جوکووچ پھر بنے دوحہ کے کنگ

0
19

دوحہ، 08 جنوری (یو این آئی) گزشتہ چمپئن سربیا کے نوواک جوکووچ نے عالمی نمبر ایک کھلاڑی برطانیہ کے اینڈی مرے کو تین سیٹ کے سخت مقابلے میں 6۔3،5۔7، 6۔4 سے شکست دے کر قطر اوپن ٹینس ٹورنامنٹ میں اپنا خطاب برقرار رکھا۔ٹاپ سیڈ مرے اور سابق نمبر ون جوکووچ دونوں کے لئے ہی یہ سال کا پہلا خطابی مقابلہ تھا اور جوکووچ نے خطاب کا کامیابی سے دفاع کر کے نئے سال کی شاندار شروعات کی۔جوکووچ کا یہ 67 واں کیریئر خطاب ہے ۔جوکووچ نے اس جیت سے مرے کی مسلسل 28 اے ٹی پی ٹور جیت کے سلسلے کوتوڑ دیا۔جوکووچ کا جولائی کے بعد سے یہ پہلا خطاب ہے ۔جوکووچ نے تب راجرز کپ جیتا تھا۔سربیا ئی کھلاڑی نے خطابی جیت کے بعد کہا کہ میرے لئے نئے سال کی اس سے بہتر شروعات کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی۔اس ٹورنامنٹ میں تمام پانچ میچ کھیلنا اور نمبر ایک کھلاڑی کے خلاف تین گھنٹے تک کھیلنا اور دلچسپ میچ جیتنا ایک خوشگوار احساس دیتا ہے ۔یقینی طور پر یہ سال کا شاندار آغاز ہے ۔مرے نے ستمبر میں ڈیوس کپ میں جوآن مارٹن ڈیل پوترو سے ہارنے کے بعد اب جاکر میچ گنوایا ہے ۔اس دوران مرے نے اے ٹی پی ورلڈ فائنلس سمیت پانچ خطاب جیتے تھے اور سال کی تکمیل نمبر ایک کھلاڑی کے طور پر کی تھی۔جوکووچ کا اس فتح کے بعد مرے کے خلاف کیریئر ریکارڈ 25۔11 ہو گیا ہے ۔دنیا کے دوسری درجہ بندی کے کھلاڑی جوکووچ نے سال کے پہلے گرینڈ سلیم آسٹریلین اوپن سے پہلے بورس بیکر کی جگہ ان کے دوست اور مینٹرڈوسان ویمک کو کوچ مقرر کیا تھا اور اس کا فائدہ انہیں دوحہ میں خطاب کے طور پر ملا۔جوکووچ سال 2016 میں برطانیہ کے اینڈی مرے کے ہاتھوں اپنی نمبر ون رینکنگ گنوا بیٹھے تھے اور ان کی کارکردگی میں بھی کمی آئی جس کی وجہ سے وہ کوچ بورس سے الگ ہو گئے تھے ۔ سربیا ئی کھلاڑی کے لئے یہ جیت 16 جنوری سے شروع ہو رہے آسٹریلین اوپن سے پہلے کافی اہم ہے ۔اینڈی مرے نے 2016 میں جوکووچ سے عالمی نمبر ایک کا درجہ چھین لیا تھا تاہم جوکووچ کی مرے کے خلاف یہ 25 ویں فتح ہے ۔نوواک جوکووچ نے میچ کے بعد خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یقیناً سال کا آغاز کرنے کا یہ بہترین طریقہ ہے ۔قطراوپن میں کامیابی کے ساتھ جوکووچ نے 2 لاکھ 9 ہزار 665 ڈالر کی سال کی پہلی انعامی رقم بھی حاصل کی۔اینڈی مرے شکست کے باوجود عالمی نمبر ایک کی پوزیشن پر برقرار ہیں جبکہ دونوں کھلاڑی آسٹریلین اوپن کے لیے روانہ ہوجائیں گے ۔واضح رہے کہ جوکووچ نے 2016 میں انجری کے ساتھ ساتھ شکستوں کے باعث اپنی پہلی پوزیشن کھو دی تھی جبکہ دوسری جانب اینڈی مرے نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا تھا۔اینڈی مرے نے 2016 میں ومبلڈن اور اولمپک چمپئن بننے کے علاوہ سال کا اختتام بھی کامیابی کے ساتھ کیا تھا۔