CANBERRA, AUSTRALIA - JANUARY 20:  Virat Kohli of India looks on during the Victoria Bitter One Day International match between Australia and India at Manuka Oval on January 20, 2016 in Canberra, Australia.  (Photo by Mark Metcalfe - CA/Cricket Australia/Getty Images) 2

وراٹ کے سامنے سیریز بچانے کا چیلنج

ناگپور، 28 جنوری (یواین آئی) کپتان کی اپنی نئی اننگز میں انگلینڈ کے خلاف ہندوستانی ٹیم کو ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز جتانے والے کپتان وراٹ کوہلی کے سامنے یہاں اتوار کو مہمان ٹیم کے خلاف ہونے والے دوسرے ٹوئنٹی -20 میں ہر حالت میں جیت حاصل کر کے سیریز کو بچانے کی چیلنج ہوگا۔ ٹیم انڈیا پہلا میچ گنوانے کے بعد تین ٹوئنٹی -20 میچوں کی سیریز میں 1-0سے پسماندہ ہوئی ہے ۔مہمان انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز فتح کرنے والی ٹیم انڈیا کو کانپور میں ہوئے پہلے ٹوئنٹی -20 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس سے کہیں نہ کہیں میزبان ٹیم اور اس کے کپتان وراٹ کا حوصلہ ڈگمگایا ہوگا۔ ٹیم انڈیا نے تمام دعووں کے باوجود پہلے میچ میں جس طرح کا مظاہرہ کیا تھا وہ ایک بار خود کی تیاریوں کو جانچنے کے لیے مجبور کر دیتا ہے ۔اگر سیریز تین میچوں کی ہو تو پہلا مقابلہ ہارنے والی ٹیم کیلئے چیلنج اور مشکل ہو جاتاہے ۔ ہندوستانی ٹیم کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہے ۔ ٹیم انڈیا میں اسٹار کھلاڑیوں کی بھرمار ہے اور ایسے میں ٹیم کے ہر کھلاڑی کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ ٹیم کواپنے اسٹار بلے باز وراٹ پر انحصار بھی کم کرناہوگا۔ وراٹ نے پہلے میچ میں اچھے آغاز کے بعد اپنا وکٹ گنوایا۔ انہیں اپنے وکٹ کی قیمت سمجھنی ہوگی۔ٹیم میں یوراج واپسی کے بعد بہترین تال میں ہیں۔ وہ پرانے انداز میں گیندوں پر حملہ کر رہے ہیں۔ سریش رائنا کی واپسی کو بھی تسلی بخش کہا جا سکتا ہے ۔ سابق کپتان مہندر سنگھ دھونی سدا بہار ہیں جبکہ نچلے آرڈر میں ہاردک پانڈیا مفید اننگز کھیلتے ہوئے خود کو آل را¶نڈر کے طور پر تیار کر رہے ہیں۔اگر گزشتہ میچ پرنظر ڈالی جائے تو ہندوستانی بلے بازی اور گیند بازی دونوں میں ہی حوصلے کی کمی نظر آئی۔ مہمان بلے باز جہاں کمزور گیندوں پر بے رحم حملہ کرتے ہوئے آسانی سے رنز بنا رہے تھے وہیں ہندوستانی بلے بازوں کا اپنے کھیل پر کوئی کنٹرول نہیں نظر آرہا تھا۔ ہندوستانی اوپنروں کو بھی اپنا کردار سمجھناہوگا۔لوکیش راہل کو اپنی کارکردگی کو بہتر بنانا ہوگاتاکہ ٹیم کو ایک اچھا آغاز مل سکے ۔ انہیں کمزور گیندوں کا انتظار کرنا چاہیے اور اسٹرائک روٹیڈ کرنے پر انحصار ظاہر کرنا چاہیے ۔ طویل عرصے بعد واپسی کر رہے رائنا نے کچھ اچھے ہاتھ دکھاتے ہوئے فارم میں ہونے کے اشارہ دیے ۔ انہیں اچھی شروعات کو بڑی اننگز میں تبدیل کرنا ہوگا۔پہلے ٹوئنٹی -20شروعات کر رہے پرویز رسول نے بھی خاصا مایوس کیا۔تاہم نوجوان یجویندر چہل نے اپنے کھیل سے ضرور متاثر کیا۔ تجربہ کار اشون اور جڈیجہ کی غیر موجودگی میں ان دونوں کھلاڑیوں کے پاس شاندار موقع ہے کہ وہ یہاں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر کے اپنا مقام محفوظ کریں۔گیدبازی میں ون ڈے سیریز میں ہندوستانی کی 1-2سے جیت میں متاثر کرنے والے آل را¶نڈر پانڈیا اور بمراہ کی کارکردگی کو خراب تو نہیں کہا جا سکتا لیکن انہیں وکٹ نکالنے والی گیندیں ڈالنی ہوں گی۔
تجربہ کار آشیش نہرا پہلے میچ میں ضرور کچھ مہنگے ثابت ہوئے لیکن وہ کبھی بھی واپسی کرنے کے قابل ہیں اور ان کی موجودگی حوصلے بڑھانے والی رہے گی۔ کارگزار گیندباز کے طور پر رائنا ہمیشہ سے ہٹ رہے ہیں اور کپتان وراٹ کو ان کا مکمل استعمال کرنا ہوگا۔دوسری طرف مہمان انگلش ٹیم کے لئے گزشتہ دونوں سیریز گنوانے کے بعد ٹوئنٹی -20 سیریز میں فتح کے ساتھ آغاز کرنا یقینی طور پر نفسیاتی برتری لینے والا رہا۔ تاہم ٹیم کے کھلاڑیوں کی چوٹوں نے بھی اس کی مصیبت بڑھا بھی دی ہیں۔ اوپنر ایلکس ہیلز چوٹ کی وجہ سے سیریز سے باہر ہو گئے ہیں وہیں لیفٹ آرم اسپنر ڈیوڈ ولی کو کندھے میں چوٹ ہے ۔ہندوستانی گیند بازوں کو مہمان کپتان ایون مارگن، جیسن رائے ، جو روٹ، معین علی سے جہاں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے وہیں میچ اپنے قبضے میں کرنے کے لیے ان کے وکٹ جلد نکالنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ مورگن نے گزشتہ میچ میں کپتانی اننگز کھیلتے ہوئے شاندار نصف سنچری بنائی تھی ۔مہمان گیند باز بھی شاندار تال میں ہیں اور بولر کرس جارڈن اور ٹامل ملس اہم رہیں گے ۔ ٹیم انڈیا کو آل را¶نڈر بین اسٹوکس سے بھی خاص طور پر ہوشیار رہنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں