Uncategorized

بے نامی جائیداد پر محکمہ انکم ٹیکس سخت

Profile photo of Dr.Mohammad Gauhar
Written by Dr.Mohammad Gauhar

نئی دہلی 22 فروری (تاثیر بیورو): محکمہ انکم ٹیکس نے نئے بے نامی لین دین قانون کے تحت 230 سے زائد معاملے درج کئے ہیں۔ محکمہ انکم ٹیکس نے بدھ کوبتایا کہ نئے بے نامی لین دین قانون کے تحت 55 کروڑ روپئے مالیت کی جائیداد قرق بھی کی گئی ہے۔ بے نامی جائیداد اسے کہتے ہیں جس کی قیمت کسی اور نے چکائی ہو لیکن وہ کسی دوسرے کے نام پر ہو۔ یہ جائیداد بیوی، بچے یا کسی رشتہ دار کے نام پر خریدی گئی ہوتی ہے ۔ بے نامی جائیداد منقولہ غیر منقولہ یا مالی دستاویز کے طور پر ہوسکتی ہے۔ کچھ لوگ اپنے بلیک منی کو ایسی جائیداد میں لگاتے ہیں جو ان کے اپنے نام پرنہ ہوکر کسی اور کے نام پرہوتی ہے۔ ایسے لوگ اس طرح کی جائیداد اپنے نوکر، بیوی، بچوں ،دوستوں یا خاندان کے دیگر افراد کے نام پر خرید لیتے ہیں۔ اگر کسی نے اپنے بچوں یا بیوی کے نام جائیداد خریدی ہے اور اسے اپنے انکم ٹیکس ریٹرن میں نہیں دکھایا تو اسے بے نامی مانا جائے گا۔ اس نئے قانون کے تحت بے نامی لین دین کرنے والے کو تین سے سات سال تک کی قید کی سزا اور اس جائیداد کی بازار کی قیمت پر 25 فیصد جرمانہ کا نظم ہے۔ اگر کوئی بے نامی جائیداد کی غلط اطلاع دیتا ہے تو اس پر پروپرٹی کے بازار کی قیمت کا دس فیصد تک جرمانہ اور چھ مہینے سے پانچ سال تک کی قید کانظم رکھا گیاہے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی یہ ثابت نہیں کرپاتا ہے کہ وہ جائیداد اس کی ہے تو حکومت اسے ضبط بھی کرسکتی ہے۔

About the author

Profile photo of Dr.Mohammad Gauhar

Dr.Mohammad Gauhar

Chief Editor - Taasir

Skip to toolbar