اردو | हिन्दी | English
1584 Views
Politics

اکھلیش کی ملائم سے ملاقات، سماجوادی پارٹی میں صلح کے امکانات میں اضافہ

mulayam-akhilesh-up-cm1484047146_big
Written by Tariq Hasan

لکھن¶، 10 جنوری (یواین آئی) سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے سربراہ ملائم سنگھ یادو اور ان کے وزیر اعلی بیٹے اکھلیش یادو کی چل رہی ملاقات سے ایس پی میں جاری گھریلو اختلاف کے ختم ہونے کے امکانات بڑھتے نظر آ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں میں بات چیت ملائم سنگھ یادو کے سرکاری رہائش گاہ پر چل رہی ہے ۔رہائش گاہ پر ملائم سنگھ کے خاص اور وزیر ٹرانسپورٹ گایتری پرجاپتی اور راجیہ سبھا رکن سنجے سیٹھ بھی موجود ہیں لیکن جس کمرے میں بات چیت ہورہی ہے وہاں صرف باپ اور بیٹے ہی ہیں۔ ملائم سنگھ یادو نے کل اپنے موقف میں یو ٹرن لیتے ہوئے اقتدار میں پارٹی کی واپسی پر اکھلیش یادو کو ہی وزیر اعلی بنانے کا اعلان کر دیا تھا۔ اس سے پہلے مسٹر یادو مسلسل کہتے رہے تھے کہ پارٹی انتخابات کے بعد قانون ساز کونسل کا لیڈر ممبر اسمبلی چنیں گے ۔ انہوں نے اس کے لئے ہر بار پارٹی کے آئین کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ پارٹی میں کوئی اختلاف نہیں ہے وہ جلد ہی انتخابی مہم کے لئے ریاست بھر کا دورہ کریں گے ۔ مسٹر یادو نے وزیر اعلی سے کسی قسم کے تنازعہ سے انکار کیا اور کہا کہ باپ بیٹے میں کوئی تنازعہ نہیں ہے ۔ان کی بات چیت سے لگا کہ وہ پروفیسر رام گوپال یادو پر کافی خفا ہیں اور پارٹی تنازعہ کے لئے انہی کو ذمہ دار مانتے ہیں ۔مسٹر یادو نے بتایا تھا کہ اکھلیش یادو سے ان کی رات میں بات ہوئی تھی اور دونوں کے درمیان آج ملاقات طے تھی۔ دونوں میں قریب 11 بجے سے ملائم سنگھ یادو کی رہائش گاہ پر بات چل رہی ہے ۔ لوگوں کو اس بات چیت کے نتیجے کا انتظار ھے ۔ملایم سنگھ یادو اور وزیر اعلی اکھلیش یادو کے درمیان تنازعہ کی اصل وجہ خاندانی اختلاف بتایا جا رہا ہے ، لیکن سیاسی تنازعہ 21 جون سے سرخیوں میں چھائے ۔ ممبر اسمبلی مختار انصاری کی پارٹی قومی ایکتا دل کے ایس پی میں انضمام سے یہ تنازعہ شروع ہوا تھا۔ انضمام کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے وزیر اعلی نے اس میں اہم کردار اداکرنے والے ثانوی تعلیم کے وزیر بلرام یادو کو کابینہ سے برطرف کر دیا۔ آنا ً فانا ً میں 25 جون کو پارلیمانی بورڈ کا اجلاس بلایا گیا۔پارلیمانی بورڈ نے بلرام یادو کی کابینہ میں بحالی اور قومی ایکتا دل کے پارٹی میں ضم کو مسترد کردیا۔ دو ماہ تک معاملہ ٹھیک چلا۔اسی درمیان ستمبر میں ملائم سنگھ یادو نے اکھلیش یادو کو ہٹا کر شیو پال سنگھ یادو کو پارٹی کا ریاستی صدر بنا دیا۔ اسے اپنی توہین سمجھتے ہوئے وزیر اعلی نے ان سے تمام اہم محکمہ چھین لئے ، لیکن ملائم سنگھ یادو کے دبا¶ میں محکمہ تعمیرات عامہ کے علاوہ تمام شعبہ واپس کر دئے ، حالانکہ اس سے پہلے شیو پال سنگھ یادو نے وزیر کے عہدے سے استعفی دے دیاتھا، جسے وزیر اعلی نے نامنظور کر دیا ۔ ان واقعات کے درمیان وزیر اعلی کے حامی سڑکوں پر اتر آئے ۔ وہ تین چار دن تک یہیں ڈٹے رہے ۔ ان کے حامیوں نے ایک دن تو ملائم سنگھ یادو کے گھر کا بھی محاصرہ کیا، تاہم گھیرا¶ کرنے والے نوجوانوں کو پارٹی سے باہر نکال دیا گیا۔ جھگڑے کا کلائمیکس اکتوبر کے آخری ہفتے میں دیکھا گیا۔ وزیر اعلی نے 23 اکتوبر کو شیو پال سنگھ یادو اور ان کے تین حامی وزراءنارد رائے ، اوم پرکاش سنگھ اور شاداب فاطمہ کو کابینہ سے برطرف کر دیا۔ اس کے اگلے ہی دن 24 اکتوبر کو ملائم سنگھ یادو کی موجودگی میں پارٹی دفتر میں چچا شوپال سنگھ یادو اور بھتیجے اکھلیش یادو میں دھکا مکی تک ہوئی۔ مائیک کی چھینا جھپٹی کی گئی۔اکھلیش یادو اسمبلی انتخابات میں ٹکٹ تقسیم میں اپنا موثر کردار چاہتے تھے ، جو پارٹی کے ریاستی صدر کے عہدہ سے ہٹائے جانے کے بعد ایک طرح سے ختم سا ہو گیا تھا۔یہ تنازعہ دسمبر کے آخری ہفتے میں انتہا پر پہنچ گیا۔، جب پارٹی سے اکھلیش یادو اور رام گوپال یادو کو چھ سال کے لئے پارٹی سے برطرف کرنے کا اعلان کیا گیا۔ تنازعہ کے دوران ہی رام گوپال یادو کو پہلے بھی نکالا گیا تھا، لیکن اٹاوہ میں پریس کانفرنس کے دوران رو نے کی وجہ سے ملائم سنگھ یادو نے انہیں دوبارہ پارٹی میں شامل کر لیا۔ داخلی کے دوسرے دن ہی پارٹی کے سینئر لیڈر محمد اعظم خاں کی مداخلت سے وزیر اعلی اکھلیش یادو اور رام گوپال کی پارٹی میں واپسی ہو گئی۔
اس کے فوراً بعد 31 دسمبر کو رام گوپال یادو نے یکم جنوری کو پارٹی کا قومی نمائندے کانفرنس بلایا۔ کانفرنس میں ملائم سنگھ یادو کو ہٹا کر اکھلیش یادو کو پارٹی کا صدر قرار دیا گیا اور ملائم سنگھ یادو کو پارٹی کا رہنما بنا دیا گیا۔ اسی دن اکھلیش یادو نے شیو پال کے مقام پر نریش اتم کو ریاستی صدر بنا دیا۔اکھلیش خیمے نے پارٹی کے ریاستی دفتر پر قبضہ بھی کر لیا۔ یکم فروری کے بعد ملائم سنگھ یادو اپنے بھائی شیو پال سنگھ یادو کے ساتھ کل پارٹی دفتر گئے تھے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ جلد ہی سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ان واقعات کے درمیان معاملہ اب الیکشن کمیشن میں ہے ۔ دونوں خیموں نے خود کو اصلی سماجوادی پارٹی بتا کرپارٹی کے انتخابی نشان ” سائیکل” پر دعوی کیاہے ۔ اب الیکشن کمیشن کو فیصلہ کرنا ہے کہ اصلی ایس پی کون ہے ۔ ‘سائیکل’ کس کے پاس رہے گی یا ضبط کی جائے گی۔

About the author

Tariq Hasan