اردو کو گھر گھر پہنچانے میں مشاعروں کااہم کردار رہاہے : امتےاز کرےمی

0
25

پٹنہ18 جنوری (امتیاز کریم) اردو ڈائرکٹورےٹ کے زیر اہتمام بروز بدھ اےک شاندار کل بہار محفل مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع سے اردو ڈائرکورےٹ کے ڈائرکٹر امتےاز احمد کرےمی نے اپنے استقبالیہ کلمات میں کہاکہ اردو ڈائرکٹورےٹ کی ےہ چھوٹی سی کوشش ہے کہ ہم اردو کے لئے کچھ کرےں۔ انہوںنے کہاکہ اردو ادب کے فروغ مےں مشاعرو ں کااہم کردار رہاہے ۔ مشاعرہ اردو کو گھر گھر پہنچانے مےں معاون رہا ہے۔ مشاعرہ کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر ہی آج یہ محفل آراستہ کی گئی ہے۔ انہو ں نے کہاکہ شاعری خدا کا اےک ایسا عطےہ ہے جو ہر کسی کو مےسر نہےں ہوتا۔ ہمیںیہ یقین ہے کہ اس محفل مشاعرہ سے اردوکیلئے ماحول سازی ہوگی ۔ تعلےمی بےداری آئے گی۔انھوں نے مہمان شعرائے کرام کا استقبا ل کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے جو شعرائے کرام آج کی محفل مےں شامل نہےں ہو سکے ہیں انھیںاگلے کل بہار مشاعرہ مےں شامل کےا جائے گا۔ آج کے مشاعرہ میں جو کلام پڑھے جائیںگے انھیں کتابی شکل دی جائے گی۔
مشا عرہ بڑی کامیابی کے ساتھ پورے دن چلتا رہا۔ دن کے پہلے حصے کے مشاعرہ کی صدارت اردو مشاورتی کمےٹی کے چےئر مےن اور معروف افسانہ نگار و شاعر شفےع مشہدی نے کی۔انھوں نے اپنے صدارتی خطبہ مےں مشاعرے کی رواےت کو زندہ رکھنے پر زور دےا۔ مشاعرہ کے پہلے حصے مےں پروفےسر طلحہ رضوی برق، عالم خورشےد، مرغوب اثر فاطمی، قوس صدےقی، ظہےر انور، خالد عبادی ، ضےاءالرحمن ضےاء، اسد رضوی، گوہر شےخ پوروی، جلال اصغر فرےدی،فرد الحسن فرد، انور اےرج، زاہد عےش، افتخار عاکف، تبسم ناز، رخشاں ہاشمی اور کامران غنی صبا نے اپنے کلام پےش کئے اورسامعین کوخوب محظوظ کیا۔ اس سےشن کی نظامت فرد الحسن فرد نے کی۔ ابتدائی کلمات ڈاکٹراسلم جاوداں نے پیش کئے۔
ظہرانے کے بعدمشاعرہ کے دوسرے سیشن کا آغاز ہوا جس کی صدارت بہار کے نمائندہ شاعر جناب سلطان اخترنے کی۔اس سیشن کے آغاز میں ڈائرکٹر اردو امتےاز احمد کرےمی ایک بار پھر سامعین کے رو برو تھے۔اس موقع سے انھوں نے کہا کہ اردو حکومت بہار کی دوسری سرکاری زبان ہے ۔دوسری سرکاری زبان کی حیثیت اردو کے نفاذ کے لئے ریاست کے تقریباََ تمام بلاک، سب ڈوےزن اور ضلع دفاتر میں اردو عملہ کی تقرری ہوئی ہے۔ ان کی تقرری کا مقصد ےہی ہے کہ دفتر ی سطح پراردوکا نفاذ اور فروغ ہو۔ایسے میں ہم سب کایہ اخلاقی فرےضہ ہے کہ اردو کے نفاذ مےں عملی اقدام کریں۔مشاعرہ کے اس سیشن میں ڈاکٹر شاکر خلےق، خون چندن پٹوی، تنوےر اختر، کاظم رضا، شاہد اختر، فردوس گےاوی، اثر فرےدی، شمےم قاسمی، معےن کوثر، جمےل اختر شفےق، منصور خوشتر وغےرہ نے اپنے خوبصورت کلام پےش کر کے سامعین سے خوب داد و تحسین وصولے۔ اس سےشن کی نظامت نئی نسل کے نمائندہ شاعر جمےل اختر شفےق نےکی۔ نےئر اقبال، ناشاد اورنگ آبادی، ڈاکٹر فضل اللہ قادری، ظفر صدےقی، ناشاد اورنگ آبادی، ڈاکٹر اشرف النبی قیصر، شنکر کےموری، مےر سجاد، ڈاکٹر عقےل صدےقی،اوےناش امن، شسما بھارتی،جنون اشرفی، شکےل سہسرامی، تحسےن روزی، فےاض احمد، لعل محمد،معےن گرےڈےہوی، فرخندہ شاہےن، حمےدہ بانو، فرےدہ انجم، رمانہ تبسم، معصومہ خاتون، انےس فاطمہ، عشرت جہاں، مصباح کامنی، خورشےد جہاںعرف سمی، رےشماں جہاں بےگم ،محمد منصف فخرکے علاو ہ بڑی تعداد میںمحبان اردو اورعمائدین شہر و بیرون شہر نے شرکت کی ۔ا سی دوران آل انڈےا رےڈےو کے پروگرام اےکز کےوٹےو شنکر کےموری کے نعتےہ مجموعہ کلام ” عقےدت کے پھول“ کا رسم اجرا بھی عمل مےں آےا۔
اس موقع سے شاہد جمےل خاں، محمد نور عالم ،سےد مجتبیٰ حسن ، شےث احمد ، سےد پروےز انجم، امےنہ خاتون، محمد جہانگےر انصاری، محمد حامد، کفےل احمد،محمد افضل عالم،مختار احمد،حسےب الرحمن،شفےع احمد، ولےم قرےشی، اعجاز رضوی، شفقت جمال خان، حسن آرا، عشرت جبےں ،سعےد احمد ، رام بہادر سنگھ، ڈاکٹر خورشےد انور، ےحییٰ فہےم، محمد سعےد عالم اور اشفاق عالم مہمانوں کی ضیافت میں پروگرام کو کامےاب بنانے مےں پےش پےش تھے۔ ڈائرکٹر امتےاز احمد کرےمی کے کلمات کے ساتھ کل ہند مشاعرہ اختتام پذیر ہوا۔