اردو | हिन्दी | English
384 Views
Sports

وراٹ،اشون کو قابو کرنا ہوگا اہم:ا سمتھ

SteveSmith_Large
Written by Tariq Hasan

ممبئی، 14 فروری (یو این آئی) آسٹریلوی کپتان اسٹیون اسمتھ نے کہا ہے کہ ہندستانی زمین پر سیریز ان کی ٹیم کے لیے یقینا ایک مشکل دورہ ہے اور میزبان ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی اور تجربہ کار آف اسپنر روی چندرن اشون سب سے بڑا چیلنج ہوں گے جنہیں روکنے کیلئے وہ مختلف منصوبہ بنا کر آئے ہیں۔آسٹریلیا اور ہندستان کے درمیان چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز ہونی ہے جس کے لئے پیر کو ٹیم ہندستان پہنچ گئی۔یہاں منگل کو اپنے پریس کانفرنس میں مہمان ٹیم کے کپتان اور کوچ ڈیرن لہمن نے مانا کہ یہ سیریز ان کی ٹیم کے لئے چیلنج کی طرح ہوگی لیکن وہ بھی تیاری کے ساتھ پہنچے ہیں۔اسمتھ نے کہا کہ ہم اس دورے کو لے کر بہت پرجوش ہیں۔ہمارے لئے یہ مشکل دورہ ہو گا ۔ ہندستان دنیا کی نمبر ون ٹیم ہے ۔لیکن ہمارے کھلاڑیوں نے بھی اپنی تیاری مکمل کی ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ کامیابی حاصل کریں گے ۔
انہوں نے ساتھ ہی مانا کہ نمبر ون بولر اور اسٹار آف اسپنر روی چندرن اشون کے خلاف آسٹریلوی بلے بازوں کی کامیابی اور وراٹ کو ان بولر کا قابو کرنا اس سیریز کا نتیجے کافیصلہ کرے گا۔کپتان نے کہا کہ ہم وراٹ کے خلاف گیم پلان بنا رہے ہیں۔میں آپ کو اس بارے میں نہیں بتا¶ں گا۔لیکن یہ سچ ہے کہ وہ عالمی معیار کے بلے باز ہیں اور گزشتہ چار سیریز میں چار سنچری بنا چکے ہیں۔وہ ہندوستان کے اہم کھلاڑی ہیں اور ہمارے لئے چیلنج ہوں گے ۔دنیا کے ٹاپ رینکنگ بلے باز اسمتھ نے ہندستانی ٹیم میں وراٹ کے علاوہ آف اسپنر اشون کو بھی چیلنج بتایا۔انہوں نے کہا کہ اشون بھی عالمی سطح کے بولر ہیں اور ان کے خلاف کھیلنا بلے بازوں کے لیے بڑا چیلنج ہوگا۔لیکن ٹیم نے آف اسپنر کا سامنا کرنے کے لئے بھی الگ سے منصوبہ بندی تیار کی ہے ۔بر صغیر ک¸ پچوں پر اسپنروں کو سب سے زیادہ خطرناک سمجھا جاتا ہے اور حالیہ سیریز میں ہندوستانی اسپنروں اشون اور رویندر جڈیجہ کو خاصی کامیابی ملی ہے ۔لیکن اسمتھ نے کہا کہ ان کے حساب سے اسپنروں کی طرح تیز گیند بازوں کو بھی کھیلنا آسان نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے حساب سے اسپنر ہی نہیں بلکہ تیز گیند باز امیش یادو، ایشانت شرما، بھونیشور کمار ہمارے لئے چیلنج پیش کر سکتے ہیں اور انہیں بھی برابر ہی چیلنج سمجھا جا سکتا ہے ۔آسٹریلوی کھلاڑی نے ہندستان کے خلاف سیریز کے دوران میدان پر کھلاڑیوں کے درمیان چھینٹا کشی اور زبانی جنگ سے بھی انکار نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ ہاں میرا خیال ہے کہ حریف پر دبا¶ بنانے میں یہ کام آتا ہے اور کچھ کھلاڑیوں کو اس کا فائدہ بھی ملتا ہے ۔لیکن آخر میں میچ جیتنے کے لیے آپ کو صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ان حالات میں یہی ضروری ہو گا۔

About the author

Tariq Hasan