شکست سے سبق لے کر واپسی کرے گی ٹیم انڈیا :لکشمن

0
52

نئی دہلی، 27 فروری (یو این آئی ) آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں ملی مایوس کن شکست کے بعد تنقید کے زد میں آئی ٹیم انڈیا کے دفاع میں ماسٹر بلاسٹر سچن تندولکر کے بعد اب وی وی ایس لکشمن نے بھی اترتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہار ٹیم انڈیا کیلئے ایک سبق ہے اور وہ جلد ہی زوردار واپسی کرے گی۔نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کو اپنی سرزمین پر دھول چٹانے والی ٹیم انڈیا کو آسٹریلیا کے خلاف چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے ہی ٹیسٹ میں زبردست جھٹکا لگا اور اسے مہمان ٹیم کے ہاتھوں 333 رنز کی یکطرفہ شکست کا سامنا کرنا پڑا۔مڈل آرڈر کے سابق سرکردہ بلے باز اور کمنٹیٹر لکشمن نے کہاکہ یہ ہار ہندستانی ٹیم کے لیے ایک طرح کا سبق ہے کہ جب آپ ملک کیلئے کھیلتے ہیں تو آپ اس کے فخر کے لیے کھیلتے ہیں ۔ ٹیم انڈیا نے انتہائی مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن اب انہیں اس سے باہر نکلتے ہوئے اگلے میچ میں واپسی کے لیے سب کچھ جھونک دینا چاہیے ۔شکست کے بعد کرکٹ شائقین کی ناراضگی میں کی گئی رائے پر لکشمن نے کہاکہ ٹیم گزشتہ کچھ وقت سے جس طرح بہترین انداز میں کھیل رہی تھی اس سے ٹیم کے لئے شائقین کی توقعات بڑھ گئی تھیں ۔پہلے میچ میں ٹیم کی انتہائی ناقص کارکردگی سے شائقین کی امیدیں معدوم ہوئیں اور انہوں نے ناراضگی ظاہر کی۔تاہم شائقین کو سمجھنا ہوگا کہ ہار جیت کھیل کا حصہ ہے اور ٹیم ایک بار پھر زوردار واپسی کرے گی۔لکشمن نے کہاکہ میں واقعی وراٹ اور کوچ انل کمبلے کے درد کوسمجھ سکتا ہوں۔یہ وقت شکست پر جواب دینے کے بجائے ٹیم کو حوصلہ دینے کا ہے تاکہ اس میں دوبارہ جوش بھرا جا سکے ۔آپ ہار کی ہزار وجوہات ڈھونڈ سکتے ہیں لیکن سیریز میں واپسی کے لیے ہمیں ان سب باتوں کو پیچھے چھوڑ نا ہو گا۔میچ کے بعد پنے کے وکٹ کی ہو رہی تنقید کے درمیان لکشمن نے بھی اس بات کی حمایت کی ہے کہ ٹیسٹ میچ پانچ دن کی شکل ہے اور اس میں اس طرح کی وکٹ نہیں ہونی چاہیے ۔سیریز کا اگلا میچ چار مارچ سے بنگلور میں ہونا ہے ۔ہربھجن سنگھ نے بھی کہا کہ یہ پچ ٹیسٹ کرکٹ کیلئے مناسب نہیں تھی، ٹیسٹ کرکٹ کم از کم پانچ دن تک ہونی چاہیے ۔ آپ ایسی وکٹ پر نہیں کھیل سکتے کوئی بھی کھلاڑی محض گیند پھینک کر وکٹیں لینا شروع کر دے ۔جب آپ اس طرح کی وکٹ بناتے ہیں تو حریف کیلئے بھی کنڈیشنز موزوں بنا دیتے ہیں۔ پنے میں یہی صورتحال ہوئی۔103 ٹیسٹ میچ کھیلنے والے اسپنر نے متعلقہ حکام کو بنگلور، رانچی اور دھرم شالا میں اچھی وکٹیں تیار کرنے کا مشورہ دیا۔لکشمن نے کہاکہ میں واقعی وراٹ اور کوچ انل کمبلے کے درد کوسمجھ سکتا ہوں۔یہ وقت شکست پر جواب دینے کے بجائے ٹیم کو حوصلہ دینے کا ہے تاکہ اس میں دوبارہ جوش بھرا جا سکے ۔آپ ہار کی ہزار وجوہات ڈھونڈ سکتے ہیں لیکن سیریز میں واپسی کے لیے ہمیں ان سب باتوں کو پیچھے چھوڑ نا ہو گا۔میچ کے بعد پنے کے وکٹ کی ہو رہی تنقید کے درمیان لکشمن نے بھی اس بات کی حمایت کی ہے کہ ٹیسٹ میچ پانچ دن کی شکل ہے اور اس میں اس طرح کی وکٹ نہیں ہونی چاہیے ۔سیریز کا اگلا میچ چار مارچ سے بنگلور میں ہونا ہے ۔ہربھجن سنگھ نے بھی کہا کہ یہ پچ ٹیسٹ کرکٹ کیلئے مناسب نہیں تھی، ٹیسٹ کرکٹ کم از کم پانچ دن تک ہونی چاہیے ۔ آپ ایسی وکٹ پر نہیں کھیل سکتے کوئی بھی کھلاڑی محض گیند پھینک کر وکٹیں لینا شروع کر دے ۔جب آپ اس طرح کی وکٹ بناتے ہیں تو حریف کیلئے بھی کنڈیشنز موزوں بنا دیتے ہیں۔ پنے میں یہی صورتحال ہوئی۔103 ٹیسٹ میچ کھیلنے والے اسپنر نے متعلقہ حکام کو بنگلور، رانچی اور دھرم شالا میں اچھی وکٹیں تیار کرنے کا مشورہ دیا۔