اردو امتیازاحمد کریمی نے مادری ، تہذیبی اور بہارکی دوسری سرکاری زبان اردو کو زندہ اورتابندہ رکھنے کیلئے ریاست کی اردو آبادی کو دیوانہ وار کام کرنے اوراس دیوانگی کوایک منظم تحریک کی صورت میں لے کر آگے بڑھنے کامشورہ دیتے ہوئے بر سبیل تذکرہ شاداعظیم آبادی کایہ شعر پڑھا ’خموشی سے مصیبت اور بھی سنگین ہو تی ہے ۔ تڑپ اے دل تڑپنے سے ذرا تسکین ہوتی ہے، ‘ تو پورا ہال تالیوں کی آواز سے گونج اٹھا۔امتیاز احمد کریمی نے اردو والو ں بالخصوص طلباءکو اپنی زبان کے معاملے میں احساس کمتری سے باہرنکلنے کامشورہ دیتے ہوئے کہاکہ رو زگار سے جڑنے کے معاملے میں جوخوبیاںدوسری زبانوںمیں ہیں وہ ساری کی ساری اردو میں بھی مو جو د ہیں۔انہو ں نے دو نو ں سیشنس کی شروعات میں اپنی زبان اردو کے تئیں تمام اردووالو ںکو بیدار رہنے اور آنے والی نسلوںکوبیداررکھنے کا مشورہ دیا۔انہوں نے پرو فیسر عبدالمغنی اور شاد عظیم آبادی دونوں کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں اپنے اسلاف کی قدرکر نی چاہئے ۔ان کو اور ان کی خدمات کوہمیں ہمیشہ یاد رکھناچاہئے او ر اپنی نگارشات کے ذریعہ انہو ں نے جورو شنی دکھائی ہے اس کے سہارے ہمیں اپنی منزل کی جانب ہمیشہ رواں دواں رہنا چاہئے ۔
اس موقع سے پروفیسر ظفرحبیب، سابق صدر شعبہ اردو بیگوسرائے نے پروفیسر عبدالمغنی سے اپنی قربت کاذکر کر تے ہوئے کہا کہ اس طرح کا ناقد ،نثرنگار اور صالح اقدار کاحامل شخص مشکل سے ملے گا۔ ان کی نثرنگاری میں مولانا شبلی نعمانی ،مولاناابوالکلام آزاد، حضرت ابوالاعلیٰ مودودی کی جھلک تھی۔ ڈاکٹر شفیع ا لزماں معظم اور ڈاکٹر عارف حسن وسطوی نے بھی اپنے مقالوں میں پرو فیسر عبدالمغنی کی شخصیت اوران کی تنقیدی بصیر ت سے متعلق کئی مخفی گو شوںپررو شنی ڈالی۔اس موقع پرپرو فیسر عبدالمغنی کے صاحبزادے احمد مسعود ،شعبہ نباتات، جین کالج آرہ، اور ڈاکٹرشہنازفاطمہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہا رکرتے ہوئے مہمان خصوصی کی حیثیت سے اردو اکادمی کے سکریٹری مشتاق احمد نوری نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور پروفیسر عبدالمغنی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ نئی نسل کی نمائندگی محلل مظہری، شفیع اللہ ا نصاری اور نعمت شمع نے بھی اپنے مختصر مقالات میں پرو فیسر عبدالمغنی کی حیات وخدمات کواپنے انداز میں واضح کیا۔اس سیشن کے صدرکی حیثیت سے اپنے کلمات پیش کر تے ہوئے معروف صحافی ریاض عظیم آبادی نے اردو تحریک میں پروفیسر عبدالمغنی کی کارنامو ں کویادکرتے ہوئے انہےں خراج عقیدت پیش کیا۔ سیشن کے آخرمیںمختصرسی شعری محفل کا انعقاد کیا گیا۔ شعری محفل میں صبانقوی، خالد عبادی، اصغرحسین کامل، فیروز اورنگ آبادی، نصرعالم نصراوراصغرحسین کامل نے نمائندہ کلام کے ذریعہ سامعین کو خوب محظوظ کیا۔ اس موقع پر اردو ڈائرکٹوریٹ کی جانب سے پرو فیسر عبدالمغنی کے بھائی عبدالحسیب ،ان کے بیٹے احمدمسعود، احمدمحمود اوران کے داماد محمد شہباز عالم کو شال پیش کر کے عزت افزائی کی گئی۔
تقریبات کے دوسرے سےشن کی صدارت ممتازشاعر اور بہار اردو اکادمی کے وائس چیئر مین نے کی۔اس سیشن میں میراور غالب کی قبیل کے شاعرشادعظیم آبادی کی شاعرانہ عظمت کو حالیہ تقاضو ں سے جوڑ کر آگے کا راستہ طے کر نے کی باتیںکہی گئیں ۔اس موقع سے اپنی ابتدایہ میں امتےاز احمد کرےمی نے شاد عظےم آبادی کی شاعرانہ عظمت کوسلام کرتے ہوئے اردو کے مشہور ناقد پروفےسر کلےم الدےن احمد کے حوالے سے کہا کہ اردو غزل کی تاسےس مےں مےر اور غالب کے بعد شاد عظےم آبادی کا نام لےا جا سکتا ہے۔ اس سیشن میںپروفےسر فاروق احمد صدےقی سابق صدر شعبہ اردو ، بہار ےونےورسٹی، پروفےسر منظر اعجاز شعبہ اردو، اے اےن کالج پٹنہ ، پروفےسر احمد حسن دانش ، بی پی منڈل ےونےورسٹی ، مدھے پورہ اور شاد عظےم آبادی کی پرپوتی ڈاکٹر شہناز فاطمی نے اپنے خےالات کا اظہار کےا۔نئی نسل کی نمائندگی شبانہ پروےن( مگدھ ےونےورسٹی)، محمد اسلم ( پٹنہ ےونےورسٹی)اور زےبا پروےن ( اے اےن کالج ،پٹنہ )نے کی۔اس موقع سے شفےع مشہدی ، چےئر مےن اردو مشاورتی کمےٹی، بہار نے شاد عظےم آبادی کی شخصیت اور شاعری پر عالمانہ خطبہ پےش کرتے ہوئے انہیں خراج عقےدت پےش کےا۔اس سیشن کی شعری محفل میں سلطان اختر ، شہزاد اشرفی، احسن راشد، فردوس گےاوی اور محترمہ تحسےن روزی نے اپنے کلام پےش کئے۔
دونوں تقریبات میںنئی نسل کی نمائندگی کرنے والے طلباءوطالبات کی حوصلہ افزائی اردو ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے کی گئی ۔ اس موقع پرڈاکٹر اعجاز علی ارشد، ڈاکٹر قاسم خورشےد، شہاب ظفر اعظمی، ڈاکٹر شاہد جمےل خاں، ڈاکٹر خورشےد انور، ڈاکٹر اشرف النبی قےصر، غلام سرور ندوی، جمال ندولوی، انوار الہدی، شکےل حسن اےڈووکےٹ، اثر فرےدی، ناشاد اورنگ آبادی، ظہےر انور، قمر ثاقب ،اشتےاق ےوسف، معےن گرےڈےہوی سمیت بڑی تعداد میں عمائدین زبان وادب شریک تھے۔دوسرے سیشن کی شروعات میں غلام رسول قرےشی نے شادکی مشہور غزل ’ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہےں ناےاب ہےں ہم‘ اپنے مترنم آواز مےں پےش کی۔پرو گرام کو کامیاب بنانے والوںمیں سےد مجتبیٰ حسن ، محمد حامد، شفےع احمد، کفےل احمد، مختار احمد، شفقت جمال، حسن آرا، عشرت جہاں، ولےم قرےشی، پروےز انجم، محمد حسےب الرحمن، اعجاز رضوی، محمد ےحییٰ ، محمد اشفاق، محمد سعےد ،جہانگےر عالم انصاری پےش پےش تھے۔ڈاکٹر اسلم جاوداںو محمد نور عالم نے نظامت کے فرائض بحسن و خوبی انجام دئےے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں