اسلام

بھلائی کی ترغیب اوربرائی سے روکناہمارادینی فریضہ ہے

Written by Dr.Mohammad Gauhar

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوںکی یہ صفت بیان کی ہے کہ وہ لوگوںکوبھلائی کاحکم دیتے ہیں اور برائیوںسے روکتے ہیں(آل عمران: 110) ۔ اس سے یہ سمجھ میں آتاہے کہ یہ صفت مجموعی طورپر تمام مسلمانوںکی خصوصیت بھی ہے اوران کاعمومی وظیفہ بھی۔مسلمان دنیاکے جس خطے میں بھی رہے وہ اپنے اس فریضہ اور ذمے داری سے غافل نہیں ہوسکتا،وہ جہاں خود سیدھے راستے پر چلے گا،قرآن و سنت کے مطابق اپنی زندگی کوڈھالے گا وہیں اس کی یہ فکربھی ہوگی کہ اپنے معاشرے میں خیر کوپھیلایاجائے اور منکرات سے لوگوں کوبچایاجائے۔پھریہ بھی ذہن میں رہناچاہئے کہ خیر کے بے شمار شعبے ہیں جن کی طرف لوگوں کودعوت دی جاسکتی ہے،مثلاً غیرمسلموںکوایمان کی دعوت دینااور مسلمانوںکوعبادات اور اعمالِ صالحہ کی طرف بلانا،رشتہ داروں،جاننے والوں،دوست احباب،متعلقین اور غرباءو مساکین کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کرنا،اگرکہیں کوئی ناگہانی آفت آجائے توایسے موقع پرمتاثرین کی مددکرنااور خودبھی ان کے کام آنااور دوسرے لوگوںکوبھی اس کی ترغیب دینایہ سب خیر اور معروف میں داخل ہیں اور بحیثیت مسلمان ہم سب کافریضہ ہے کہ انہیں اپنی عملی زندگی کاحصہ بنائیں۔ایک سچامسلمان صرف اپنے مسلمان بھائیوںکے لیے ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے اور معاشرے میں موجودتمام انسانی طبقات کے لیے خیر کاباعث ہوتاہے،مسلمان جہاں بھی جائے وہاںاس کے حسن اخلاق و اطوار سے لوگ متاثرہوتے ہیں اوراسلام سے قریب ہوتے ہیں۔ایک کامل مومن روئے زمین پر اللہ کی رحمت ہوتاہے،اس کی وجہ سے معاشرے میں خوشحالی و خیر خواہی کی عمومی فضاتیار ہوجاتی ہے اورانسانوںمیںقلبی سکون و طمانیت کی کیفیت پیداہوتی اور پروان چڑھتی ہے۔اگر مسلمان اپنے دین کے تمام احکام و اوامرکی اتباع کرے اور نواہی سے اجتناب کرے تویقیناً اس کی زندگی ایک مثالی زندگی ہوگی جودوسروںکے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگی اوراس کے نقش قدم پر چل کر بے شمار انسان دنیاوآخرت کی کامرانی و سرخروئی حاصل کریں گے۔موجودہ وقت میں جب کہ ہم انسانی تاریخ کے بہت ہی نازک موڑپر کھڑے ہوئے ہیں خودہماری بھلائی اور پورے انسانی معاشرے کی بھلائی اسی میں ہے کہ ہم مجموعی طورپرایک ایسی امت کا عملی نقشہ پیش کریں،جس کی تصویر قرآن و حدیث میں کھینچی گئی ہے۔ نہی عن المنکریعنی برائیوںسے روکنااور ان کی ہلاکت ناکیوںسے لوگوںکوباخبر کرنابھی امت مسلمہ کاایک نہایت اہم وظیفہ ہے۔حدیث پاک میں اللہ کے نبیﷺکافرمان ہے”تم میں سے کوئی بھی شخص اگر کوئی برائی دیکھے،تواسے اپنے ہاتھ سے روکے،اگر ہاتھ سے نہ روک سکے توزبان سے روکے اور زبان سے بھی روکنے کی صلاحیت نہ رکھتاہوتوکم ازکم اپنے دل میں اس کوبراسمجھے اوریہ ایمان کاادنیٰ درجہ ہے“۔(صحیح مسلم)اس حدیث پاک کی روسے انسان کے حالات اوراس کی فطرت کے مطابق نہی عن المنکریعنی برائی سے روکنے کی تین صورتیںذکرکی گئی ہیں۔پہلی صورت یہ بیان کی گئی کہ اگر ہمارے اردگردکوئی شخص کوئی ایساکام کررہاہے جوشریعت واخلاق کے خلاف ہے تواسے اپنے ہاتھ سے روکناچاہیے،ہاتھ سے روکنے کامطلب یہ ہے کہ برائی کرنے والے کاہاتھ پکڑلیںاوراگروہ اپناکوئی قریبی یاعزیزہے تواس کی تنبیہ بھی کی جاسکتی ہے۔دوسری شکل یہ ہے کہ ہم اسے زبان سے منع کریں،اس طرح کہ اسے سمجھائیںکہ آپ کایہ عمل شرعی نقطہ¿ نظرسے غلط ہے اورا س کا انجام صحیح نہیں ہے،اس سے معاشرے پر غلط اثرپڑے گا اور لوگوںکونقصان ہوگا وغیرہ۔ ہوسکتا ہے ہمارایہ سمجھانااس کے لیے کارگرہوجائے اوروہ برائی کرنے سے رک جائے ۔اگر ہم زبان سے یاہاتھ سے کسی برائی کودورکرنے میں کامیاب ہوگئے تواس طرح ہم اپنے ایمان کے تقاضے پر عمل کرنے والے توہوںگے ہی،مگر اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ایساکرنے پر عنداللہ اجروثواب سے بھی نوازا جائے۔ کیوں کہ ہمارے اس عمل سے آس پاس کے لوگوںپربھی اچھااثرپڑے گااوردوسرے لوگ بھی اس برائی کوکرنے سے پرہیزکریںگے اورحدیث پاک میں ہے کہ اگرکوئی شخص لوگوںمیں اچھاطریقہ یاخیرکی بنیادڈالتاہے تواس کی شروعات کرنے کاتواسے ثواب ملتاہی ہے ساتھ ہی جتنے لوگ اس طریقے کواپنائیں گے، اس کاثواب بھی اس شخص کوملے گا۔(صحیح بخاری)حدیث پاک میں تیسری شکل بھی بیان کی گئی ہے اوروہ یہ ہے کہ اگر ہمارے اردگردکوئی برائی ہورہی ہے،لیکن ماحول اتناسنگین ہے کہ ہم نہ تواپنی زبان سے اسے روک سکتے ہیں اورنہ اپنے ہاتھ سے روک سکتے ہیں ،توپھرکم ازکم اپنے دل میں ہی اس کو برا سمجھیں۔اورحدیث پاک میں اس کوایمان کاکمزورترین درجہ قراردیاہے۔کمزورترین اس لیے کہاگیاہے کہ اس میں ہمیں بظاہر کچھ بھی نہیں کرناپڑتا۔حالاں کہ دوسری طرف اس کابھی فائدہ ہے۔کیوںکہ اگر انسان کوکوئی عمل یاکوئی چیزاچھی لگتی ہے توجہاں اس کے دل میں ایک قسم کی خوشی کااحساس پیدا ہوتا ہے، وہیں اس کے چہرے پر بھی اس کے اثرات ظاہرہوتے ہیںاورآس پاس موجودلوگوںکوبھی پتاچل جاتاہے کہ اس شخص کویہ چیزاچھی لگ رہی ہے۔ٹھیک اسی طرح اگر کوئی کام یاچیزہمیں اچھی نہیں لگتی یاہم اسے پسندنہیں کرتے تواندرونی طورپرکدورت کااحساس پیداہونے کے ساتھ ساتھ چہرے پر ناگواری کے اثرات طبعی طورپر ظاہر ہوتے ہیں۔اب اگر ہمارے اردگردکوئی غلط کام ہورہاہے اورہم زبان یاہاتھ سے اسے روکنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں،لیکن دل میں اسے براسمجھ رہے ہیںاورپھر ہمارے چہرے سے بھی ناگواری ظاہرہوگی،توممکن ہے کہ اسے ہی دیکھ کر برائی کرنے والے کااحساس جاگ جائے اوروہ شخص آئندہ ایساکرنے سے رک جائے۔بہر حال نہی عن المنکرکی یہ تینوںصورتیں نبی اکرمﷺنے بیان فرمائی ہیں اورایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم حسبِ موقع ان پرعمل کریںاور معاشرے کومنکرات سے پاک کرنے میں اپنارول اداکرنے سے کبھی بھی پیچھے نہ رہیں۔

About the author

Dr.Mohammad Gauhar

Chief Editor - Taasir